خشک سالی کے خاتمے کے بعد عراق میں چاول کی پیداوار پھر شروع، مگر مستقبل غیر یقینی
خشک سالی کے خاتمے کے بعد عراق میں چاول کی پیداوار پھر شروع، مگر مستقبل غیر یقینی
بدھ 24 جون 2026 6:01
عراق اپنی 70 فیصد آبی ضروریات کے لیے ہمسایہ ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)ا
عراق کے صوبہ نجف کے علاقے المشخاب میں کسان علاء الابراہیمی کئی برسوں بعد دوبارہ اپنے کھیت میں چاول کاشت کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ سال میں نے ایک بھی دونم زمین پر کاشت نہیں کی تھی۔ اس سال، اللہ کے فضل سے ہمیں پانی مل گیا ہے۔‘
اسی دوران مزدور ان کے تقریباً 100 دونم (25 ہیکٹر) رقبے پر انبار چاول کی بوائی کر رہے تھے، جو ان کی پسندیدہ قسم ہے۔
کئی سالہ خشک سالی کے بعد، جس نے پانی کے ذخائر کو تاریخ کی کم ترین سطح تک پہنچا دیا تھا اور پانی زیادہ استعمال کرنے والی فصلوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں، اب شدید بارشوں اور عراق کے ہمسایہ ممالک سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے نے چاول کے کاشتکاروں کو دوبارہ اپنے کھیت پانی سے بھرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اس بنیادی غذائی فصل کی کاشت گزشتہ چار برسوں میں اپنی سب سے بلند سطح تک پہنچ گئی ہے، جس سے الابراہیمی جیسے کسانوں کو معاشی ریلیف ملا ہے اور حکومت کی خوراک میں خود کفالت کی کوششوں کو بھی تقویت ملی ہے۔
تاہم، اگرچہ مراکش سے شام تک پھیلے خطے میں زرعی حالات میں یہ بہتری خوش آئند ہے، لیکن یہ اب بھی غیر مستحکم ہے، خاص طور پر عراق میں، جسے اقوام متحدہ کے مطابق موسمیاتی خطرات کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا جاتا ہے۔
ملک کو طویل مدت میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور کم ہوتی بارشوں کا سامنا ہے۔
عراق کلائمیٹ چینج سینٹر کے بانی اور آبی ماہر ہیری سٹیپینین نے کہا کہ ’بحالی حقیقی ہے، لیکن ابھی پائیدار نہیں۔ صرف ایک خشک موسم ہی ان تمام فوائد کو ختم کر سکتا ہے۔‘
پانی کی سطح میں اضافہ، چاول کی پیداوار میں نمایاں بہتری
عراق میں چاول ایک بنیادی غذا ہے اور یہ ان فصلوں میں شامل ہے جنہیں سب سے زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ عموماً اسے پانی سے بھرے ہوئے کھیتوں میں اگایا جاتا ہے۔
گزشتہ سال خشک سالی کے باعث وزارتِ زراعت نے صرف 200 دونم زمین پر چاول کی کاشت کی اجازت دی تھی، لیکن اس موسمِ گرما میں تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار دونم زمین پر کاشت کی منظوری دے دی گئی ہے۔
نائب وزیرِ زراعت مہدی سحر الجبوری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس نمایاں توسیع کی وجہ دریائے دجلہ اور فرات میں پانی کی وافر مقدار ہے۔‘
ہیری سٹیپینین کے مطابق، عراق کے آبی ذخائر، جو گزشتہ سال ملک کی بدترین آبی بحران کے دوران تقریباً 4.5 ارب مکعب میٹر تھے، 2026 میں بڑھ کر تقریباً 30 ارب مکعب میٹر تک پہنچ گئے ہیں۔
جہاں گزشتہ سال چاول کی فصل نہ ہونے کے برابر تھی، وہیں عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں پیداوار تقریباً 3 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔
نائب وزیرِ زراعت مہدی سحر الجبوری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس نمایاں توسیع کی وجہ دریائے دجلہ اور فرات میں پانی کی وافر مقدار ہے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
اس پیداوار کا زیادہ تر حصہ حکومت خریدے گی اور عراق کے طویل عرصے سے جاری غذائی راشن پروگرام کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا، جو کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی نرخوں پر بنیادی غذائی اجناس فراہم کرتا ہے۔
اس کے باوجود وزارتِ زراعت کے مطابق ملکی طلب پوری کرنے کے لیے عراق کو تقریباً 8 لاکھ ٹن چاول درآمد کرنا پڑیں گے۔
دوسری جانب کسان بھی کاشت کی پابندیوں میں نرمی سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے سرگرم ہو گئے ہیں۔
اگرچہ خوشبودار انبار چاول زیادہ پسند کیے جاتے ہیں اور بہتر قیمت حاصل کرتے ہیں، لیکن بہت سے کسان زیادہ منافع کے لیے جیسمین قسم کے چاول کاشت کر رہے ہیں۔
کسان ستار سرحان نے کہا کہ ’میں نے صرف جیسمین قسم کاشت کی ہے کیونکہ اس کی پیداوار زیادہ ہے، اور زیادہ تر کسان معاشی فائدے کی وجہ سے یہی قسم اگاتے ہیں۔‘
قلیل مدتی فائدہ، طویل مدتی خطرات
اس بحالی کے غیر یقینی مستقبل کو دیکھتے ہوئے کسانوں کا یہ عملی رویہ قابلِ فہم ہے۔
سٹیپینین نے کہا کہ 2025کے مقابلے میں یہ ایک نمایاں بہتری ہے، لیکن کسی بھی توسیع کو دستیاب پانی اور آبپاشی کی کارکردگی سے مشروط رکھنا ہوگا۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ عراق اب ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں آبی اور موسمیاتی حالات میں شدید اتار چڑھاؤ ہوگا؛ طویل خشک سالیوں کے درمیان کبھی کبھار شدید بارشیں اور پانی کے ذخائر میں عارضی اضافے دیکھنے کو ملیں گے۔
صرف قدرتی عوامل ہی نہیں بلکہ دیگر وجوہات بھی اس صورتحال میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
ترکیہ اور ایران کی جانب سے بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر کئی برسوں سے سرحد پار کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے، اور عراق اپنی 70 فیصد آبی ضروریات کے لیے ہمسایہ ممالک پر انحصار کرتا ہے۔
اس سال پانی میں اضافہ صرف مقامی بارشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ بالائی علاقوں سے آنے والے اضافی پانی کی بدولت بھی ممکن ہوا، جہاں شدید بارشوں اور برف پگھلنے سے ذخائر بھر گئے اور ڈیم انتظامیہ کو اضافی پانی چھوڑنا پڑا۔