Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب کے طلبہ کورین زبان سیکھ کر جنوبی کوریا کیسے جا رہے ہیں؟

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گورنمنٹ ایم اے او کالج میں جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کے لیے ایک خصوصی امتحان منعقد کیا گیا جس میں تقریباً 250 طلبہ نے شرکت کی۔
یہ امتحان کورین زبان سیکھنے والے ان طلبہ کے لیے تھا جو مستقبل میں جنوبی کوریا جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امتحان جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کی ٹیم کی نگرانی میں منعقد ہوا جو سوالنامہ تیار کرنے سے لے کر امتحانی عمل کی نگرانی تک تمام مراحل خود انجام دیتی ہے۔
گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور کی پرنسپل ڈاکٹر عالیہ رحمان خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پنجاب حکومت اور جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے اشتراک سے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ کو پہلے کورین زبان سکھائی جاتی ہے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا میں دو سالہ ڈپلومہ پروگرام میں داخلے کے اہل ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق طلبہ کو انگریزی کے ساتھ ساتھ کورین زبان سیکھنا ہوتی ہے اور زبان کے لیول ٹو امتحان میں کامیابی کے بعد انہیں ٹانگ وانگ یونیورسٹی میں داخلہ مل سکتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عالیہ رحمان خان بتاتی ہیں ’جو طلبہ امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں انہیں مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے جبکہ مخصوص نمبر حاصل کرنے والے طلبہ بھی جنوبی کوریا میں مفت تعلیم کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ بیچ میں ہمارے چار طلبہ مکمل سکالرشپ پر جنوبی کوریا گئے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’پچھلی بار 25 پاکستانی طلبہ کے ویزے لگے تھے اور وہ خود ان کے ساتھ جنوبی کوریا گئی تھیں تاکہ انہیں یونیورسٹی اور ہاسٹل میں سیٹل ہونے میں مدد فراہم کی جا سکے۔‘
ان کے بقول ’وہاں طلبہ کو صرف تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ انہیں جز وقتی ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں جس سے بہت سے طلبہ اپنی اگلی تعلیمی فیس کا انتظام خود کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ کو ملازمت کے مقامات تک لے جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری بھی نبھاتی ہے۔ وہاں جا کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ ہمارے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں۔‘ ان کے مطابق کورین زبان سیکھنے کے لیے انٹر میں 70 فیصد یا اس سے زائد نمبر درکار ہوتے ہیں جس کے بعد زبان سکھائی جاتی ہے اور پھر ویزے کا عمل شروع کروا کر بچوں کو کوریا بھیجا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عالیہ نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ ان کے مطابق ’ایک پاکستانی طالبہ نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے تحفہ خریدا کیونکہ اس کے خیال میں جنوبی کوریا میں یونیورسٹی انتظامیہ نے والدین کی طرح ان کی دیکھ بھال کی تھی۔‘

اریبہ کے مطابق جنوبی کوریا کی ایک بڑی کشش وہاں کا محفوظ ماحول ہے (فوٹو: اردو نیوز)

انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت پنجاب کے علاوہ سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی طلبہ اس پروگرام میں شامل ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں بغیر کسی فیس کے کورین زبان سکھائی جا رہی ہے۔‘
ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے صدر اور جنوبی کوریا کے ٹیکنیکل ایجوکیشن پروگرام کے سربراہ چے جونگ اِن نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ منصوبہ پاکستانی سفارت خانے، حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے تعاون سے بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا۔‘
ان کے مطابق ’پاکستانی طلبہ کورین زبان سیکھنے کے بعد سٹڈی ویزے پر جنوبی کوریا جا سکتے ہیں جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے ’ہماری یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کو 40 فیصد سکالرشپ دی جاتی ہے جبکہ باقی 60 فیصد فیس حکومت ادا کرتی ہے۔‘ چے جونگ اِن کے مطابق اب تک جنوبی کوریا پہنچنے والے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ کے مقابلے میں پاکستانی طلبہ نے بہترین نتائج دیے ہیں اور انہیں وہاں کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’لاہور میں ایم اے او کالج، کوئن میری کالج، سائنس کالج اور ہوم اکنامکس کالج میں کورین زبان سکھانے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ہر چھ ماہ بعد امتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب طلبہ سکالرشپ کے ساتھ جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔‘

اس وقت پنجاب کے علاوہ سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی طلبہ اس پروگرام میں شامل ہیں (فوٹو: اردو نیوز)

چے جونگ اِن اب تک ایک سال میں پاکستان کے سات دورے کر چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں ایک سال میں ساتویں مرتبہ پاکستان آیا ہوں۔ ہر بار یہاں سے کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہاں کے نوجوانوں میں بہت صلاحیت موجود ہے۔‘
ہوم اکنامکس کالج کی طالبہ اریبہ علی بھی امتحان میں شریک طلبہ میں شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران انہیں کورین زبان کی باقاعدہ تربیت دی گئی اور چھٹیوں کے دوران بھی آن لائن کلاسز کا سلسلہ جاری رہا۔
اریبہ کے مطابق جنوبی کوریا کی ایک بڑی کشش وہاں کا محفوظ ماحول ہے۔ وہ اس حوالے سے بتاتی ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ جنوبی کوریا دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ خواتین کسی بھی وقت اپنے کام کے لیے باہر جا سکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سی پاکستانی طالبات وہاں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔‘
اریبہ علی کا کہنا تھا کہ ’وہ کورین ثقافت اور خوراک میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں اور دو سالہ ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد اسی شعبے میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔‘

شیئر: