امریکہ، ایران مذاکرات نے حتمی معاہدے کے لیے بہترین بنیاد رکھ دی ہے: جے ڈی وینس
امریکہ، ایران مذاکرات نے حتمی معاہدے کے لیے بہترین بنیاد رکھ دی ہے: جے ڈی وینس
پیر 22 جون 2026 15:38
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک ’بہترین بنیاد‘ فراہم کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وسطی سوئٹزرلینڈ کے پرفضاء ریزورٹ ’برگن اسٹاک‘ میں اتوار سے شروع ہونے والے اور رات گئے تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات کے بعد پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا ’ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے بہت مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔‘
انہوں نے سفارتی عمل کو ایک استعارے کے ذریعے سمجھاتے ہوئے کہا ’حتمی معاہدہ ایک مکمل مکان کی مانند ہے۔ ابھی ہم نے صرف اس مکان کی بنیاد رکھی ہے، پورا مکان تعمیر نہیں کیا لیکن ہم نے ایک ایسی کامیاب بنیاد ضرور رکھ دی ہے جو امریکی عوام کے لیے ایک بہترین نتیجے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔‘
امریکی نائب صدر نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ ابھی سفارتی محاذ پر طویل سفر باقی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اب تک کتنا بڑا کام انجام دیا جا چکا ہے لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘
ان کے مطابق دونوں ممالک کو جوہری اور اقتصادی امور پر جاری مذاکرات میں مزید پیش رفت کرنی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو مائنز (بارودی مواد) سے پاک کرنے اور وہاں بحری ٹریفک کی روانی کو پہلے کی طرح بحال رکھنے کے لیے مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کو بڑھایا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جے ڈی وینس نے پرامید لہجے میں کہا کہ ’بہت زیادہ پیش رفت ہو چکی ہے لیکن کچھ کام اب بھی باقی ہے اور ہم اس کام کو مکمل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔‘
انہوں نے زور دے کر کہا کہ تزویراتی لحاظ سے اہم ترین بحری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ اب کھل چکی ہے اور وہاں سے خام تیل اور قدرتی گیس کے لاکھوں بیرل گزر رہے ہیں جو اس سے پہلے (جنگ کی وجہ سے) رکے ہوئے تھے۔
پاکستان اور قطر کا کلیدی ثالثی کردار
جھیل لوسرن کے کنارے واقع برگن اسٹاک کے پُرتعیش کمپلیکس میں ہونے والے ان انتہائی اہم مذاکرات کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان میں پاکستان اور قطر نے مشترکہ طور پر ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کی اس کامیاب سفارت کاری نے عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر امریکی نائب صدر نے بتایا کہ وہ اب امریکہ واپس روانہ ہو رہے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ برگن اسٹاک میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ’تکنیکی سطح پر‘ بات چیت کا سلسلہ آئندہ آنے والے دنوں اور ہفتوں تک بدستور جاری رہے گا۔