ویسٹ انڈیز: پاکستان پہلا ٹیسٹ کیوں ہارا؟ عامرخاکوانی کا تجزیہ
بدھ 29 جولائی 2026 15:26

عامر خاکوانی -صحافی، لاہور
میرا ایک دوست ہے، نام لینا مناسب نہیں کہ وہ ناراض ہو جائے گا۔ کئی سال پہلے اس نے اعلان کیا تھا کہ اب وہ پاکستانی کرکٹ نہیں دیکھے گا۔ اس کا دکھ یہ تھا کہ ہماری ٹیم ایسے ہارتی ہے جیسے ہارنے کا فیصلہ پہلے سے کر کے میدان میں اترتی ہو۔ واقعی کئی برس اس نے میچ نہیں دیکھا۔
پھر بابراعظم کی ٹیسٹ کپتانی میں واپسی ہوئی۔ میرے دوست کو نجانے کیا ہوا، کہنے لگا چلو ایک آخری موقع دے کر دیکھتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ اس نے شروع سے دیکھا۔ پہلے دو دن اسے خوشگوار حیرت ہوتی رہی۔ ویسٹ انڈیز تین سو گیارہ پر آؤٹ ہوا، محمد علی نے چار وکٹیں لیں۔ پھر جب امام الحق اور شان مسعود نے ڈیڑھ سو رنز کی شراکت بنائی تو اس کا میسج آیا،لکھا: ’یار یہ پاکستانی ٹیم کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ تو غیروں کی طرح کھیل رہی ہے، اس کا اپنا روایتی انداز تو جھلک ہی نہیں رہا۔‘
مجھے پڑھ کر ہنسی آگئی مگر بات میں وزن تھا۔ پاکستان دو سو چالیس رنز تین آوٹ ، شان مسعود کی سینچری، امام الحق کی اچھی نصف سینچری۔ یہ سب ہمارے لیے خوشگوار حیرت لے آیا۔
یہ سہانا وقت مگر جلد بیت گیا۔ ویسٹ انڈین فاسٹ بولر جسٹن گریوز نے گیند سنبھالی اورایک عجیب وغریب ریکارڈ قائم کر دیا۔ اگلے پانچ اوور، پانچوں میڈن اور ہر اوور میں ایک وکٹ۔ اعداد وشمار کے مطابق یہ ٹیسٹ کرکٹ کی ایک سو انچاس سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ کریڈٹ اسے دینا چاہیے مگر جس کسی نے وہ بولنگ دیکھی، وہ مانے گا کہ قصور پاکستانی کرکٹرز کا ہے۔ ہم نے وکٹیں سجا کر دی تھیں ورنہ ایک سو تیس کی سپیڈ پر تھوڑی بہت سوئنگ ہوتی گیندوں کو کھیلنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ جسٹن گریوز نے پہلے شان مسعود کو ایک سو نو پر بولڈ کیا۔ اگلے اوور میں عامر جمال کے تھکے ہوئے دفاعی سٹائل کو تباہ کیا، وکٹیں بکھیر دیں۔ پھر علی عثمان کو ایل بی ڈبلیو۔ پھر محمد رضوان کو۔ پھر لنچ کے بعد محمد عباس کو وکٹ کیپر کے ہاتھوں آوٹ کر دیا۔ آخری سات وکٹیں صرف اڑتیس رنز پر۔
تب میرے دوست کا دوسرا میسج آیا، اس نے لکھا: چلو اب تسلی ہوئی کہ یہ پاکستانی ٹیم ہی ہے۔ اس ایک جملے میں ایک پاکستانی شائق کی پچھلے دس پندرہ برس کی مایوسی چھپی تھی۔ حال یہ ہوگیا ہے کہ ہم پاکستانی اپنی ٹیم کی اچھی کارکردگی پر بھی پریشان ہوجاتے ہیں کہ ہائیں، یہ کیا ہوگیا؟ پھر کولیپس ہونے پر مطمئن، کہ ہاں یہ وہی ہیں، پہچان لیا۔
ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں شکست تو ہوگئی مگر تجزیہ کیا جائے تو یہ چند فیکٹرز نمایاں نظر آتے ہیں۔
اکسٹھ رن جن پر فیصلہ ہوا
تیسرے دن کے آخر میں ویسٹ انڈیز ترانوے رنز پر سات وکٹیں گنوا چکا تھا۔ محمد عباس عمدہ بولنگ کر رہے تھے۔ ایسے میں کیمار روچ اور شمار جوزف نے آٹھویں وکٹ کے لیے اکسٹھ رنز بنا ڈالے۔ جوزف ٹیل اینڈر ہے مگر اس نےایسا لاٹھی چارج کیا کہ پاکستانی بولر بوکھلا گئے۔ ستائیس گیندوں پر اڑتیس رن، چار چھکے، دو چھکے تو محمدعلی کے ایک اوور میں جڑ دیے۔ چوتھی صبح آخری تین وکٹوں نے پچپن رنز کا اضافہ کیا۔ دن کا آغاز محمد علی کے ایک بھٹکے ہوئے اوور اور رضوان کی ڈھیلی تھکی ہاری کیپنگ سے ہوا، چار بائی کے رنز اور پھر ایک کیچ ڈراپ، آٹھ رن مفت میں۔ آوٹ تو ہوگئے مگر خاصے نقصان کے بعد۔
پاکستان میچ نوے رنز سے ہارا۔ اگر ترانوے پر سات وکٹوں کے بعد وہ اکسٹھ رنز کی پارٹنر شپ ہم نہ بننے دیتے تو ٹارگٹ ڈیڈھ سو کے قریب ہوتا، تب شائد پاکستانی ٹیم ہمت کر ہی لیتی۔ ویسے یہ کوئی نئی بیماری نہیں۔ جنوبی افریقہ میں سنچورین کے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی آخری دو وکٹوں نے دو اننگز میں مل کر ایک سو انتالیس رن بنائے تھے اور ہم دو وکٹ سے ہارے تھے۔ شان مسعود نے تب کہا تھا کہ ہم بار بار وہی غلطیاں دہراتے ہیں۔ ڈیڑھ سال گزر گیا، غلطی وہیں کھڑی ہے۔
جب محمد عباس ہائی سکورر بنا
محمد عباس پاکستان کےتجربہ کار اچھےفاسٹ باولر ہیں، مگر بیٹنگ میں وہ صفر ہی ہیں، نمبر گیارہ پر انہیں بھیجا جاتا ہے لیکن اگر کسی ٹیسٹ میچ میں محمدعباس جیسا ٹیل اینڈر اگر دوسرے نمبر کا ہائی سکورر بنے تو پھر بیٹنگ لائن پر فاتحہ ہی پڑھ لینی چاہیے۔ پاکستان کے لیے دو سو گیارہ کا ہدف تھا۔ پچ پر ناہموار باؤنس آ چکا تھا، یہ درست ہے، مگر دو سو گیارہ کوئی ہمالیہ نہیں تھا۔ ہم نے مگر کیا کیا؟
لنچ تک اٹھائیس پر تین وکٹیں۔ پھر ترپن پر چھ۔ پھر اکہتر پر نو۔ جیڈن سیلز نے پانچ وکٹیں بیس رنز کے عوض لیں۔ پوری اننگز میں صرف تین بلے باز ڈبل فگر تک پہنچے، بابراعظم 58 ناٹ آؤٹ، محمد عباس 23 اور رضوان گیارہ۔ آخری وکٹ پر بابر اور عباس نے 49 رن جوڑ کر بارہ اوور نکالے، ورنہ تو ہم 75 چھہتر پر ہی گئے تھے اور یہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہمارا کم ترین سکور بن جاتا۔
امام الحق، عامر جمال اور علی عثمان
امام الحق پر کچھ عرصے سے تنقید ہو رہی ہے، ان کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت پر بھی اعتراض رہا، تاہم اس میچ کی پہلی اننگز میں تریسٹھ رن والی اننگز اچھی تھی، تاہم ٹیسٹ کرکٹ میں اوپنر کا اصل امتحان چوتھی اننگز ہوتی ہے۔ امام نے مایوس کیا۔ سیلز کی ایک اندر آتی گیند گلوز لیتی ہوئی چلی گئی۔ ایک اننگز میں رن بنا لینا کافی نہیں ہوتا، سوال یہ ہے کہ آپ ضرورت کے وقت کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں؟
پاکستان میں عامر جمال کے حمایتی بھی کم نہیں، دراصل دوتین سال قبل عامر جمال نے آسٹریلیا میں اچھی پرفارمنس دکھائی، مگر بعد میں وہ انجرڈ ہوا اور اس کے بعد اس کی سپیڈ بھی کم ہوئی اور بولنگ بھی متاثر۔ اس ٹیسٹ میچ میں عامر جمال کو موقع دیا گیا، مگر اس نے ایسا مایوس کیا کہ کھلانے کا جواز ہی سمجھ نہ آیا۔ بولنگ میں ایک وکٹ، دس اوورز میں پچاس سے زیادہ رنز ٹیسٹ میں کون دیتا ہے؟ ویسےعامر جمال کو سوچنا چاہیے کہ ایک سو تیس کی سپیڈ پر شارٹ پچ گیندیں نہیں کرایا کرتے۔ اگر باؤنسر کرانے کا شوق ہے تو محنت کر کے سپیڈ بڑھاؤ، ایک سو چالیس سے تو اوپر جاؤ، ورنہ شارٹ گیندوں پر پٹائی ہی ہوگی۔ موصوف آل راونڈر کہلاتے ہیں مگر بیٹنگ میں پہلی اننگز میں گریوز کے ہاتھوں بولڈ۔ دوسری اننگز میں انہیں نمبر چھ پر بھیج دیا گیا، وہاں پہلے ایک شارٹ گیند ہیلمٹ پر کھائی، کنکشن ٹیسٹ سے گزرے، پھر بالکل بے یقین انداز میں ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ ایک آل راؤنڈر جو گیند سے فرق ڈالے، نہ بلے سے، اسے ٹیم میں رکھنے کا مقصد کیا ہے؟
علی عثمان کا معاملہ اس سے بھی عجیب ہے۔ لیفٹ آرم سپنر، پہلا ٹیسٹ، اور پورے میچ میں صرف تیرہ اوورز، وہ بھی سارے پہلی اننگز میں۔ دوسری اننگز میں کپتان نے انہیں گیند ہی نہیں دی۔ مطلب صاف ہے، یا تو ان پر اعتماد نہیں تھا، یا انہیں کھلانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ تجربہ کار آف سپنر ساجد خان باہر بیٹھے یہ سب دیکھتے رہے۔ علی عثمان کا ڈیبیو بھی مایوس کن رہا۔ ان کے فگرز کے مطابق وہ بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں، دوسری اننگز میں انہیں آؤٹ ہوتے دیکھا، کلب کی سطح کا کرکٹر بھی ایسا بچکانہ شاٹ کھیل کر سلپ میں کیچ نہیں دے گا۔
اصل بیماری، کمزور تکنیک
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی بلے بازوں کی تکنیک تباہ ہو چکی ہے۔ ہمارے بلے باز سال بھر ٹی 20 کھیلتے ہیں، پی ایس ایل، دنیا بھر کی لیگز، مسلسل مختصر فارمیٹ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ٹیسٹ معیار کی بیٹنگ ہی بھول گئے ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں گیند چھوڑنا ایک فن ہے۔ آف سٹمپ سے باہر جاتی گیند کو جانے دینا، فرنٹ فٹ پر مکمل جھک کر کھیلنا، بلے اور پیڈ کے درمیان فاصلہ نہ رہنے دینا، یہ مہارتیں نیٹ پر مہینوں کی محنت مانگتی ہیں۔ ٹی20 میں ان میں سے کسی کی ضرورت نہیں پڑتی، وہاں تو ہر گیند کو مارنا ہوتا ہے۔
خود بابراعظم کو دیکھ لیجیے، یہ پاکستان کا بہترین بلے باز ہے مگر اس کے سٹانس میں واضح کمزوری آ چکی ہے۔ پہلے وہ سائیڈ آن بیٹنگ کرتا تھا، کندھا گیند کی طرف، سر سٹیبل ، پورا جسم ایک لائن میں۔ اب وہ زیادہ کھلا ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سوئنگ ہوتی گیند پر اسے شدید مشکل پیش آتی ہے، اس لیے کہ گیند کو دیر سے کھیلنے کی جو گنجائش سائیڈ آن پوزیشن دیتی ہے، وہ اب موجود نہیں۔
پہلی اننگز میں وہ عین اسی وجہ سے آؤٹ ہوا۔ گیند شارٹ آف لینتھ پر پڑی، بیک فٹ پر پھنسا ہوا بابر بلے کا لیڈنگ ایج سلپ میں دے بیٹھا۔ دوسری میں بھی ایک دو ایسے ہی ایج نکلے مگر گیند سلپ تک پہنچ نہ پائی ورنہ بابر آؤٹ تھا۔
محمد رضوان کا دوسری اننگز میں آؤٹ ہونا صاف صاف شرمناک تھا۔ گریوز کی گیند کو رضوان نے اسے ان سوئنگ سمجھ کر اندر کی طرف کھیلنے کی کوشش کی، بلا اسی حساب سے گھمایا، مگر گیند پچ ہو کر باہر کی طرف نکل گئی۔ آف سٹمپ اڑ گیا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بنیادی غلطی ہے، گیند کو پڑھے بغیر پہلے سے فیصلہ کر لینا۔ ایک بلے باز جو برسوں سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہا ہو، اس سے یہ توقع نہیں کی جاتی۔
ٹیسٹ ٹیم کو اچھا بیٹنگ کوچ چاہیے
حل کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں فوری طور پر ایک ایسے بیٹنگ کوچ کی ضرورت ہے جو خود مستند تکنیک والا بلے باز رہا ہو۔ محمد یوسف اور یونس خان جیسے نام ہمارے پاس موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے مشکل ترین حالات میں، سوئنگ ہوتی گیند اور باونسنگ وکٹوں پر رن بنائے۔
ان کے پاس وہ علم ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا۔ ہاتھوں کی پوزیشن، سر کا توازن، پچھلے پیر کا زاویہ، گیند کو کب چھوڑنا ہے اور کب کھیلنا ہے؟ ہمارے نوجوان بلے باز یہ سب کسی سے سیکھ ہی نہیں رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بورڈ میں سابق کرکٹرز کے ساتھ تعلقات کبھی ہموار نہیں رہتے۔ کبھی انا آڑے آتی ہے، کبھی سیاست۔ ہر نیا چیئرمین اپنی ٹیم لاتا ہے اور پرانی لپیٹ دی جاتی ہے۔ اس دوران کھلاڑی سیکھنے کے بجائے بس کھیلتے چلے جاتے ہیں، غلطیاں دہراتے ہوئے۔
آٹھ شکستیں، چار براعظم
یہ پاکستان کی مسلسل آٹھویں بیرونِ ملک ٹیسٹ شکست ہے، ہماری تاریخ کی طویل ترین۔ سلسلہ دسمبر 2023 میں آسٹریلیا سے شروع ہوا، پھر جنوبی افریقہ، اب کیریبین۔ چار براعظموں پر آٹھ شکستیں اور تین سال سے بیرونِ ملک کوئی فتح نہیں۔ آخری سترہ ٹیسٹ میں تیرہ شکستیں۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ سائیکل میں پاکستان اب سب سے آخری نمبر پر ہے۔ یاد رہے، ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف آخری سیریز دو ہزار میں جیتی تھی۔ چھبیس سال بعد وہ پھر سیریز جیتنے کی طرف جا رہے ہیں۔
دوسرا ٹیسٹ مختلف ہوسکتا ہے
دوسرا اور آخری ٹیسٹ دو اگست کو کوئنز پارک اوول، پورٹ آف سپین میں شروع ہو رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ عبید شاہ کو موقع مل سکتا ہے اور زخمی عبداللہ فضل کی جگہ سعود شکیل آ سکتے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ سلیکشن سے پہلے کا ہے۔ بیس وکٹیں ہمارے بولروں نے لے لیں، بیرونِ ملک یہ آسان کام نہیں۔ محمد عباس نے دوسری اننگز میں شاندار بولنگ کر کے پانچ وکٹ لیے ، یہ ان کا ساتواں پانچ وکٹ کی پرفارمنس ہے۔ ہمیں ڈبونے والی بیٹنگ ہے، اور بیٹنگ کی جڑ تکنیک میں ہے۔
بابر نے میچ کے بعد بالکل درست کہا کہ نئی گیند کو نکالنا ہوتا ہے اور پرانی ہونے پر رن بنانے ہوتے ہیں، بنیادی باتیں وہی رہتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ بنیادی باتیں اب ہمیں سکھانی پڑ رہی ہیں، اور وہ بھی ان کھلاڑیوں کو جو پانچ سات سال سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ بابراعظم کی کپتانی کی واپسی کا آغاز اچھا نہیں ہوا، مگر ایک میچ سے فیصلہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ہاں، اپنے سٹانس پر انہیں کام کرناپڑے گا۔
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا ہم واقعی اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہار ہماری پہچان بن جائے اور جیت اجنبی لگنے لگے؟ پورٹ آف سپین میں ہمارے لڑکوں کے پاس ایک موقع ہے کہ اس ڈر کو توڑ دیں۔ صرف ایک فائٹنگ پارٹنر شپ اور دلیرانہ اننگز درکار ہیں۔ پھر پاکستان کو جیت سے کوئی نہیں روک سکتا، انشااللہ۔ پاکستانی روٹھے ہوئے شائقین بھی واپس آ جائیں گے، ٹیم پرفارم تو کرے۔
