پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں ایک 14 برس کے بچے کو مبینہ طور پر بے ہوش کرنے کے بعد زمین میں زندہ دفن کرنے کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں بچے کو مقامی قبرستان سے ریسکیو کر کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں پولیس چار افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ سرگودھا کے تھانہ جھال چکیاں کی حدود میں واقع گاؤں ’ماڑی لک‘ میں پیش آیا۔ مبینہ تشدد اور زندہ دفن کیے جانے کی کوشش کا نشانہ بننے والا محمد دانش نامی بچہ جمعرات کی دوپہر سے لاپتہ تھا۔
مزید پڑھیں
-
سرگودھا: بچی کے مبینہ زیادتی و قتل کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکNode ID: 905700
بچہ کیسے برآمد ہوا؟
تھانہ جھال چکیاں میں بچے کی والدہ سمیرا بی بی کی مدعیت میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق ’جمعرات کی سہ پہر ساڑھے چار بجے ان کا 14 برس کا بیٹا محمد دانش کسی کام سے گھر سے نکلا لیکن رات دیر تک واپس نہیں لوٹا۔‘والدین نے بچے کی گمشدگی پر پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی اور رات بھر خود بھی اس کی تلاش کرتے رہے۔
اگلے روز یعنی جمعے کی صبح قریباً 11 بجے جب والدین تلاش کرتے ہوئے مقامی قبرستان کے قریب پہنچے تو انہیں زمین کے اندر سے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی۔












