Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجران میں انجیر کی 23 اقسام کی کاشت، سالانہ پیداوار 650 ٹن تک پہنچ گئی

 نجران ریجن مملکت کے اہم ترین زرعی علاقوں میں سے ایک ہے جہاں حالیہ برسوں کے دوران موسمی پھلوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نجران ریجن میں انجیر کی کاشت ایک روایتی پریکٹس سے بدل کر ایک اہم منافع بخش سرمایہ کاری کے شعبے میں تبدیل ہو چکی  ہے جو نیشنل فوڈ سکیورٹی اور رورل ہاؤس ہولڈ انکم میں حصہ ڈالتی ہے۔
مقامی تحقیقی مراکز کے تعاون سے کسان اب تک انجیر کی 23 مقامی اور درآمد شدہ اقسام متعارف کرا چکے ہیں جو زیادہ پیداوار اور طویل برداشت کے موسم کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ انجیر کا سیزن ہر برس جون کے آغاز سے اکتوبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے نجران ریجن میں ڈائریکٹر جنرل انجینیئر مریح بن شارع الشھرانی کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آمدنی کے ذرائع میں تنوع، پائیدار ترقی اور زرعی سرمایہ کاری کے فروغ کی قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
’انجیر کی کاشت سرمایہ کاری کے حوالے سے اہمیت اختیار کر چکی ہے جو کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر خود کفالت اور رسد کے نظام کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔‘

ان کے مطابق ’نجران اور اس سے ملحقہ کمشنریوں میں انجیر کی سالانہ پیداوار تقریباً 650 ٹن تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس کی کاشت تقریباً 35 ہیکٹر رقبے پر کی جا رہی ہے۔ اس سے مقامی منڈیوں کو پھلوں کی فراہمی میں خطے کا کردار مزید مستحکم ہو رہا ہے۔‘
نجران میں کاشت کی جانے والی نمایاں اقسام میں سبز اور سنہری عسلی انجیر، کعب الغزال انجیر، رنگا رنگ یورپی انجیر اور مراکشی انجیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ منظور شدہ بین الاقوامی اقسام جیسے برون ترکی، کادوٹا اور وائٹ کنگ بھی کاشت کی جا رہی ہیں۔
وزارت کی جانب سے خشک انجیر تیاری، پیکجنگ اور فوڈ سیفٹی کے معیار کے مطابق پروسیسنگ منصوبوں کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جبکہ پانی اور گرمی کے دباؤ کو برداشت کرنے والی نئی اقسام کی تیاری کے لیے جنیاتی بہتری کے پروگرامں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

انجیر کی کاشت اور پیداوار سے منسلک افراد کو جدید سپلائی چینز اور مارکیٹنگ نیٹ ورکس سے جوڑنے، نجی شعبے اور تحقیقی مراکز کے درمیان شراکت داریوں کو فروغ دینے اور کسانوں کو پانی کے موثر استعمال، توانائی کی بچت کے حوالے سے بھی طریقۂ کار کی تربیت فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق نجران میں انجیر کی کاشت کو ایک پائیدار اور منافع بخش زرعی ماڈل میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، جو نہ صرف غذائی تحفظ کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ مقامی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

 نجران کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ریجن کی بیشتر انجیر کی پیداوار ذائقے، رنگ اور معیار کے لحاظ سے بہترین درجے کی ہیں، جس کے باعث اس کا بڑا حصہ تازہ پھل کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے جبکہ باقی مقدار خشک انجیر کی تیاری کے لیے مختص کی جاتی ہے جس کی مقامی اور علاقائی منڈیوں میں اچھی طلب ہے۔

شیئر: