دمیاطہ بندرگاہ میں دو گیس جہازوں میں آگ ڈرون حملے کا نتیجہ تھی، مصر کی تصدیق
جمعرات 30 جولائی 2026 18:52
مصر کی وزارتِ پیٹرولیم نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ بندرگاہ پر لگنے والی آگ پر فائر فائٹنگ اور سکیورٹی ٹیموں نے فوری قابو پا لیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مصر کی کابینہ نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ بحیرۂ روم میں واقع مصر کی بندرگاہ دمیاطہ پر دو گیس بردار جہازوں میں لگنے والی آگ ایک ڈرون حملے کے باعث بھڑکی تھی۔
اس طرح حکومت نے واضح کر دیا کہ ایک روز قبل پیش آنے والا واقعہ حادثہ نہیں بلکہ حملے کا نتیجہ تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ یا ملک نے قبول نہیں کی۔ یہ حملہ آبنائے سویز کے قریب پیش آیا، جو سعودی تیل کی عالمی منڈیوں تک محفوظ ترسیل کے لیے آخری محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے۔
مصر کی کابینہ کے مطابق حکام تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملک کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
برطانوی بحری سلامتی کی کمپنی ایمبری نے بدھ کے روز ابتدائی جائزے میں کہا تھا کہ ایک ڈرون نے بندرگاہ پر موجود امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع مزید پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے۔
واقعے سے باخبر تین تجارتی ذرائع کے مطابق ڈرون نے تیرتے ہوئے ذخیرہ کرنے والے ٹینکر انرگوس وینٹر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعد ازاں دوسرے جہاز گیس لاگ سیلم تک پھیل گئی۔
برطانوی بحری رسک مینجمنٹ گروپ وین گارڈ کے مطابق انرگوس ونٹر کے دائیں جانب (سٹار بورڈ) پر حملہ ہوا، جس سے آگ لگی، تاہم بعد میں اس پر قابو پا لیا گیا۔
مصر کی وزارتِ پیٹرولیم نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ بندرگاہ پر لگنے والی آگ پر فائر فائٹنگ اور سکیورٹی ٹیموں نے فوری قابو پا لیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ وزیرِ پیٹرولیم کریم بدوی بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے جائے وقوعہ پہنچے۔
یہ ڈرون حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران نے اردن میں موجود امریکی افواج پر میزائل حملہ کیا تھا، جبکہ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں پر حملے کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی، جبکہ یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس سے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری شروع ہونے کے بعد جاری تنازع مزید وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
مصر کی گیس مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟
یہ واقعہ مصر کی گیس مارکیٹ کے لیے نہایت حساس وقت پر پیش آیا ہے۔ ظہر نامی بڑے سمندری گیس فیلڈ کی دریافت کے بعد مصر مائع قدرتی گیس برآمد کرنے والا ملک بن گیا تھا، تاہم مقامی پیداوار میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث اسے دوبارہ عالمی منڈی سے بڑی مقدار میں ایل این جی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
اگر یہ تعطل طویل عرصے تک برقرار رہا تو ایل این جی کے تاجروں کی نظریں اس پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ اس سے عالمی طلب اور سپاٹ قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
