Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی صدور کو 30 سال اڑانے والا ’ایئر فورس ون‘ ریٹائر، نیا جہاز کون سا ہو گا؟

وائٹ ہاؤس کے حکام نے جمعرات کو ان دو طیاروں میں سے ایک کو الوداع کہا جو گزشتہ 30 برس سے زائد عرصے سے امریکی صدور کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق الوداعی پیغامات کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ خلیجی ریاست قطر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفے میں دیا گیا بوئنگ 747 اب سروس میں شامل ہونے والا ہے۔
امریکی صدر کا پرانا طیارہ دراصل دو خصوصی طور پر تبدیل کیے گئے 747 طیاروں میں سے ایک ہے، جنہیں عسکری اصطلاح میں وی سی-25 اے کہا جاتا ہے۔
یہ 1990 میں سروس میں آئے تھے اور جب صدر ان میں سوار ہوں تو انہیں ایئر فورس ون کہا جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔
تاہم رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اگلے ماہ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں ماؤنٹ رش مور کے دورے پر نئے قطری طیارے کی پہلی پرواز کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی فضائیہ نے مئی میں کہا تھا کہ قطری طیارہ اپنی آزمائشی پروازیں مکمل کر چکا ہے اور جلد استعمال کے لیے تیار ہوگا۔
جمعرات کو امریکی فضائیہ نے تصدیق کی کہ یہ قطری طیارہ، جسے وی سی-25 بی برج طیارہ کہا جاتا ہے، جلد ہی فعال صدارتی فضائی بیڑے کا حصہ بن جائے گا اور وی سی-25 اے اور سی-32 کے ساتھ شامل ہوگا۔
قطر کی جانب سے کروڑوں ڈالر مالیت کے اس طیارے کے تحفے نے بہت سے اخلاقی اور آئینی سوالات کو جنم دیا کہ ایک صدر کو بیرون ملک سے کس نوعیت کے تحائف قبول کرنے چاہییں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ سکیورٹی خدشات بھی سامنے آئے کہ ایک غیر ملکی طاقت کے عطیہ کردہ طیارے کو انتہائی حساس صدارتی طیارے کے طور پر استعمال کرنا کس حد تک محفوظ ہے؟
ایئر فورس ون کے طور پر استعمال ہونے والے طیاروں میں جدید دفاعی نظام موجود ہوتے ہیں جو دشمن کے ریڈار اور انفراریڈ سسٹمز کو ناکارہ بنا سکتے ہیں۔
ارب پتی صدر ٹرمپ اپنے پہلے صدارتی دور سے ہی ایئر فورس ون کو تبدیل کرنے کے خواہش مند رہے ہیں، حتیٰ کہ اوول آفس میں اپنی میز پر نئے رنگوں والے طیارے کا ماڈل بھی رکھتے تھے۔

شیئر: