کشمیر: راولا کوٹ میں کرفیو اور شٹر ڈاؤن کا برقرار، مظاہرین کا ’دریک‘ میں پڑاؤ
کشمیر: راولا کوٹ میں کرفیو اور شٹر ڈاؤن کا برقرار، مظاہرین کا ’دریک‘ میں پڑاؤ
جمعرات 11 جون 2026 12:00
فرحان خان، اردو نیوز- اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے لانگ مارچ کے تیسرے روز پونچھ ڈویژن کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک اور نوجوان کی موت اطلاعات ہے۔
حالیہ ہلاکت کے بعد خطے میں گزشتہ پانچ روز سے جاری پُرتشدد کشیدگی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد کم از کم 16 تک پہنچ گئی ہے۔
اس وقت پورے خطے میں مسلسل چھٹے روز بھی موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہیں جبکہ تمام بڑے شہروں میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے۔
مقامی رہائشیوں اور عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کی صبح راولاکوٹ میں حالات اس وقت دوبارہ کشیدہ ہو گئے جب رینجرز کے دستوں نے یونیورسٹی (تراڑ کیمپس) کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔ وہاں موجود مظاہرین نے فورسز کو روکنے کی کوشش کی جس کے جواب میں فورسز کی جانب سے شیلنگ اور مبینہ فائرنگ کی گئی۔
ابتدائی تصادم کے بعد رینجرز کے دستے سدھن ایجوکیشن کانفرنس کے دفتر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں انہوں نے سڑک کی کھدائی کرنے کی کوشش کی تاکہ مارچ کی پیش قدمی کو روکا جا سکے تاہم مظاہرین کی جانب سے شدید مزاحمت اور دوبارہ جھڑپوں کے بعد رینجرز کی گاڑیاں چنار ہوٹل چوک کی طرف پیچھے ہٹ گئیں۔
اس تازہ ترین واقعے کے دوران ضلع پلندری سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان شعبان عارف کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
واقعے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد شعبان عارف کی نمازِ جنازہ بھی ادا کر کے ان کی لاش آبائی گاؤں دیوان گوراہ روانہ کر دی گئی۔
چھٹے روز بھی موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز بند ہیں (فائل فوٹو: فرحان احمد خان)
اس حوالے سے جب کمشنر پونچھ سردار وحید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ’سکیورٹی فورسز کسی گرفتاری کے لیے گئی تھیں تو یہ واقعہ پیش آیا تاہم اس وقت حالات قابو میں ہیں۔‘
شہر میں کرفیو اور مظاہرین کا ’دریک‘ میں پڑاؤ
ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی کے مطابق راولاکوٹ شہر میں نافذ کیا گیا کرفیو آج بھی بدستور برقرار ہے اور شہر میں کسی بھی بیرونی شخص کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے۔
راولاکوٹ ہاؤسنگ کالونی کے ایک رہائشی نے بتایا کہ تازہ جھڑپ کے بعد فی الحال شہر میں خاموشی ہے لیکن کرفیو کی وجہ سے راستے بند اور سڑکیں سنسان ہیں۔
دوسری جانب میرپور، کوٹلی اور پلندری سے آنے والے ہزاروں مظاہرین کے قافلے راولاکوٹ کے قریبی گاؤں ’دریک‘ کے عیدگاہ گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یہاں ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا جس سے چند روز قبل فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما سردار عمر نذیر نے بھی خطاب کیا اور مظاہرین کو وہیں قیام کرنے کی ہدایت کی۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا ارادہ راولاکوٹ میں تمام قافلوں کو یکجا کرنے کے بعد اپنی آخری منزل دارالحکومت مظفرآباد کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔
کرفیو اور شٹر ڈاؤن کا سلسلہ بھی برقرار ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مظفرآباد میں دفعہ 144 اور شٹر ڈاؤن
لانگ مارچ کی حتمی منزل دارالحکومت مظفرآباد میں صورتِ حال تاحال انتہائی کشیدہ ہے جہاں حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے جس کے تحت ہر قسم کے اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی ہے۔
شہر میں بدھ کی طرح آج بھی مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہے اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔
یاد رہے کہ یہ بحران مئی کے آخر میں وفاقی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے بلوں میں ریلیف سے متعلق مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع ہوا تھا, جس کے بعد حکومت نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر اس کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری پر کروڑوں روپے کے انعامات اور بغاوت کے مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
دوسری جانب کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔
ہیلی کاپٹر حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے سکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ
دارالحکومت مظفرآباد کے قریب بدھ کو گر کر تباہ ہونے والے پاکستان فوج کے ہیلی کاپٹر کے شہدا کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے، جس میں فوج کے اعلیٰ حکام اور جوانوں نے شرکت کی اور شہدا کو فوجی اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا۔
یاد رہے کہ 10 جون کو فوج کا ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا تھا جس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ’اس میں سوار تمام افراد شہید ہو گئے ہیں۔‘