Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طائف کے قلب میں واقع قصر الکعکی، حجازی فنِ تعمیر اور تاریخ کا نادر شاہکار

طائف شہر کے قلب میں واقع قصر الکعکی آج بھی اپنے شاندار ماضی اور عظیم معماری ورثے کی جھلک پیش کرتا ہے۔ اس تاریخی محل کو دیکھ کر عہدِ رفتہ کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔
محل کے منقش در و دیوار اور خوبصورتی سے مزین چوبی کھڑکیاں اس کے شاندار ماضی اور عظمتِ رفتہ کی داستانیں سناتی ہیں۔
علاقائی تاریخ کے ماہر ڈاکٹر احمد السعدی نے الاخباریہ کو بتایا کہ اسے ماضی میں ’بیت الکعکی‘ یا ’قصر الکعکی‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
’اگر ہم قدیم و تاریخی مقامات کے حوالے سے بات کریں تو یہ واضح ہے کہ مملکت میں متعدد تاریخی، قدیم محلات و مقامات موجود ہیں۔ ان میں الکعکی محل شامل ہے جو حجازی طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس محل کی تعمیر میں مقامی تعمیری مواد استعمال کیا گیا۔‘
اس تاریخی مقام کے تحفظ کے لیے کام کیا جا رہا ہے تاکہ اسے آنے والی نسلوں اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔

 سعودی عرب کے تاریخی مکانات کی ویب سائٹ کے مطابق قصر الکعکی کو محمد عثمان القرشی نے سال ہجری 1358 میں تعمیر کرایا اور اس عمارت کی تعمیر دو برس میں مکمل ہوئی۔
محل کا نام علاقے کے مشہور خاندان الکعکی کے نام پر پڑا جو اس محل میں سکونت پذیر رہا تھا۔ بعد ازاں اس محل کو موسم گرما میں آنے والے سیاحوں کے لیے بھی مخصوص کیا گیا۔
قصر الکعکی، طائف شہر کے علاقے السلامہ میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں شارع ابی جعفر المنصور ہے جبکہ مغربی جانب شارع القرطبی اور شمالی سمت السیوطی روڈ ہے۔

اس محل کا رقبہ 1275 مربع میٹر ہے۔ تین منزلوں پر مشتمل اس محل میں 40 کمرے، 6 باورچی خانے اور 10 طہارت خانے تھے۔
عمارت میں وسیع و عریض باغیچہ بھی تھا جس میں انواع و اقسام کے مقامی پھل دار درخت اور پھولوں کے پودے علاقے کو معطر کیے رکھتے تھے۔
باغ میں میٹھے پانی کا کنواں تھا جس سے محل میں رہنے والوں کے لیے ٹھنڈا پانی فراہم کیا جاتا تھا۔

 

شیئر: