بزرگوں میں عمر کے ساتھ جسم کا درجہ حرارت متوازن رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے (فائل فوٹو: فری پک)
موسم گرما میں شدید گرمی کے باعث رات کو سکون کی نیند سونا بعض اوقات ناممکن محسوس ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند نہ آنے کی فکر کرنا مسئلے کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔
’دی گارڈیئن‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک میں نیند کی معالج اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شیلبی ہیرس کا کہنا ہے کہ جب لوگ گرمی کی وجہ سے سو نہیں پاتے تو یہ صرف ایک جسمانی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ذہنی کشمکش بن جاتا ہے۔
لوگ بار بار گھڑی دیکھنے لگتے ہیں، کل کی تھکن کا سوچ کر پریشان ہوتے ہیں اور زبردستی سونے کی کوشش کرتے ہیں۔
لگاتار کئی راتیں سو نہ پانے سے انسان چڑچڑا، جذبات میں جلد بہنے والا اور روزمرہ کے تناؤ کو برداشت کرنے میں ناکام ہونے لگتا ہے۔
اگر آپ بھی گرمی کی لہر میں نیند کی کمی سے جوجھ رہے ہیں تو ماہرین کے مطابق اس کی سائنسی وجوہات اور حل درج ذیل ہیں۔
گرمی جسم اور دماغ پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
کولمبیا یونیورسٹی ارونگ میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر یائی سائی کے مطابق جسم کا قدرتی نظام اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ گرمی میں جلد کی طرف خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے اور پسینہ آتا ہے جس کے بھاپ بننے سے جسم ٹھنڈا ہوتا ہے۔ تاہم شدید گرمی اور حبس میں یہ نظام صحیح کام نہیں کرتا۔
نیند کی ماہر جینیٹ کینیڈی کے مطابق رات کے وقت جسم کا اندرونی درجہ حرارت قدرتی طور پر دو سے تین ڈگری گرتا ہے جس سے ’میلاٹونن‘ نامی ہارمون خارج ہوتا ہے جو دماغ کو سونے کا سگنل دیتا ہے۔ گرمی میں یہ درجہ حرارت کم نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے نیند کا ہارمون صحیح طریقے سے خارج نہیں ہوتا۔ کروٹیں بدلنے اور سونے کی ناکام کوشش سے جسم میں ’ایڈرینالین‘ ہارمون بڑھتا ہے، جو انسان کو مزید بیدار رکھتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر گرمی سے نیند نہ آئے تو بستر پر لیٹ کر کُڑھنے کے بجائے اٹھ جائیں، خود کو ٹھنڈا کریں اور دوبارہ غنودگی محسوس ہونے پر بستر پر جائیں۔
گرم راتوں کے لیے پیشگی تیاریاں
۔ دن کے وقت کمرے کے پردے اور بلائنڈز بند رکھیں تاکہ دھوپ اندر نہ آئے۔ رات کو درجہ حرارت کم ہو تو کھڑکیاں کھولیں۔
۔ اگر بیڈ روم میں اے سی نہیں ہے، تو گھر کے سب سے ٹھنڈے حصے یا نچلی منزل پر سوئیں۔
۔ سوتی یا لینن کی چادریں استعمال کریں۔ یہ کپڑے ہوا کی آمدورفت میں مدد دیتے ہیں، جبکہ ریشمی یا موٹے کپڑوں سے پرہیز کریں۔
جسم کا قدرتی نظام اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے (فال فوٹو: پکسابے)
۔ ڈھیلے ڈھالے اور باریک کپڑے پہن کر سوئیں۔
۔ گردن یا کلائیوں پر ٹھنڈا، گیلا تولیہ رکھیں۔ تکیے کے غلاف کو سونے سے کچھ دیر قبل فریزر میں رکھنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ پنکھے کے آگے برف سے بھرا برتن رکھنا کچھ حد تک ٹھنڈک فراہم کر سکتا ہے۔
سونے سے قبل کن باتوں سے پرہیز کریں؟
سونے سے قبل کیفین اور الکحل سے پرہیز کریں کیونکہ یہ گہری نیند میں خلل ڈالتے ہیں۔ بھاری کھانا کھانے سے بھی جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ گرمی میں پانی کا استعمال ضروری ہے، لیکن سونے سے ٹھیک پہلے بہت زیادہ پانی پینے سے بار بار باتھ روم جانا پڑتا ہے جس سے نیند ٹوٹتی ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت سخت ورزش کرنے سے بھی جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، لہٰذا ورزش صبح کے وقت کریں۔
شدید گرمی سے متاثر ہونے والے افراد
بزرگوں میں عمر کے ساتھ جسم کا درجہ حرارت متوازن رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، اس لیے وہ گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ شیر خوار بچے، چھوٹے بچے اور پالتو جانور بھی گرمی کی شدت جلد محسوس کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سائی کے مطابق اگر گرمی کی وجہ سے کسی کو الجھن محسوس ہو، غشی طاری ہونے لگے، پسینہ آنا بند ہو جائے یا جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہو جائے تو یہ ’ہیٹ سٹروک‘ کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو چیز آپ کے کنٹرول میں نہیں، اس پر غصہ یا پریشان نہ ہوں۔ غصے سے جسم مزید گرم ہوتا ہے اور نیند آنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔