Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان کے لسبیلہ ڈویژن میں ’خواتین کا راج‘، اے سی اور ڈی سی کے بعد کمشنر بھی خاتون تعینات

سائرہ عطا کے والد اور والدہ دونوں بلوچستان کے اولین سی ایس پی افسران میں شامل تھے (فائل فوٹو: وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، بلوچستان)
بلوچستان حکومت نے پیر کو بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کرتے ہوئے گریڈ 20 کی سینیئر افسر سائرہ عطا کو کمشنر لسبیلہ ڈویژن تعینات کیا ہے۔ وہ صوبے کی تاریخ میں ڈویژنل کمشنر کے اعلٰی عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون افسر بن گئی ہیں۔
سائرہ عطا کی اس تعیناتی کے بعد حال ہی میں تشکیل دیے گئے لسبیلہ ڈویژن کے تین اہم ترین انتظامی عہدوں پر خواتین براجمان ہو گئی ہیں۔ 
اس وقت حمیرا بلوچ بطور ڈپٹی کمشنر لسبیلہ اور کشش چوہدری تحصیل کنراج میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
بلوچستان میں جہاں روایتی طور پر انتظامی عہدوں پر مَردوں کی اجارہ داری رہی ہے، اس منظر نامے کو ایک غیر معمولی پیش رفت اور نمایاں تبدیلی سمجھا جا رہا ہے اور اسے بلوچستان کی انتظامی تاریخ میں ایک نیا باب قرار دیا جا رہا ہے۔
سائرہ عطا: پہلی خاتون کمشنر کا خاندانی و پیشہ ورانہ پس منظر
سائرہ عطا کا تعلق بلوچستان کے دُورافتادہ ضلع آواران سے ہے۔ انہوں نے کوئٹہ سے ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا۔
اس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف واروک سے ’شیوننگ سکالرشپ‘ پر قانون (ایل ایل ایم) کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے سی پی ای اور کامن پروفیشنل کورس بھی برطانیہ سے کیا۔
سائرہ عطا کا خاندانی پس منظر بھی ممتاز اور بلوچستان کی انتظامی تاریخ میں ایک مثال ہے۔ ان کے والد اور والدہ دونوں بلوچستان کے اولین سی ایس پی افسران میں شامل تھے۔ 
والد عطاء اللہ اکاؤنٹس اینڈ آڈٹ گروپ کے افسر رہے جبکہ ان کی والدہ سعیدہ بلوچ نے 1984 میں چار بچوں کی ماں ہونے کے باوجود سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا۔
سعیدہ بلوچ نے اپنے دور میں نہ صرف روایتی رکاوٹوں کو توڑا بلکہ اکاؤنٹس اینڈ آڈٹ گروپ میں 500 سے زائد مَرد ملازمین کے درمیان اکیلی خاتون افسر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے دیگر خواتین کے لیے سول سروسز کے دروازے کھولے۔
یوں سائرہ عطا کو بیوروکریسی کا ماحول گھر سے ہی ملا۔ وہ 1998 میں صوبائی مقابلے (پی سی ایس) کا امتحان پاس کر کے 2000 میں باقاعدہ بیوروکریسی کا حصہ بنیں۔ وہ بلوچستان سول سروسز کی ایگزیکٹیو برانچ سے تعلق رکھتی ہیں۔

سائرہ عطا کہتی ہیں کہ ’بلوچستان میں یقیناً بہت سے چیلنجز موجود ہیں مگر ہم نے ان کا مقابلہ کرنا ہے‘ (فائل فوٹو: وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، بلوچستان)

سائرہ عطا وفاقی وزارت تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت میں ڈیپوٹیشن پر دو سال تک بطور جوائنٹ سیکریٹری، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ڈی جی، بلوچستان میں ڈائریکٹر جنرل صنعت و حرفت اور ایم ڈی ہیلتھ فاؤنڈیشن بلوچستان کے عہدوں پر فائز رہیں۔
وہ صوبائی ایڈیشنل سیکریٹری تعلیم، سیکریٹری کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی خواتین جیسے کئی اہم عہدوں پر کام کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یونیورسٹی لاء کالج میں بطور وائس پرنسپل بھی فرائض انجام دیے۔
وہ 2022 میں سیکریٹری محکمہ محنت و افرادی قوت بن کر کسی محکمے کی سربراہ بننے والی صوبے کی پہلی خاتون بنیں، جبکہ کمشنر بننے سے قبل وہ 2024 سے سیکریٹری محکمہ ترقیٔ نسواں کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
بطور سیکریٹری وومن ڈویلپمنٹ سائرہ عطا نے ’وومن امپاورمنٹ انڈوومنٹ فنڈ‘ کے ذریعے خواتین کو کاروبار کے لیے 5 سے 15 لاکھ روپے تک کی مالی امداد کا منفرد منصوبہ شروع کیا۔ 
انہوں نے اندرونِ بلوچستان خواتین کے لیے الگ بازار، ہاسٹلز، ڈے کیئر سینٹرز اور وومن انٹرپرینیورشپ جیسے منصوبے شروع کیے جبکہ خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین اور گھریلو تشدد اور انسدادِ ہراسانی کے قوانین پر کام کیا۔

 سائرہ عطا، صوبے کی تاریخ میں ڈویژنل کمشنر کے عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون افسر بن گئی ہیں (فائل فوٹو: وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، بلوچستان)

اپنی تعیناتی پر سائرہ عطا کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سول سروسز سمیت دیگر شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی حوصلہ افزا ہے اور اس نے یہ تصور غلط ثابت کیا ہے کہ خواتین کام نہیں کر سکتیں۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین نے ہر شعبے میں خود کو منوایا ہے۔ معاشرے کے نصف سے بھی زائد حصے کو ہر میدان میں آگے لائے بغیر ہم پائیدار ترقی نہیں کرسکتے۔
سائرہ عطا کہتی ہیں کہ خواتین سول سروس میں رہتے ہوئے خواتین اور نوجوانوں سے بہتر انگیج اور اُن کے مسائل حل کر سکتی ہیں اور ان کی ہماری ترجیحات میں بھی خاص کر یہ دو طبقات شامل ہیں۔
خاتون کمشنر کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اپنے والدین خاص کر والد مشعلِ راہ رہے جنہوں نے سخت دَور اور مشکلات کے باوجود روایتی رکاوٹوں کو توڑ کر نہ صرف اعلٰی تعلیم حاصل کی بلکہ صوبے کے اولین سی ایس پی افسر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے میٹرک کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے خضدار تک کا سفر اونٹ پر کیا تھا کیونکہ اس وقت وہاں کوئی سڑک تھی اور نہ ہی لوگوں کے پاس گاڑیاں تھیں۔ 
سائرہ عطا کہتی ہیں کہ بلوچستان میں یقیناً بہت سے چیلنجز موجود ہیں مگر ہم نے ان کا مقابلہ کرنا ہے اور خود ہی انہیں حل کرنا ہے، باہر سے کوئی نہیں آئے گا۔

حمیرا بلوچ مئی 2024 سے لسبیلہ کی ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں (فائل فوٹو: ڈی جی پی آر، کوئٹہ)

وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دفتر کی جانب سے اس تقرر کو صوبے کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ قرار دیا گیا ہے۔ 
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تقرری حکومت بلوچستان کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے، میرٹ کو فروغ دیا جائے اور صوبے میں قیادت کے مواقع سب کے لیے یکساں بنائے جائیں۔
نئے ڈویژن کے چیلنجز اور ’خواتین کی ٹیم‘
لسبیلہ میں سائرہ عطا کی ٹیم میں شامل دیگر دونوں خواتین افسران میں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر کنراج کشش چوہدری شامل ہیں۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی حمیرا بلوچ نے کامرس اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہے۔ وہ 2018 میں پی سی ایس کا امتحان پاس کر کے بیوروکریسی میں آئیں۔
وہ اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ، وزیراعلٰی سیکریٹریٹ اور سول سیکریٹریٹ میں ڈپٹی سیکریٹری کے عہدوں پر کام کرنے کے بعد مئی 2024 سے لسبیلہ کی ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
نوشکی کے ایک متوسط ہندو گھرانے سے تعلق رکھنے والی 26 سال کی کشش چوہدری نے 2025 میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے بلوچستان کی پہلی ہندو خاتون اسسٹنٹ کمشنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ 

بلوچستان کے صحافیوں کے مطابق ’خواتین افسران میں ہمدردی اور عوامی خدمت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ان کے والد چوہدری گرداری لعل بھی ایڈیشنل سیکریٹری ہیں۔ کشش چوہدری کو رواں سال جُون میں لسبیلہ کی تحصیل کنراج میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا تھا۔
بلوچستان حکومت نے حال ہی میں قلات ڈویژن کو تقسیم کر کے ایک نیا ’لسبیلہ ڈویژن‘ قائم کیا ہے۔ یہ نیا ڈویژن کراچی سے متصل صنعتی ضلع حب، ساحلی ضلع لسبیلہ اور رقبے کے لحاظ سے وسیع صوبے کے سب سے پسماندہ اور شورش زدہ ضلع سمجھے جانے والے آواران پر مشتمل ہے۔
مقامی صحافی اسماعیل ساسولی کے مطابق ’بلوچستان کا یہ علاقہ نہ صرف رقبے کے لحاظ سے بڑا ہے بلکہ یہاں کام کرنا آسان بھی نہیں ہے۔‘
’امن و امان کی صورتِ حال ہو، پیچیدہ سیاسی و قبائلی ماحول، صنعتی مسائل ہو یا قدرتی آفات، یہاں ہر افسر کے لیے کام کرنا ایک بڑا امتحان ہوتا ہے، تاہم ان چیلنجز کے باوجود خواتین افسران نے خود کو فیلڈ میں منوایا ہے۔‘
ایک مقامی شہری بابر لاسی کے مطابق لوگ شروعات میں حیران تھے لیکن ان افسران نے اپنے رویے اور کارکردگی سے لوگوں کو مطمئن کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ خواتین افسران عوام کے مسائل زیادہ غور سے سنتی ہیں، ان میں ہمدردی اور عوامی خدمت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بدعنوانی کے خلاف بھی عدم برداشت رکھتی ہیں۔

 کنراج کشش کے والد ایڈیشنل سیکریٹری ہیں، وہ جُون میں لسبیلہ کی تحصیل کنراج میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئی تھیں (فائل فوٹو: اردو نیوز)

جام خاندان کا کردار
لسبیلہ اور حب کے علاقے معاشی، زرعی اور صنعتی لحاظ سے صوبے کے لیے انتہائی اہم ہیں اور روایتی طور پر یہاں ’جام خاندان‘ کا سیاسی اثرورسوخ رہا ہے۔
مقامی  صحافی اسماعیل ساسولی کا کہنا ہے کہ لسبیلہ ڈویژن میں خواتین کی اعلٰی عہدوں پر تعیناتیاں ایک مثبت پیش رفت ہے جس کے پیچھے سابق وزیراعلٰی اور موجودہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کا بڑا عمل دخل ہے۔
ان کے مطابق جام کمال خان نے اپنی وزارت اعلٰی کے دور میں بھی خواتین افسران کی حوصلہ افزائی کی۔ روحانہ گل کاکڑ کو اسسٹنٹ کمشنر حب اور حمیرا بلوچ کو وزیراعلٰی سیکریٹریٹ میں تعینات کیا جبکہ بعد میں اُن کی تجویز پر ہی حمیرا بلوچ کو ڈپٹی کمشنر لسبیلہ لگایا گیا۔
خواتین کی سول سروسز میں نمائندگی میں اضافہ
بلوچستان کے روایتی سماج میں خواتین کا سیاست اور انتظامیہ میں کردار محدود رہا ہے لیکن حالیہ برسوں کے دوران سول سروس میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔
سنہ 2024 میں بیک وقت پانچ اضلاع میں خواتین افسران عائشہ زہری، بتول اسدی، فریدہ ترین، حمیرا بلوچ اور روحانہ گل کاکڑ ڈپٹی کمشنر تعینات رہیں لیکن اس وقت صرف فریدہ ترین اور حمیرا بلوچ دو ہی خواتین ڈپٹی کمشنر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ 

’لسبیلہ ڈویژن میں خواتین کی اعلٰی عہدوں پر تعیناتیوں کے پیچھے جام کمال خان کا بڑا عمل دخل ہے‘ (فائل فوٹو: اے پی پی)

تاہم کسی خاتون افسر کی بطور کمشنر تعیناتی اور ایک ہی ڈویژن کے تین اہم عہدوں پر ایک ساتھ خواتین کا فائز ہونا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق اعلٰی انتظامی عہدوں پر خواتین افسران کی تعیناتی ایک تاریخی اقدام ہے جس سے صوبے کی نوجوان لڑکیوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن فاطمہ ننگیال نے حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچستان کی گورننس میں خواتین کی حقیقی شمولیت کی جانب ایک اہم، بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اہم عہدوں پر خواتین کی موجودگی اس بات کا پیغام ہے کہ قیادت صرف مَردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر بڑی ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں۔‘
فاطمہ ننگیال کے مطابق ’ماضی میں خواتین کے بہت سے مسائل اس لیے نظرانداز ہوتے رہے کیونکہ فیصلہ سازی میں ان کی نمائندگی کم تھی۔ اب امید ہے کہ خواتین کی حفاظت، صحت، تعلیم اور روزگار سے متعلق معاملات پر بہتر توجہ دی جا سکے گی۔‘
’اعلٰی عہدوں پر خواتین افسران کی تقرریوں سے گھریلو مسائل، قانونی مشکلات اور سماجی ناانصافیوں کا سامنا کرنے والی خواتین اپنے مسائل کے حل کے لیے سرکاری اداروں سے رجوع کرتے ہوئے زیادہ اعتماد محسوس کریں گی۔‘
ان کا بھی کہنا ہے کہ یہ نوجوان لڑکیوں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ وہ محنت اور قابلیت کے ذریعے وہ اعلٰی عہدوں تک پہنچ سکتی ہیں۔

شیئر: