پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گورنمنٹ ایم اے او کالج میں جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کے لیے ایک خصوصی امتحان منعقد کیا گیا جس میں تقریباً 250 طلبہ نے شرکت کی۔
یہ امتحان کورین زبان سیکھنے والے ان طلبہ کے لیے تھا جو مستقبل میں جنوبی کوریا جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امتحان جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کی ٹیم کی نگرانی میں منعقد ہوا جو سوالنامہ تیار کرنے سے لے کر امتحانی عمل کی نگرانی تک تمام مراحل خود انجام دیتی ہے۔
مزید پڑھیں
-
سعودی فلم فیسٹیول کا اپریل میں انعقاد، کورین سنیما پر توجہ ہوگیNode ID: 900745
گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور کی پرنسپل ڈاکٹر عالیہ رحمان خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پنجاب حکومت اور جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے اشتراک سے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ کو پہلے کورین زبان سکھائی جاتی ہے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا میں دو سالہ ڈپلومہ پروگرام میں داخلے کے اہل ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق طلبہ کو انگریزی کے ساتھ ساتھ کورین زبان سیکھنا ہوتی ہے اور زبان کے لیول ٹو امتحان میں کامیابی کے بعد انہیں ٹانگ وانگ یونیورسٹی میں داخلہ مل سکتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عالیہ رحمان خان بتاتی ہیں ’جو طلبہ امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں انہیں مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے جبکہ مخصوص نمبر حاصل کرنے والے طلبہ بھی جنوبی کوریا میں مفت تعلیم کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ بیچ میں ہمارے چار طلبہ مکمل سکالرشپ پر جنوبی کوریا گئے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’پچھلی بار 25 پاکستانی طلبہ کے ویزے لگے تھے اور وہ خود ان کے ساتھ جنوبی کوریا گئی تھیں تاکہ انہیں یونیورسٹی اور ہاسٹل میں سیٹل ہونے میں مدد فراہم کی جا سکے۔‘
ان کے بقول ’وہاں طلبہ کو صرف تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ انہیں جز وقتی ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں جس سے بہت سے طلبہ اپنی اگلی تعلیمی فیس کا انتظام خود کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ کو ملازمت کے مقامات تک لے جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری بھی نبھاتی ہے۔ وہاں جا کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ ہمارے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں۔‘ ان کے مطابق کورین زبان سیکھنے کے لیے انٹر میں 70 فیصد یا اس سے زائد نمبر درکار ہوتے ہیں جس کے بعد زبان سکھائی جاتی ہے اور پھر ویزے کا عمل شروع کروا کر بچوں کو کوریا بھیجا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عالیہ نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ ان کے مطابق ’ایک پاکستانی طالبہ نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے تحفہ خریدا کیونکہ اس کے خیال میں جنوبی کوریا میں یونیورسٹی انتظامیہ نے والدین کی طرح ان کی دیکھ بھال کی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت پنجاب کے علاوہ سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی طلبہ اس پروگرام میں شامل ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں بغیر کسی فیس کے کورین زبان سکھائی جا رہی ہے۔‘
ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے صدر اور جنوبی کوریا کے ٹیکنیکل ایجوکیشن پروگرام کے سربراہ چے جونگ اِن نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ منصوبہ پاکستانی سفارت خانے، حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے تعاون سے بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا۔‘
ان کے مطابق ’پاکستانی طلبہ کورین زبان سیکھنے کے بعد سٹڈی ویزے پر جنوبی کوریا جا سکتے ہیں جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے ’ہماری یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کو 40 فیصد سکالرشپ دی جاتی ہے جبکہ باقی 60 فیصد فیس حکومت ادا کرتی ہے۔‘ چے جونگ اِن کے مطابق اب تک جنوبی کوریا پہنچنے والے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ کے مقابلے میں پاکستانی طلبہ نے بہترین نتائج دیے ہیں اور انہیں وہاں کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’لاہور میں ایم اے او کالج، کوئن میری کالج، سائنس کالج اور ہوم اکنامکس کالج میں کورین زبان سکھانے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ہر چھ ماہ بعد امتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب طلبہ سکالرشپ کے ساتھ جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔‘













