Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سرگودھا: 14 سالہ لڑکے کو ’بے ہوش کر کے زندہ دفن کرنے کی کوشش‘، چار افراد گرفتار

پولیس نے مرکزی ملزم قمر اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں ایک 14 برس کے بچے کو مبینہ طور پر بے ہوش کرنے کے بعد زمین میں زندہ دفن کرنے کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں بچے کو مقامی قبرستان سے ریسکیو کر کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں پولیس چار افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ سرگودھا کے تھانہ جھال چکیاں کی حدود میں واقع گاؤں ’ماڑی لک‘ میں پیش آیا۔ مبینہ تشدد اور زندہ دفن کیے جانے کی کوشش کا نشانہ بننے والا محمد دانش نامی بچہ جمعرات کی دوپہر سے لاپتہ تھا۔
مزید پڑھیں
ایف آئی آر میں کیا ہے؟
ایف آئی آر کے مطابق جب وہ آواز کی سمت بڑھے تو بچہ زمین میں دفن تھا اور باہر کی طرف صرف اس کی ٹانگ ہی نظر آ رہی تھی۔
والدین نے فوری طور پر دوبارہ پولیس اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی جس کے بعد امدادی ٹیموں نے موقعے پر پہنچ کر بچے کو بحفاظت زمین سے نکالا اور ابتدائی طبی امداد دیتے ہوئے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہسپتال سرگودھا منتقل کیا۔
واقعے کا پس منظر اور پولیس کارروائی
ہسپتال میں زیرِ علاج متاثرہ بچے دانش نے ہوش میں آنے کے بعد پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔ بچے کے مطابق اس ہولناک اقدام کی وجہ ایک پرانی رنجش تھی۔
بچے نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’قریباً 20 روز قبل میں نے ملزم قمر کے بڑے بھائی امجد ولد مولا بخش کے خلاف شکایت کی تھی کہ اس نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ملزم قمر نے اسی رنجش کا بدلہ لینے کے لیے اپنے دیگر ساتھیوں امجد اور وارث کے ساتھ مل کر مجھے پکڑا، تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین میں دفن کر دیا۔‘
پولیس ذرائع کے مطابق بچے کے بیان اور والدہ کی درخواست پر نامزد ملزم قمر سمیت چار افراد کے خلاف اغوا، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ پولیس نے اس مقدمے میں چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
 

شیئر: