Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یاد اور احساس‘: ریاض آرٹ کے ذخیرے میں انڈین اور اٹالین فنکاروں کے فن پارے شامل

ریاض آرٹ نے اپنے فن پاروں کے مستقل مجموعے میں دو نئے اضافوں کو اعلان کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اِن میں سے ایک اٹلی کے آرٹسٹ انجیلو بونیولو کا ’رن بی یونڈ‘ جبکہ دوسرا انڈیا کے سبودھ گپتہ کا ’فیملی ٹرِی‘ ہے۔
یہ دونوں فنی تخلیقات، ریاض شہر کے اوپن ایئر میوزیم میں داخل ہونے کے مستقل سفر کو اجاگر کرتی ہیں جو یہاں کی روزانہ کی زندگی میں رچ بس گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق فن کے دونوں نئے نمونوں کے موضوعات ہم عصر ہیں۔ پہلے فن پارے میں حرکت اور ترقی کو تلاش کیا گیا ہے جبکہ دوسرا، یاد اور انسانی رشتوں سے جنم لینے والے احساس کو پھر سے زندہ کرتا ہے۔
یہ دونوں مجموعے ایک ایسے شہر کی فنی منظر کشی کرتے ہیں جو تیز رفتار تبدیلوں کے دور سے گزرتے ہوئے ایک نئی صورت اپنا رہا ہے مگر اِس کے باوجود بھی انسانی اور ثقافتی جہتوں کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
ریاض آرٹ کیا ہے؟
حکومتی امداد سے چلنے والا یہ ادارہ، سعودی عرب میں عوامی آرٹ کا ایک ایسا انشیٹیو ہے جو دارالحکومت ریاض کو ایک کھلے عجائب گھر میں بدل رہا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز سنہ 2019 میں ’سعودی وژن 2030 ‘ کے اہداف میں سے ایک کے طور پر ہوا تھا۔  یہ دنیا میں عوامی آرٹ کے بڑے پروگراموں میں شمار ہوتا ہے اور اِس کا ہدف مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی ایک ہزار فنی تخلیقات کو شہر کے اہم اور نمایاں مقامات پر نصب کرنا ہے یا دوسرے لفظوں میں شہر کو اوپن ایئر میوزیم میں تبدیل کرنا ہے۔
اِس مقصد کے لیے فن پاروں کو میوزیم یا عجائب گھروں میں سجانے کے بجائے، پارکوں، چوراہوں، میٹرو سٹیشن، عوام کے چلنے کے لیے بنائے گئے پُلوں اور رہائشی علاقوں میں رکھا جاتا ہے۔

ریاض آرٹ کے مستقل مجموعوں کی کل  تعداد اب 75 تک پہنچ چکی ہے جو فن کی صورت میں دارالحکومت میں جا بجا پائے جاتے ہیں۔
اِس سال کے بقیہ مہینوں کے لیے بھی کئی نئی تخلیقات پر کام ہو رہا ہے جن میں سعودی عرب سمیت 47 مالک سے فنکاروں کی شرکت کی توقع ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ عوامی فن کے سب سے بڑے  انیشیٹیوز میں سے ایک ہے۔

شیئر: