پاکستان ڈرامہ انڈسٹری سے جڑے سینیئر اداکار اور مصنف سید محمد احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک جونیئر اداکار نے شوٹنگ کے دوران سب کے سامنے ان کی تضحیک کی، لیکن انہوں نے ماحول خراب ہونے سے بچانے کے لیے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔
دریچہ نامی یوٹیوب چینل کی ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سید محمد احمد نے اداکار کا نام لیے بغیر بتایا کہ ان سے تقریباً 40 سال چھوٹا ایک اداکار گرین روم میں موجود دیگر افراد کے سامنے ان کے چمڑے کے بیگ پر طنزیہ جملے کستا رہا۔
ان کے بقول وہ مزاح کو پسند کرتے ہیں، لیکن یہ رویہ محض مذاق نہیں بلکہ سب کے سامنے اپنی اہمیت جتانے کی کوشش تھی۔
مزید پڑھیں
-
’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘، نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی ڈرامہ سیریزNode ID: 789966
-
کہانی کا خوش گوار اختتام صرف شادی نہیں: اداکارہ کبریٰ خانNode ID: 906896
انہوں نے بتایا کہ اسی اداکار نے بعد میں سب کے سامنے یہ بھی کہا، ’لوگ ان کو معلوم نہیں کیوں کاسٹ کرتے ہیں، ایک ہی جیسی اداکاری کرتے ہیں اور ایک ہی جیسا ہیئر سٹائل رکھتے ہیں۔‘
سید محمد احمد کے مطابق شوٹنگ کے دوران اس اداکار نے ایک اداکارہ سے پورٹیبل پنکھا لیا اور اسے ان کے سر پر ہیئر ڈرائر کی طرح چلاتے ہوئے بلند آواز میں کہا، ’دیکھیں، میں ان کا ہیئر سٹائل بنا رہا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ اس رویے پر ردِعمل دے سکتے تھے، مگر ایسا کرنے سے وہ خود بھی اسی سطح پر آ جاتے، جبکہ انہیں یہ خدشہ بھی تھا کہ کسی کے موبائل فون یا کیمرے میں ان کا ردِعمل ریکارڈ ہو سکتا ہے۔
سینیئر اداکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے خاموشی سے منظر برداشت کیا، شوٹنگ مکمل کی اور گھر چلے گئے، لیکن پوری رات اسی واقعے کے بارے میں سوچتے رہے کہ ایک نسبتاً نیا اداکار پورے عملے کے سامنے ان کی بے عزتی کرتا رہا اور وہ ایک لفظ بھی نہ بولے۔
سید محمد احمد نے بتایا کہ انہوں نے صرف اس لیے جواب نہیں دیا کیونکہ پروڈیوسرز، ہدایت کار اور دیگر فنکاروں کا رویہ انتہائی اچھا تھا، اور وہ ایک شخص کی بدتمیزی کی وجہ سے پورے پراجیکٹ کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔
محمد احمد کے انکشافات کے بعد پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکار ان کے حق میں سامنے آئے اور سینیئر اداکار کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ذمہ دار اداکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
اداکار اور ہدایت کار شمون عباسی نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جونیئر اداکار کون ہے، اس لیے بہتر ہے کہ وہ عوام کے سامنے اس کی شناخت ظاہر ہونے سے پہلے ہی سید محمد احمد سے معافی مانگ لے۔
انہوں نے کہا کہ سید محمد احمد انڈسٹری کے نہایت شائستہ اور خوش اخلاق سینیئر فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ سینیئر اداکاروں سے رہنمائی لینا ہر نئے اداکار کے سفر کا اہم حصہ ہوتا ہے۔
اداکار فیصل قریشی نے بھی اس واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اداکار کا نام جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’سر نام بتائیں، پھر اس کے بعد معاملہ میرے اور اس کے درمیان ہوگا۔‘

اداکار سید جبران نے بھی ایک بیان میں ذمہ دار اداکار پر زور دیا کہ وہ سامنے آ کر سید محمد احمد سے معافی مانگے، چاہے سینیئر اداکار نے اس کا نام ظاہر نہ کر کے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہو۔ ان کے مطابق سید محمد احمد اس واقعے سے واضح طور پر افسردہ ہوئے ہیں، ورنہ وہ پوڈکاسٹ میں اس طرح اپنے دل کی بات نہ کرتے۔ سید جبران نے اس واقعے کو ’انتہائی افسوسناک اور شرمناک‘ قرار دیا۔

دوسری جانب سید محمد احمد نے بدھ کے روز انسٹاگرام پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر حمایت اور محبت کے اظہار پر شوبز برادری کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے لکھا، ’میں اپنے تمام ساتھی فنکاروں کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات، فون کالز اور وائس نوٹس پر بے حد متاثر ہوں۔ آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔ یہ دیکھ کر بہت حوصلہ ملا کہ آپ سب نے میرا ساتھ دیا اور میری حمایت میں کھڑے ہوئے۔‘
سید محمد احمد کا کہنا تھا کہ وہ اس ناخوشگوار واقعے کے بجائے لوگوں کی محبت اور مثبت پیغامات پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول ساتھی فنکاروں کی جانب سے ملنے والی محبت نے انہیں یہ احساس دلایا ہے کہ انڈسٹری میں گزارے گئے ان کے برس واقعی قابلِ قدر تھے۔
تاہم شوبز شخصیات کی جانب سے سید محمد احمد کی حمایت کے بعد اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب سوشل میڈیا پر شوٹنگ کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں سید محمد احمد کو ڈرامے کے سیٹ پر دیگر فنکاروں کے ساتھ موجود دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ایک موقع پر اداکار فہد شیخ انہیں ہیئر ڈرائر سے چھیڑتے اور مذاق کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے فہد شیخ کو ہی وہ اداکار قرار دیا جس کا ذکر سید محمد احمد نے اپنے پوڈکاسٹ میں کیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اداکار فہد شیخ کا موقف:

تنقید بڑھنے پر اداکار فہد شیخ نے انسٹاگرام سٹوریز کے ذریعے اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آدھی ادھوری کہانیاں ہمیشہ خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ انہی کی بنیاد پر ایک مخصوص تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس واقعے کو ’بدتمیزی‘ یا ’ہراساں کرنے‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، حقیقت میں معاملہ ایسا نہیں تھا۔ ان کے مطابق شوٹنگ کے دوران فنکار صرف ساتھی اداکار نہیں ہوتے بلکہ ایک خاندان کی طرح وقت گزارتے، ہنستے، ایک ساتھ کھانا کھاتے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے ہیں۔
فہد شیخ نے بتایا کہ یہ سید محمد احمد کے ساتھ ان کا پہلا ڈرامہ نہیں تھا بلکہ وہ ماضی میں بھی متعدد ڈراموں میں ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کے بقول دونوں کے درمیان دوستانہ تعلق تھا اور سیٹ پر اکثر ہنسی مذاق ہوتا رہتا تھا، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ سید محمد احمد کی جانب سے خود شروع کیا گیا مذاق کس مرحلے پر انہیں ایسا محسوس کرانے لگا کہ جیسے ان کے ساتھ بدتمیزی کی جا رہی ہو، کیونکہ کسی کی بھی نیت انہیں تضحیک کا نشانہ بنانے کی نہیں تھی۔












