سِکس پیک بنانے کا ’فلمی فارمولا‘، کیا سٹ اپس واقعی پیٹ کی بہترین ورزش نہیں؟
سِکس پیک بنانے کا ’فلمی فارمولا‘، کیا سٹ اپس واقعی پیٹ کی بہترین ورزش نہیں؟
جمعرات 30 جولائی 2026 5:37
’سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ‘ ڈاکٹر لی براؤن کے مطابق سٹ اپس کو بہترین ورزش سمجھنا ایک پرانا نظریہ ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
اگر آپ نے کبھی کسی فلم یا ٹی وی ڈرامے میں کسی اداکار کو سکس پیک ایبس بناتے دیکھا ہو تو غالب امکان ہے کہ وہ بار بار سٹ اپس کرتے ہوئے دکھائی دیا ہو گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصور حقیقت سے زیادہ فلمی دنیا کا حصہ ہے کیونکہ سٹ اپس پیٹ کے عضلات کو مضبوط بنانے کے لیے بہترین ورزش نہیں۔
’دی گارڈین‘ کے مطابق برطانیہ کی ’یونیورسٹی آف ایسٹ لندن‘ کے سینئر لیکچرر برائے ’سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ‘ ڈاکٹر لی براؤن کے مطابق سٹ اپس کو بہترین ورزش سمجھنا ایک پرانا نظریہ ہے جو باکسنگ کوچز کے طریقہ کار سے عام ہوا لیکن جدید تحقیق اس کی مکمل تائید نہیں کرتی۔
ڈاکٹر لی براؤن کا کہنا ہے کہ ’سٹ اپس کے دوران اگرچہ پیٹ کے عضلات کام کرتے ہیں، تاہم اس حرکت میں بنیادی کردار کولہے کے پٹھوں، خاص طور پر پسواس میجر نامی گہرے عضلے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سٹ اپس پیٹ کے عضلات کو اتنا مؤثر انداز میں نشانہ نہیں بناتے جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’حد سے زیادہ سٹ اپس کرنے سے جسم کو فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’مسلسل سٹ اپس کرنے سے کولہے کے پٹھے سخت اور کھنچے ہوئے ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کا توازن متاثر ہوتا ہے اور کمر کے نچلے حصے پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔ یہی دباؤ وقت کے ساتھ کمر درد اور دیگر مسائل کی وجہ بن سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر لی براؤن نے بتایا کہ ’مضبوط اور متوازن کور بنانے کے لیے سٹ اپس کے بجائے پلانک، سائیڈ پلانک، فارمرز کیری ، سوٹ کیس کیری اور برڈ ڈاگ جیسی ورزشیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق پائلیٹس اور یوگا بھی جسم کے درمیانی حصے کو مضبوط بنانے اور توازن بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے ایک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایک ایتھلیٹ کئی برسوں سے کمر کی تکلیف کا شکار تھا اور مسلسل سٹ اپس کرتا رہا لیکن اس کی حالت میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔
ایک ایتھلیٹ کئی برسوں سے کمر کی تکلیف کا شکار تھا (فائل فوٹو: پکسابے)
بعد ازاں جب اسے پلانک کرنے کا مشورہ دیا گیا تو ابتدا میں وہ صرف 30 سیکنڈ تک پلانک کر سکا، تاہم چھ ہفتوں کی باقاعدہ مشق کے بعد وہ مسلسل سات منٹ تک پلانک کرنے کے قابل ہو گیا اور اس کی کمر کا درد بھی ختم ہو گیا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مقصد صرف سکس پیک حاصل کرنا نہیں بلکہ مضبوط، متوازن اور صحت مند جسم بنانا ہے تو صرف ایک ہی ورزش پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف کور ایکسرسائزز کو معمول کا حصہ بنانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔