کشمیر احتجاج: مظفرآباد میں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان، ’تحریک کا رخ موڑ دیا گیا ہے‘
ہفتہ 27 جون 2026 20:38
فرحان احمد خان ، اردو نیوز
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے تاجروں اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے عہدے داروں نے گزشتہ 20 روز سے جاری پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کو اتوار سے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اہم اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں تین ہفتوں سے مواصلاتی نظام معطل ہے، راولاکوٹ میں کرفیو نافذ ہے اور حکومت کی جانب سے احتجاجی تحریک کے قائدین کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔
سنیچر کو مظفرآباد کے سینٹرل پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے رہنماؤں نے کالعدم قرار دی گئی ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آٹے اور بجلی پر سبسڈی کے بنیادی مطالبات منظور ہونے کے بعد ’اب اس تحریک کا رخ اچانک کسی اور جانب موڑ دیا گیا ہے‘ جس کی وہ تائید نہیں کر سکتے۔
تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی پریس کانفرنس کی تفصیلات کشمیر کے محکمہ اطلاعات (پی آئی ڈی) نے جاری کی ہیں۔
پی آئی ڈی کے بیان کے مطابق پریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران کے وائس چیئرمین گوہر کشمیری، صدر مدینہ مارکیٹ راجہ ابرار مصطفی اور صدر ٹرانسپورٹ آپریٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن خواجہ اعظم رسول شامل تھے۔
مرکزی انجمن تاجران کے وائس چیئرمین گوہر کشمیری نے کہا کہ ’تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے عام آدمی کو سستا آٹا اور بجلی فراہم کرنے کے لیے تحریک شروع کی تھی۔ حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے 72 ارب روپے کی تاریخی سبسڈی دیے جانے کے بعد تحریک کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب چارٹر آف ڈیمانڈ میں تاجروں کی مشاورت کے بغیر مہاجرین کی نشستوں جیسے آئینی معاملات شامل کر کے تحریک کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔‘
صدر انجمن تاجران مدینہ مارکیٹ راجہ ابرار مصطفی نے کہا کہ ’مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ دھرنوں یا تشدد سے نہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی میں اکثریتِ رائے سے حل ہو گا۔‘
انہوں نے راولاکوٹ میں مبینہ طور پر لگنے والے پاکستان مخالف نعروں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ہمارا وکیل ہے اور ایسے اقدامات سے صرف دشمن ملک انڈیا کو فائدہ پہنچے گا۔‘
سرکاری بیان کے مطابق صدر ٹرانسپورٹ آپریٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن خواجہ اعظم رسول نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز کبھی بھی حکومت یا افواجِ پاکستان مخالف ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
انہوں نے 2005 کے زلزلے سمیت دیگر آفات میں پاکستان کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں اور دھرنے میں بیٹھے سنجیدہ لوگوں سے اپیل کی کہ ’وہ کسی اور کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں سے دور رہیں۔‘
تاجر رہنماؤں نے تمام تاجروں سے اپیل کی کہ وہ کل سے دکانوں کے شٹر اٹھائیں اور کاروبار بحال کریں جبکہ انتظامیہ نے شہر میں انتشار نہ پھیلنے دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
کشمیر کی موجودہ صورتحال اور حکومتی کریک ڈاؤن
یہ پریس کانفرنس ایک ایسے ماحول میں ہوئی ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین ہفتوں سے نظامِ زندگی مفلوج ہے۔
راولاکوٹ شہر کے اطراف میں اب بھی ہزاروں مظاہرین دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جہاں کرفیو نافذ ہے۔ خطے میں تین ہفتوں سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر اور موبائل فون سروسز جزوی طور پر بند ہیں۔
حکومت نے جون کے اوائل میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کے چار سرکردہ رہنماؤں شوکت نواز میر، سردار عمر نذیر، سردار امان خان اور خواجہ مہران ارشد کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ 5 جون کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات کی بنیاد پر سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور کئی شہریوں کے نام ’فورٹھ شیڈول‘ میں شامل کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے دھرنوں میں شرکت یا مدد کرنے کے الزام میں سینکڑوں سرکاری ملازمین، حاضر اور ریٹائرڈ فوجیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے فہرستیں بھی جاری کی گئی ہیں۔
پیٹرول کی قلت اور زمینی حالات
اگرچہ مظفرآباد کے کچھ حصوں اور مضافاتی بازاروں (جیسے کہوڑی، گڑھی دوپٹہ، ہٹیاں اور چناری) میں جزوی طور پر دکانیں کھلی دیکھی گئی ہیں تاہم ایندھن کی شدید قلت شہریوں کے لیے ایک بڑا بحران بن چکی ہے۔
دو روز قبل کمشنر پونچھ نے اعتراف کیا تھا کہ ایندھن کی فراہمی روکنے کا فیصلہ ایک ’حکمتِ عملی‘ کے تحت کیا گیا ہے۔
کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام وادی نیلم میں دھرنا دو دن قبل ختم ہونے کے بعد بازار تو کھل گئے ہیں لیکن مقامی رہائشیوں کے مطابق پیٹرول نایاب ہے اور بلیک مارکیٹ میں 500 سے 800 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب شہریوں کی طرف سے یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ کشمیر جانے والے خوراک کے ٹرکوں کو انٹری پوائنٹس پر پولیس روک رہی ہے تاہم حکومت اور پولیس نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کیا ہے۔
اس احتجاجی لہر اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 20 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں چار سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد میں سیاسی ہلچل اور مذاکرات میں تعطل
کشمیر کی صورتحال پر تعطل برقرار ہے کیونکہ حکومت کا اصرار ہے کہ مطلوب رہنما خود کو قانون کے حوالے کریں جس کے بعد مذاکرات ہوں گے جبکہ ایکشن کمیٹی 5 جون کے بعد کے تمام حکومتی اقدامات منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اس بحران کے تناظر میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
سنیچر کو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
اس سے قبل جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی حکومت اور مظاہرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی تاہم ان کے بقول وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
گزشتہ ہفتے کشمیر سے متعلق امور پر قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف پر سخت تنقید کی ہے۔
