Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب انڈیا نے امریکی سفارتخانے سے رکاوٹیں ہٹائیں، 2013 کی یادیں کیوں لوٹ آئیں؟

دسمبر 2013 میں انڈیا اور امریکہ ایک ایسی سفارتی کشیدگی میں الجھ گئے جو حالیہ یادداشت میں سب سے نمایاں تھی۔ اس تنازع کی وجہ نیویارک میں انڈیا کی ڈپٹی قونصل جنرل دیویانی کھوبرگاڈے کی گرفتاری تھی، جنہیں امریکی وفاقی ایجنٹس نے ان کی گھریلو ملازمہ سے متعلق ویزا فراڈ کے الزام میں حراست میں لیا۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ معاملہ محض قانونی تنازع نہیں رہا تھا بلکہ گرفتاری کے طریقہ کار نے اسے سفارتی بحران میں بدل دیا تھا۔ کھوبرگاڈے کو ان کی بیٹی کے سکول کے باہر ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کیا گیا، امریکی مارشل سروس نے ان کی تلاشی لی، اور انہیں عام مجرموں اور منشیات کے عادی افراد کے ساتھ ایک سیل میں رکھا گیا۔
امریکی حکام نے بعد میں وضاحت کی کہ یہ ’معمول کا طریقہ کار‘ تھا، لیکن اس وضاحت نے انڈیا میں غصہ کم کرنے کے بجائے مزید شدت پیدا کی۔ انڈیا نے غیرمعمولی تیزی اور سختی سے ردعمل دیا۔ قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن نے اس سلوک کو ’قابلِ نفرت اور وحشیانہ‘ قرار دیا۔
انڈین حکومت نے امریکی قونصلر عملے کے ایئرپورٹ پاس اور سفارتی سہولتیں واپس لے لیں، سفارتخانے کے سکول کے ملازمین کے ویزا انتظامات کی جانچ شروع کی، اور سب سے علامتی قدم یہ اٹھایا کہ نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کے باہر لگے کنکریٹ کے رکاوٹیں ہٹا دیں۔
یہ اقدام ایک واضح پیغام تھا کہ باہمی احترام یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے بھی امریکی وفد سے ملاقات سے انکار کر دیا۔ پیغام بالکل واضح تھا کہ انڈیا اپنی قومی عزت اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی پر قیمت وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔
2026  کا بحران
بارہ سال بعد ایک نیا بحران اسی سوال کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔ جون 2026 میں تین انڈین تاجر ملاح آدتیہ شرما، شیوانند چورسیا، اور پٹنالا سریش امریکی فوجی کارروائی میں ہلاک ہو گئے جب واشنگٹن نے ایرانی تیل کی ترسیل روکنے کے لیے خلیج عمان میں تجارتی جہازوں پر حملہ کیا۔
ان کی موت نے انڈیا میں غم اور غصہ پیدا کیا۔ وزارتِ خارجہ نے امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو طلب کر کے اس کارروائی کو ’المناک اور قابلِ اجتناب‘ قرار دیا۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے براہِ راست بات کی اور ’سخت احتجاج‘ درج کرایا۔

کانگریس کے رکن ششی تھرور نے اسے ’انتہائی چونکا دینے والا‘ کہا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم امریکی بیان میں انڈین احتجاج یا ملاحوں کی ہلاکت کا ذکر نہیں تھا۔ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صرف یہ کہا کہ تجارتی جہازوں کو امریکی ہدایات ماننی ہوں گی اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ تضاد انڈیا میں شدید تنقید کا باعث بنا۔ کانگریس کے رکن ششی تھرور نے اسے ’انتہائی چونکا دینے والا‘ کہا۔
سابق خارجہ سیکریٹری نروپما راؤ نے کہا کہ آج کی عالمی سیاست زیادہ تر پابندیوں، ناکہ بندیوں اور دباؤ کی زبان بولتی ہے، جبکہ سفارتکاری صرف بعد میں معاملات سنبھالتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013 کے بحران کے وقت جے شنکر واشنگٹن میں انڈیا کے سفیر تھے، اور آج وہ بطور وزیرِ خارجہ اسی نوعیت کے بحران سے نمٹ رہے ہیں۔
2013  میں انڈیا نے رکاوٹیں ہٹائیں اور پیغام سمجھا گیا۔ 2026 میں سوال یہ ہے کہ کیا صرف سفارتی احتجاج اتنی ہی طاقت رکھتا ہے جتنی کبھی رکھتا تھا۔

 

شیئر: