Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمان کے قریب جہاز پر حملہ، ایران کا آبنائے ہرمز پر پھر کنٹرول پر اصرار

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ خلیج میں امریکی فوجی موجودگی علاقائی عدم استحکام اور تقسیم کی اصل وجہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو کنٹرول کرنے کے اپنے حق کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے اور خلیجی ممالک کو امریکہ کا ساتھ دینے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق یہ انتباہ عمان کے قریب ایک جہاز پر حملے کے ایک دن بعد جمعے کو سامنے آیا ہے جس نے ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔
تہران نے امریکہ اور چھ خلیجی ممالک کے اس مشترکہ بیان پر ردعمل ظاہر کیا جسے اس نے ’مداخلت پسندانہ، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیا تھا۔ اس مشترکہ بیان میں ایران کے اس اصرار کو مسترد کیا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ’مبہم انتظامات، متوازی راستوں یا ایسے فیصلوں کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی جس میں ساحلی ریاست کے طور پر ایران کے کردار کو نظر انداز کیا گیا ہو۔‘
جمعے کو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی، باوجود اس کے کہ گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کی متضاد تشریحات سامنے آ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک میں سست روی آئی ہے جہاں سے عام طور پر دنیا بھر کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے اپنے دورے کو سمیٹتے ہوئے (جس کا مقصد عبوری معاہدے کے حوالے سے فکر مند علاقائی اتحادیوں کو یقین دہانی کرانا تھا) جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو دھمکایا یا ان کا راستہ روکا تو ’ہمارے لیے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔‘
اپنے مشترکہ بیان میں، روبیو اور خلیج تعاون کونسل نے ٹول ٹیکس یا ’کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں‘ کے بغیر آبنائے ہرمز میں ’آزاد، غیر مشروط اور بلا روک ٹوک جہاز رانی‘ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پائیدار امن کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور نیابتی گروہوں (پروکسیز) کی حمایت کے معاملات کو حل کرنا ہوگا۔
ایران کی وزارت خارجہ نے جمعے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ خلیج میں امریکی فوجی موجودگی علاقائی عدم استحکام اور تقسیم کی اصل وجہ ہے اور کہا کہ عبوری معاہدے کی شرائط کے مطابق اس آبنائے کا انتظام تہران اور عمان کو سنبھالنا چاہیے۔
وزارت خارجہ نے کہا ’ہم خطے میں معاندانہ اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔‘

دو امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران نے جہاز پر فائرنگ کی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تہران نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اس آبی گزرگاہ کا عملی کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے نتیجے میں جنگ چھڑ گئی تھی، تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی اور عالمی توانائی کی منڈیوں سمیت وسیع تر معیشت ہچکولے کھانے لگی تھی۔
تائیوان کی کمپنی ’ایورگرین میرین‘ نے جمعے کو بتایا کہ اس کا سنگاپور کے جھنڈے والا جہاز ’ایور لولی‘ جمعرات کو برطانوی بحریہ کی ایجنسی ’یو کے ایم ٹی او‘کے تجویز کردہ راستے پر سفر کے دوران عمان کے قریب کسی ’نامعلوم شے‘ کا شکار ہوا ہے۔
اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور جہاز نے بعد میں آبنائے سے باہر کا اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔
دو امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران نے جہاز پر فائرنگ کی تھی جبکہ ایران کی ’عربین گلف سٹریٹ اتھارٹی‘ جسے تہران نے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی درخواستوں کے انتظام کے لیے قائم کیا ہے،نے کہا کہ غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی "ذمہ داری مالکان، آپریٹر اور جہاز کے کمانڈر پر ہوگی۔‘
امریکی حکومت کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے شروع میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے عبوری معاہدے کا پاس نہیں رکھا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے، تو امریکہ ممکنہ طور پر اس ملک پر دوبارہ بمباری شروع کر دے گا۔

شیئر: