G7 میں فوٹو تنازع: ٹرمپ کا ’بار بار تصویر کی درخواست‘ کا دعویٰ، اطالوی وزیراعظم میلونی برہم
جارجیا میلونی نے انسٹاگرام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ’مسلسل، بلاجواز اور بے معنی حملے ناقابلِ فہم ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ’مسلسل اور بلاجواز حملے بے معنی ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کے دوران ان پر الزام لگایا کہ وہ بار بار ان کے ساتھ تصویر لینے کی خواہش مند تھیں۔
یہ تنازع ایک غیر معمولی طور پر ذاتی سفارتی کشیدگی میں تبدیل ہو گیا ہے، جس نے صدر ٹرمپ اور یورپ کی ایک اہم دائیں بازو کی رہنما کے درمیان دراڑ پیدا کر دی ہے۔ جارجیا میلونی نے ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خود کو امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر اطالوی ٹی وی چینل ‘La7’ کو بتایا تھا کہ میلونی نے جی سیون اجلاس کے دوران ان کے ساتھ تصویر اتارنے کے لیے ’منتیں‘ کیں، اور انہوں نے صرف اس لیے تصویر پر رضامندی ظاہر کی کیونکہ انہیں ’ترس آیا۔‘
جارجیا میلونی نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’من گھڑت‘ قرار دیا، تاہم ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ شوشل‘ پر دوبارہ دعویٰ دہرایا کہ میلونی نے اجلاس کے دوران بار بار تصویر کی درخواست کی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ میلونی امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ اندرونی سیاست میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکیں، خاص طور پر ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی حمایت نہ کرنے کے بعد۔
انہوں نے لکھا ’اب جب امریکہ نے ایران کو فوجی طور پر شکست دی ہے، وہ دوبارہ دوست بننا چاہتی ہیں تاکہ اپنے ’نمبرز‘ بہتر کر سکیں۔ نہیں شکریہ‘
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ میلونی اٹلی میں سیاسی طور پر کمزور پوزیشن میں ہیں اور یہ بھی کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ کو اطالوی فضائی اڈے یا رن ویز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
انہوں نے نیٹو پر بھی ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی حفاظت پر ’سینکڑوں ارب ڈالر‘ خرچ کرتا ہے، جبکہ اٹلی سمیت دیگر ممالک اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
جارجیا میلونی کا سخت جواب
جارجیا میلونی نے انسٹاگرام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ’مسلسل، بلاجواز اور بے معنی حملے ناقابلِ فہم ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی مقبولیت امریکہ کے صدر کے ساتھ تعلق پر منحصر نہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ’آپ کے ساتھ دوستی نے میری مقبولیت میں اضافہ نہیں کیا، اور نہ ہی یہ آپ کے ساتھ میرے تعلق پر منحصر ہے۔‘
انہوں نے امریکی فوجی اڈوں کے استعمال سے متعلق ٹرمپ کے دعووں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ تمام امور پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت ہوتے ہیں جن کی اٹلی نے ہمیشہ پاسداری کی ہے۔
جارجیا میلونی نے مزید کہا کہ ’بہرحال میری مقبولیت آپ کی فکر کا موضوع نہیں۔ میں تجویز کرتی ہوں کہ آپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔‘
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر مزید کوئی بیان نہیں دیں گی۔
سفارتی اثرات اور ردعمل
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ پہلے ہی یورپی اتحادیوں کے ساتھ یوکرین جنگ اور دیگر معاملات پر کشیدگی میں اضافہ کر چکے ہیں۔
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکہ کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا اور ٹرمپ کے ریمارکس کو ’سنگین اور توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے اٹلی کی توہین ہے۔
میلونی کی جماعت برادرز آف اٹلی کی رہنما ہونے کے ناطے انہیں یورپ میں ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں میں شمار کیا جاتا تھا، تاہم اس واقعے نے دونوں کے تعلقات میں واضح تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
اٹلی کے وزیر انصاف کارلو نورڈیو نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات ’اٹلی اور امریکہ کے تعلقات کے لیے ایک تکلیف دہ ضرب‘ ہیں، جبکہ وزیر دفاع گیڈو کروسیتو نے کہا کہ اس طرح کے ’مزاحیہ جملے کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتے۔‘