غزہ کے چند سرفرز کسی بھی وقت اسرائیلی حملہ ہونے کے خطرے کے باوجود اپنے سرف بورڈز اٹھائے ہوئے خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے پاس سے لہروں میں سکون تلاش کرنے کے لیے سمندر کی طرف روانہ ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تینوں سرفرز نے غزہ سٹی کے ساحل پر اپنے بورڈ ریت پر رکھے، اپنے جسم کو گرم کیا اور سامان تیار کیا۔
چند بچے کنارے کے قریب پانی میں کھیل رہے تھے جبکہ سرفرز لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندر کی طرف بڑھ گئے۔
مزید پڑھیں
23 برس کے تہین ابو عاصی نے کہا کہ ’یہ کھیل ناقابلِ بیان ہے۔آپ جب ایک لہر کو پکڑتے ہیں، اس پر سوار ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ بہتے ہیں، تو اس احساس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے یہ کھیل اپنے والد سے سیکھا تھا۔
انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے والد کو ساحل پر اس کی مشق کرتے دیکھتا تھا، اور میں نے انہیں دیکھ کر ہی یہ کھیل سیکھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے آہستہ آہستہ سیکھا، اور جنگ، گولہ باری اور تباہی کے باوجود ہم اب بھی یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ ہمیں سانس لینے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ہمیں محفوظ محسوس کرواتا ہے۔‘
اسرائیل اور فلسطینی اسلامی تحریک حماس کے درمیان اکتوبر میں دو برس کی تباہ کن جنگ کے بعد جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔
لیکن یہ چھوٹا سا ساحلی علاقہ اب بھی خونریزی کی لپیٹ میں ہے، اور دونوں فریق تقریباً روزانہ ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
سمندر میں بھی تشدد جاری ہے۔

مئی کے وسط میں خان یونس کے ناصر ہسپتال نے بتایا کہ اسے دو ماہی گیر موصول ہوئے جو جنوبی غزہ کے ساحل کے قریب اسرائیلی نیول فورس کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔
چند دن بعد غزہ کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اطلاع دی کہ غزہ سٹی کے ساحل کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے تین ماہی گیر زخمی ہوئے۔
ابو عاصی نے کہا کہ ’یہ صورتِ حال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ کسی بھی لمحے، گولے یا دھماکہ خیز مواد آپ کے قریب گر سکتے ہیں۔‘
موم بتی کا موم
سرفرز سمندر کی لہروں پر باآسانی پھسلتے ہیں، اور لمحہ بھر کے لیے غزہ کی روزمرہ زندگی کی سختیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
لیکن جنگ کے باعث شدید قلت اور اسرائیلی درآمدی پابندیوں نے اس کھیل کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
19 برس کے عبدالرحیم الاستاذ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’غزہ کی پٹی میں سرفرز کے طور پر ہمیں سب سے بڑی مشکل یہ درپیش ہے کہ اس کھیل کے لیے مخصوص سامان دستیاب نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سرف ویکس، جو ہم بورڈز پر لگاتے ہیں، غزہ میں بالکل دستیاب نہیں، اس لیے ہم موم بتی کے موم کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اس کھیل کو جاری رکھ سکیں۔‘
عبدالرحیم الاستاذ نے کہا کہ پرانے سامان کو محفوظ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے، اور انہوں نے ایک پرانا سرخ اور نیلا سرف بورڈ تھام رکھا تھا جو تقریباً 20 برس پرانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم سرفرز کے لیے یہ بورڈز قیمتی خزانے کی طرح ہیں، کیونکہ کسی ایک بورڈ کا کھو جانا یا ضبط ہو جانا ہمارے اس کھیل کو جاری رکھنے کی صلاحیت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔‘
غزہ کی جنگ نے علاقے کے بڑے حصے کو ملبے میں بدل دیا ہے، آبادی کی اکثریت کو کم از کم ایک بار ضرور بے گھر کیا ہے، اور لاکھوں افراد کو خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کیا ہے۔
18 سالہ خلیل ابو جیاب نے کہا کہ جنگ سے پہلے غزہ میں 17 سرفرز کی ایک ٹیم تھی۔

انہوں نے کہا کہ اب صرف وہ تین ہی رہ گئے ہیں، جس کی وجہ سامان کی کمی اور بورڈز کی قلت ہے۔
ابو جیاب نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں گزشتہ 13 سال سے سرفنگ کر رہا ہوں، اور میری امیدیں تقریباً ٹوٹ چکی ہیں،‘ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اب بھی ایک دن غزہ سے باہر مقابلوں میں حصہ لینے کا خواب دیکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’غزہ میں سوائے سمندر کے ایسی کوئی چیز نہیں جس کا آپ انتظار کر سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں واحد راہِ فرار سمندر ہی ہے، اس کے بغیر زندگی کب کی ختم ہو چکی ہوتی۔‘












