امریکہ کی تحویل میں لیے گئے ایرانی ملاح پاکستان کے حوالے کر دیے گئے
ایرانی عملے کا یہ چوتھا گروپ ہے جس کی وطن واپسی میں پاکستان نے مدد کی ہے (فائل فوٹو: یو ایس پیسیفک کمانڈ)
حالیہ تنازع کے دوران امریکہ کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایک تیل کے ٹینکر کے عملے کے 22 ایرانی ارکان کو جمعے کو پاکستان میں متعین ایرانی قونصل خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ان ملاحوں کا تعلق ’ڈوینا‘ نامی بحری جہاز سے ہے جس پر رواں ماہ کے شروع میں امریکی افواج نے بحرِ ہند میں قبضہ کیا تھا۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا ے رپورٹ کیا ہے کہ عملے کو ایرانی سفارت کاروں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایران واپس لوٹ جائیں گے۔
پاکستان نے اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اس پورے عمل کے دوران امریکی اور ایرانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ’پاکستان میں ایرانی مشنز کے ساتھ قریبی تعاون سے اب انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ ان کی وطن جلد از جلد اور محفوظ واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔‘
گزشتہ دو ماہ کے دوران ایرانی عملے کا یہ چوتھا گروپ ہے جس کی وطن واپسی میں پاکستان نے مدد کی ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے سلسلے میں 4 جون کو پابندیوں کے شکار اور بغیر کسی ریاستی پرچم کے چلنے والے جہاز 'ڈوینا' کو روکا تھا اور اس پر قبضہ کیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 20 لاکھ بیرل تک خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے اس سپر ٹینکر پر اکتوبر 2024 میں ایرانی تیل کی تجارت کی وجہ سے امریکی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
اس جہاز کو جسے ’لینور‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 5 جون کو سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔
