Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کنگنا رناوت بمقابلہ دلجیت دوسانجھ: ’ایکس‘ کے بعد اب ’باکس آفس‘ پر بھی مدِمقابل

کنگنا کی فلم ’بھارت بھاگیا ودھاتا‘ باکس آفس پر دلجیت دوسانجھ کی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ کو ٹکر دینے جا رہی ہے (فوٹو: زوم ٹی وی)
اداکارہ اور سیاست دان کنگنا رناوت فلم ’ایمرجنسی‘ کے بعد ایک بار پھر حقیقت پر مبنی واقعات سے متاثر نئی فلم کے ساتھ واپسی کے لیے تیار ہیں۔ ان کی آنے والی فلم ’بھارت بھاگیا ودھاتا‘ باکس آفس پر دلجیت دوسانجھ کی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ کو ٹکر دینے جا رہی ہے، جس میں نصیرالدین شاہ، ویدانگ رائنا اور شروری واگ بھی شامل ہیں۔
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق اس ٹکراؤ کو خاص طور پر دلچسپ اس لیے سمجھا جا رہا ہے کیونکہ کنگنا اور دلجیت کے درمیان پہلے سے ایک طویل عوامی تنازع موجود ہے، جو 2020 کے کسان احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید لفظی جنگ سے شروع ہوا تھا۔ تاہم اس پرانی کشیدگی کے باوجود دونوں فلموں کی ریلیز سے قبل کوئی خاص جوش و خروش نظر نہیں آ رہا۔
ٹریڈ ماہرین کے مطابق دونوں فلموں کی کامیابی کا انحصار سٹار پاور یا پیشگی بکنگ کی بجائے ناظرین کے ردِعمل اور زبانی کلامی کی گئی تعریف پر ہوگا۔
اشیرواد تھیٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اکشے راٹھھی نے ’سکرین‘ سے گفتگو کرتے ہوئے نے کہا کہ ’میں واپس آؤں گا‘ اور ’بھارت بھاگیا ودھاتا‘ ایسی فلمیں ہیں جو زبانی کلامی تعریف کے ذریعے وقت کے ساتھ مضبوط ہو سکتی ہیں۔ یہ دونوں فلمیں ایسی نہیں جو پہلے دن ہی بڑا بزنس کریں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ان دونوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی فلمیں ’ہانٹڈ‘ اور ’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘ بھی باکس آفس پر ایک ساتھ چل سکتی ہیں کیونکہ ہر فلم مختلف ناظرین کے لیے بنائی گئی ہے، اور یہ سب مل کر سینما گھروں میں ایک توازن پیدا کر سکتی ہیں۔‘
’باکس آف کمائی، پیش گوئی کرنا ممکن نہیں‘
’بھارت بھاگیا ودھاتا‘ اور’میں واپس آؤں گا‘عام بڑی ریلیزز کے برعکس بکنگ پلیٹ فارم پر نمایاں طور پر ٹرینڈ نہیں کر رہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریلیز سے پہلے جوش و خروش نسبتاً کم ہے۔

کنگنا کو سنہ 2015 کی فلم ’تنو ویڈز منو ریٹرنز‘ کے بعد سے کسی بڑی باکس آفس کامیابی کی تلاش ہے (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)

کنگنا رناوت کی گزشتہ فلم ’ایمرجنسی‘ نے بھارت میں تقریباً دو ہزار آٹھ سو پچپن سکرینز پر دو اعشاریہ پچاسی کروڑ روپے سے آغاز کیا تھا اور اپنی پوری نمائش میں تقریباً 23.81 کروڑ روپے ہی کما سکی۔ اداکارہ کو 2015 کی فلم ’تنو ویڈز منو ریٹرنز‘ کے بعد سے کسی بڑی باکس آفس کامیابی کی تلاش ہے۔
دوسری طرف دلجیت دوسانجھ نے حالیہ برسوں میں نسبتاً مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کی آخری ہندی فلم ’بارڈر 2‘ کو مثبت ریویوز ملے اور اس نے 36کروڑ روپے کی افتتاحی کمائی کی، جبکہ فلم ’کریو‘ بھی ایک بڑی تجارتی کامیابی ثابت ہوئی جس نے مجموعی طور پر 151کروڑ روپے کمائے۔
اسی دوران کچھ مداحوں کا دعویٰ ہے کہ ’میں واپس آؤں گا‘ کو مناسب تعداد میں سکرینیں نہیں دی گئیں، تاہم سکرینز کی تعداد کے حوالے سے باضابطہ تفصیل منظرِعام پر نہیں آئیں۔
باکس آفس پر مقابلے میں ایک اور فلم منوج باجپائی کی ’گورنر‘ بھی شامل ہے، جس کی ہدایت کاری چنمے ڈی منڈلیکر نے کی ہے۔ یہ فلم سنہ 1990 کے بھارت کے معاشی بحران کے واقعات سے متاثر ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا اور حکومتِ ہند کے درمیان ادارہ جاتی تعلقات کو دکھاتی ہے۔
دوسری طرف ’بھارت بھاگیا ودھاتا‘ منوج تاپڑیا کی ہدایت کاری میں بنی ہے اور یہ  26/11 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے دوران کما ہسپتال میں پیش آنے والے بہادری کے واقعات پر مبنی ہے۔
کنگنا اور دلجیت کے درمیان اولین ٹکرائو
کنگنا اور دلجیت کے درمیان کشیدگی پہلی بار سنہ 2020 کے کسان احتجاج کے دوران منظرِعام پر آئی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کنگنا نے احتجاج میں موجود ایک بزرگ خاتون کو غلطی سے شاہین باغ کے احتجاجی مظاہروں کی معروف شخصیت بلقیس بانو سمجھ لیا۔
دلجیت نے اس دعوے کو کھلے عام چیلنج کیا اور ثبوت پیش کیا کہ وہ خاتون دراصل پنجاب کی ایک 73 سالہ کسان مہندر کور تھیں۔

دلجیت دوسانجھ نے حالیہ برسوں میں باکس آفس پر نسبتاً مضبوط کارکردگی دکھائی ہے (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)

یہ اختلاف جلد ہی سوشل میڈیا پر لفظی جنگ میں بدل گیا۔ کنگنا نے دلجیت کو ’کرن جوہر کا چمچہ‘ کہا، جبکہ دلجیت نے ان پر ’بدتمیز و بدتہذیب‘ ہونے کا الزام عائد کیا۔ اس واقعے پر شوبز انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر بحث ہوئی اور کئی شخصیات نے دلجیت کی حمایت کی۔ اطلاعات کے مطابق کنگنا کو اس تنازع کے بعد قانونی نوٹسز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
برسوں بعد یہ دونوں ستارے ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں اور اس بار باکس آفس پر مدِمقابل ہوں گے، جہاں فیصلہ بالآخر ناظرین کی رائے اور زبانی کلامی تعریف ہی کرے گی۔

شیئر: