Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومت کا بجلی کے ٹیکسوں میں چُھوٹ دیے جانے کا دعویٰ، حقیقت کیا ہے؟

مالی سال 2022 سے اپریل 2026 تک بجلی کی پیداوار پر مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے کے اخراجات آئے (فائل فوٹو: ایکس)
پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والے قومی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کا کہنا ہے کہ ’اس وقت بھی بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں میں چھوٹ دی جا رہی ہے اور کبھی اگر ان کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا تو بلوں میں مزید ٹیکس بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔‘
بدھ کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان میں بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکسوں کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آیا۔
کمیٹی کے رکن سینیٹر کامل علی آغا نے مؤقف اختیار کیا کہ ’ایف بی آر نے بجلی کے بلوں کے ذریعے گزشتہ مالی سال 620 ارب روپے وصول کیے ہیں اور ٹیکسوں کی اس نوعیت کی وصولی کو آمدن کا آسان ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔‘
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’بجلی کا بل اگر 13 ہزار روپے ہو تو ان میں سے سات ہزار روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ 8 ہزار روپے کے بل میں 4 ہزار روپے ٹیکسوں کی مد میں شامل ہیں۔‘
تاہم پاکستان میں بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکسوں پر تشویش کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ان بھاری ٹیکسوں کے باعث صارفین کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا دشوار ہو چکا ہے۔
علاوہ ازیں، خود مختار بجلی گھروں یعنی ’آئی پی پیز‘ کو کی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس (پلانٹ کی موجودگی کی رقم) بھی مہنگی بجلی اور بلوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے، جس کا حتمی مالی بوجھ بالآخر عام صارفین ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اس وقت بجلی کے بل پر کتنے ٹیکسز عائد ہیں؟
پاکستان میں بجلی کے بل پر اس وقت بنیادی طور پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو ہے جو بجلی کی اصل لاگت اور ایڈجسٹمنٹس پر وصول کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ 25 ہزار روپے سے زائد کے ماہانہ بل پر غیر فائلر گھریلو صارفین کے لیے 7.5 فی صڈ ایڈوانس انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے، جبکہ فائلرز کو اس سے استثنیٰ حاصل ہے اور کمرشل یا صنعتی بلوں پر یہی ٹیکس 10 سے 12 فیصد تک وصول کیا جاتا ہے۔

آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس بھی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

مزید برآں، صوبائی حکومت کی جانب سے ایک سے ڈیڑھ فیصد الیکٹرسٹی ڈیوٹی، اور گردشی قرضوں کی مد میں 0.43 روپے فی یونٹ فنانسنگ کاسٹ سرچارج وغیرہ بھی بل میں شامل ہوتا ہے۔
اسی طرح غیر رجسٹرڈ کمرشل کنکشنز پر تین سے پانچ ایکسٹرا ٹیکس کے ساتھ ساتھ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس بھی بل کا حصہ ہوتی ہیں، جس کے باعث ایک عام صارف کا مجموعی بل اصل بجلی کی قیمت سے 35 سے 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان میں بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکسوں کے علاوہ آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس بھی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 سے اپریل 2026 تک بجلی کی پیداوار پر مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے کے اخراجات آئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہےکہ اس عرصے کے دوران بجلی کی اصل پیداواری لاگت یعنی انرجی چارجز کی مد میں 6 ہزار 121 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ بجلی استعمال کیے بغیر صرف پاور پلانٹس کی دستیابی کی مد میں دیے جانے والے کیپیسٹی چارجز کا حجم 7 ہزار 275 ارب روپے رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی اصل پیداواری لاگت کے مقابلے میں کیپیسٹی چارجز کا بوجھ مسلسل زیادہ رہا ہے، جو مالی سال 2022 کے 829 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2024 میں 1,902 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ مالی سال 2025 میں بھی یہ رقم 1,807 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
لیکن یہاں سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے باوجود کیپیسٹی پیمنٹس اور بھاری ٹیکسوں کا حتمی بوجھ آخر عام صارفین ہی کو کیوں برداشت کرنا پڑتا ہے؟
معاشی اور توانائی کے ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ماضی میں نجی پاور پلانٹس کے ساتھ کیے گئے  وہ معاہدے ہیں، جن کے تحت آئی پی پیز کو یہ ضمانت دی گئی ہے کہ حکومت ان سے بجلی خریدتی ہے یا نہیں خریدتی لیکن وہ ان پلانٹس کی دستیابی کی مد میں مقررہ رقم ادا کرنے کی پابند ہو گی۔ 
ماہرین کے مطابق، ان ادائیگیوں کو چونکہ امریکی ڈالر سے منسلک کیا گیا ہے اور سرکاری خزانے میں ان کی گنجائش نہیں، اس لیے نیپرا کے فارمولے کے تحت یہ اخراجات براہِ راست صارفین کے بلوں میں شامل کر دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں بجلی کے بل پر اس وقت بنیادی طور پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو ہے (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

تاہم اس صورتِ حال میں حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں ترمیم کی ہے تاکہ کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ کم کیا جا سکے، لیکن ان اقدامات کے اثرات آنے والے دنوں میں ہی سامنے آ سکیں گے۔
ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکسز ایف بی آر کے لیے بھی ٹیکس وصولی کا ایک آسان ذریعہ بن چکا ہے، جہاں عام شہری انتظامی نااہلی اور معاہدوں میں موجود خامیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ 
ماہرین کے مطابق حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی بجائے بجلی کے بلوں کو بطور ’ٹیکس کلیکٹر‘ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے تحت صرف ایک سال میں بلوں کے ذریعے 600 ارب روپے سے زائد کا  ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جس کا براہِ راست اثر عام اور غریب صارفین کی جیب پر پڑ رہا ہے۔

شیئر: