Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ثقافت، ورثہ اور مملکت میں تبدیلی: فن پاروں کے ذریعے کورین فنکار کا خراجِ تحسین

گزشتہ برس مارچ میں گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے کِم کے کام کی تعریف کی (فوٹو: عرب نیوز)
تین دہائیوں تک کوریا کے فنکار کِم سنگ بے، سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے تبدیلی سے گزرتے ہوئے لینڈ سکیپ کو اپنی پینٹنگز کے ذریعے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ اس کام میں وہ روایتی کوریائی طریقوں اور عرب کے ثقافتی موضوعات کو ملا کر ایسے فن پاروں میں اکٹھا کر چکے ہیں جن کی تعداد 200 سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
کِم، سنہ 1990 سے الخبر میں رہ رہے ہیں جہاں فیصل آرٹ گیلری سے اُن کی طویل رفاقت کا آغاز ہوا تھا جس نے فنی تخلیق کی صورت اختیار کر لی۔
اُن کی پینٹنگز کا محرک ثقافت، ورثہ اور مملکت میں آئی ہوئی تبدیلی ہے۔ ان کے بنائے ہوئے فن پارے، کنگ فیصل سٹریٹ پر واقع گیلری میں موجود ہیں۔
عرب نیوز کے ساتھ ایک انٹریو میں کِم نے بتایا کہ سعودی عرب سے اُن کے تعلق کا آغاز سنہ 1978 میں ہوا جب انھوں نے آئل آن کینوس سے اپنی تخلیقات کی ابتدا کی۔ اس تخلیقی سفر میں انھوں نے صرف ثانوی ذرائع کے بجائے ذاتی تجرے پر انحصار کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’تخیل کی بھی بہر حال ایک حد ہوتی ہے۔ لہذا تخلیقی سفر کو جاری رکھنے کے لیے اصل مقامات پر جا کر تحقیق کرنا انتہائی اہم ہے۔
اس خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے انھوں نے سنہ 1985 میں الخبر کو اپنا ٹھکانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے دو برس دمام، ریاض اور جدہ کے دوران سفر میں گزارے تاکہ خود مملکت کے تجربے کا احساس حاصل کر سکیں۔
سنہ 1990 میں کِم نے فیصل آرٹ گیلری کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو ایک ایسی شراکت میں بدل گیا جو اب تک جاری ہے۔

کِم سنگ نے مملکت میں منعقد ہونے والی کئی گروپ نمائشوں اور ورکشاپس میں شرکت کی ہے (فوٹو: بشکریہ عرب نیوز)

روایتوں کے فیوژن (اِدغام) کی صورت میں کِم کا فن بہت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ وہ مشرقی کوریائی پینٹنگز کے اصولوں سے تحریک لیتے ہیں اور سپیس اور ’خالی پن کے حُسن‘ پر بہت زور دیتے ہیں۔
وہ سعودی چیزوں پر تالیفی یا امتزاجی فلسلفے کا اطلاق کرتے ہیں اور اکثر کوریا کے روایتی ہاتھ سے بنے کاغذ کو کام میں لاتے ہیں جسے ’ہنجی‘ کہا جاتا ہے۔
کِم کا کہنا ہے کہ ’کوریائی پینٹنگ سپیس پر اصرار کرتی ہے۔ میں اِس تالیفی انداز کو سعودی اشیا کے ساتھ جوڑ کر ایک بالکل نیا تخیل سامنے لاتا ہوں۔‘
وہ ایسا سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور سب سے پہلے رنگوں کو منتخب کرتے ہیں اور پھر اُن کی ترتیب کو تاکہ ایک ہی شکل یا رنگ بار بار استعمال میں نہ آئے اور اِس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اُن کا ہر فن پارہ کسی نہ کسی طرح مختلف ہو۔
اُن کے لیے ہر سعودی شہر کی اپنی جمالیاتی شناخت ہے۔ قطیف کی مچھلیاں پکڑنے والی کشتی ہو یا العقیر کی پرانی بندرگاہ یا پھر الاحسا کے تاریخی علاقے۔۔۔ کِم جب اِس تنوع کو دستاویزی بناتے ہیں تو اُن میں تفاخر اور تکمیل کا جذبہ تسکین پاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جدید زمانے میں تیز ترین تبدیلی کے رجحان کی وجہ سے الخبر میں بالخصوص بہت کچھ بدل گیا ہے۔ گو آج کا شہر جدید اور سمارٹ بن گیا لیکن کِم کو ماضی کی بصری شاعری اپنی طرف آج بھی ویسے ہی کھینچتی ہے۔

سنہ 1990 میں کِم سنگ نے فیصل آرٹ گیلری کے ساتھ معاہدہ کیا تھا (فوٹو: بشکریہ عرب نیوز)

سنہ 1943 میں تعمیر ہونے والی کنگ خالد سٹریٹ کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کِم کہتے ہیں ’میں پرانی روایتی گلیوں اور الخبر کی نایاب تصویروں میں فنی احساس ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘ 
دیواروں پر آویزاں 50 اور 60 کی دہائی کے فوٹوگراف اور شاپنگ کے علاقوں میں واقع پرانے کیفے اُن کے کینوس کے لیے ایک استعارے کا کام دیتے ہیں۔
کِم نے مملکت میں منعقد ہونے والی کئی گروپ نمائشوں اور ورکشاپس میں شرکت کی ہے اور بقول اُن کے وہ کوریا میں بھی اتنے ایونٹس میں شریک نہیں ہوئے جتنے سعودی عرب کی مختلف تقاریب میں شریک ہوئے ہیں۔
وہ بہت شوق سے الظھران کے آرامکو بازار، راس تنورہ اور العضیلیہ میں اثراء کے واٹر کلر کورسز کو یاد کرتے ہیں۔
گزشتہ برس مارچ میں مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے اُن سے ملاقات کی اور اُن کے کام کی تعریف کی۔ کِم کو گروپ نمائشوں کے دوران تعریفی خطوط بھی دیے گئے ہیں۔

کِم سنگ نے اپنے فن پاروں میں سعودی ثقافت اور ورثے کو دکھایا ہے (فوٹو: بشکریہ عرب نیوز)

ان کے مشہور فن پاروں میں ’واریئرز‘ شامل ہے جو اونٹوں پر سوار جنگجوؤں کی تصویر کشی ہے جس میں کوریائی پینٹنگ کے طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’یہ فن پارہ میری روح اور جسم کا امتزاج ہے۔
البتہ انھیں ایک شکایت ہے کہ اِس کام میں عوامی شرکت زیادہ وسیع نہیں ہے اور ایسے فنکاروں کی تعداد بھی زیادہ نہیں جن کے ساتھ مل کر وہ کام کر سکیں۔ انھیں افسوس ہے کہ وہ اپنے کسی جانشین کی تربیت بھی نہیں کر سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے جس کیریئر کو اپنایا اِس میں مسلسل کوشش اور ہمہ وقت مشق درکار ہے۔
سعودی عرب میں ایک پروفیشنل آرٹسٹ کے طور پر کِم نہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اُن کا فن بلندیوں کو چھوئے بلکہ وہ ’فرصت و آرام کے لمحات کی خوبیوں، اور برداشت اور لطف و عنایات جیسے اوصاف کو زندگی گزارنے کے طریقوں‘ کے طور پر مجسم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ جب بھی ضرورت ہو وہ کسی نہ کسی طور پر فن تخلیق کرتے رہیں اور اُن کا ارادہ ہے کہ جب تک صحت اور حالات اجازت دیں، وہ اپنا کام جاری رکھیں۔

شیئر: