Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے

لبنان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے تباہ کن حملوں میں 4200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لبنان، اسرائیل اور امریکہ نے جمعے کو ایک سہ فریقی فریم ورک (بنیادی ڈھانچے کے) معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے ان دو دیرینہ حریفوں کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق دستخطوں کی تقریب کے موقعے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ’ہمیں لبنان کی خودمختار حکومت اور یقیناً اسرائیل کی حکومت کے درمیان، امریکہ کی ثالثی اور تعاون سے ایک فریم ورک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔‘
اس معاہدے کے نتائج واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے پانچ ادوار کا نتیجہ ہیں جس کا مقصد دہائیوں پرانی دشمنی اور جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہفتوں سے جاری لڑائی کا خاتمہ کرنا ہے۔
تاہم اس معاہدے کی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دستخطوں کی تقریب کے موقعے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ معاہدہ ’پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک فریم ورک نافذ کرنے کی شروعات ہے۔‘
واشنگٹن میں تعینات لبنان کی سفیر نادیہ حمادہ معوض نے کہا کہ یہ معاہدہ ’لبنانی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بحالی، مستقل اور حتمی طور پر دشمنی کے خاتمے کو یقینی بنانے (اور) ہمارے لوگوں کو ان کی زمین پر واپس جانے کے قابل بنانے کی راہ میں پہلا قدم ہے۔‘
امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحییل لیٹر نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ’ایران باہر ہے، حزب اللہ باہر ہے اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن کی راہ کھل گئی ہے۔‘
یاد رہے کہ حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر راکٹ باری کر کے لبنان کو مشرقِ وسطیٰ کی اس وسیع تر جنگ میں دھکیلا تھا جس کا مقصد امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینا تھا۔
اس کے بعد اسرائیل نے تباہ کن فضائی حملے کیے اور زمینی حملہ شروع کیا جس کے بارے میں لبنان کا کہنا ہے کہ اس میں 4200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی دباؤ کے تحت لبنانی حکام نے اپریل میں واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کیے تھے اور 17 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جو بالآخر لڑائی کو روکنے میں ناکام رہا۔
رواں ماہ ایک نئی جنگ بندی کا اعلان اس وقت کیا گیا جب تہران نے اس بات پر اصرار کیا کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے وسیع تر تنازع کو ختم کرنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ اس کے معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

شیئر: