Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فریڈم شپ‘: کیا سمندر پر ایک میل لمبا تیرتا ہوا شہر حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے؟

کمپنی نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈیزائنرز اور بحری معماروں کی ماہر ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے (فوٹو: دی ٹیلی گراف)
ایک ایسے بحری جہاز کا تصور کیجیے جو محض ایک جہاز نہ ہو بلکہ ایک میل لمبا تیرتا ہوا شہر ہو جہاں 80 ہزار لوگ بیک وقت رہ سکیں۔
یہ تصور پہلی بار 1990 کی دہائی میں امریکی انجینیئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا لیکن تین دہائیوں تک یہ صرف کاغذات اور نقشوں تک ہی محدود رہا۔
اب ایک کروز لائن کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس ’فریڈم شپ‘ کی مانگ اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایسے تین جہاز بنانا بھی کم پڑ جائیں گے۔
فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹیو راجر گوچ نے برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کو بتایا کہ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم اسے حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے خطیر سرمائے کا انتظام سب سے اہم کڑی ہے۔‘
کمپنی نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈیزائنرز اور بحری معماروں پر مشتمل ایک ماہر ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔
اسمبلنگ سمندر میں ہو گی
اگر کمپنی اس یادگار منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو اس کی تعمیر ایک غیر معمولی چیلنج ہو گی۔
یہ جہاز دنیا کے سب سے بڑے کروز شپ سے بھی 10 گنا بڑا ہو گا۔ اس کا ڈھانچہ اتنا بڑا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شپ یارڈ اسے اپنے اندر نہیں سما سکتا، اس لیے اس کے مختلف حصے الگ الگ بنا کر کھلے سمندر میں اسمبل کیے جائیں گے۔
یہ دیوہیکل جہاز 800 فٹ چوڑا اور 30 منزلہ اونچا ہو گا جس میں 50 ہزار مستقل رہائشیوں اور 10 ہزار سیاحوں کے رہنے کی گنجائش ہو گی جبکہ ان کی دیکھ بھال کے لیے 20 ہزار عملے کے ارکان موجود ہوں گے۔
چونکہ یہ جہاز کسی بھی بندرگاہ میں داخل نہیں ہو سکے گا اس لیے مسافروں کو لانے اور لے جانے کے لیے چھوٹے بحری جہازوں اور کشتیوں کا سہارا لیا جائے گا۔

اگر یہ خواب کبھی حقیقت بنتا ہے تو اس کا انجن ممکنہ طور پر ایٹمی توانائی سے چلے گا (فوٹو: یورو نیوز)

ہسپتال، سکول اور میڈیکل ریسرچ
یہ لفظی معنوں میں ایک تیرتا ہوا شہر ہوگا جس کا اپنا ہسپتال، سکول، بینک، دکانیں اور ریستوران ہوں گے۔
راجر گوچ کے مطابق کمپنی چاہتی ہے کہ کاروباری افراد اس جہاز پر بالکل اسی طرح جگہیں خریدیں یا کرائے پر لیں جیسے وہ زمین پر کسی سوسائٹی میں کرتے ہیں۔
اس منصوبے کا سب سے دلچسپ پہلو اس کا جدید ترین ہسپتال ہے۔
چونکہ یہ جہاز بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرے گا اور روایتی حکومتی قوانین اور ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار سے باہر ہو گا، اس لیے کئی طبی تحقیقی اداروں نے اس میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے تاکہ وہ یہاں آزادانہ ریسرچ کر سکیں۔
اگر یہ خواب کبھی حقیقت بنتا ہے تو اس کا انجن ممکنہ طور پر ایٹمی توانائی سے چلے گا۔
تاہم اس سمندری شہر کو پانی پر اتارنے کے لیے کمپنی کو سب سے پہلے 16 ارب ڈالر سے زائد کا بھاری سرمایہ اکٹھا کرنا ہو گا۔

شیئر: