Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی حملے کا جواب: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین پر حملوں کا دعویٰ

امریکی فوج نے سنیچر کو مسلسل دوسرے دن ایرانی حدود پر بمباری کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی سرزمین پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی حملے کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مزید جارحیت کا ’کچل دینے والا جواب‘ دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ دونوں نے ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کویت میں واقع ’علی السالم ایئر بیس‘ اور بحرین کے علاقے پورٹ سلمان میں قائم امریکی بحریہ کے ’پانچویں فلیٹ کے ہیڈکوارٹر‘ پر امریکی فوج کی آٹھ اہم ترین تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی بہانے کے تحت کی جانے والی جارحیت، خواہ وہ کسی غیر اہم ہدف پر ہی کیوں نہ ہو، کا انتہائی سخت اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
یہ فوجی کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پیدا ہوئی ہے جب رواں ماہ جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں ممالک کے مابین ایک اہم مفاہمت کی یادداشت طے پائی تھی جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کا پائیدار خاتمہ تھا۔
امریکہ اور ایران کے دستخط شدہ اس متن کے مطابق، دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی یا فوجی آپریشن کی ابتدا نہ کرنے اور طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کرنے کا عہد کیا تھا۔
تاہم اس معاہدے کے باوجود صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب امریکی فوج نےسنیچر کو مسلسل دوسرے دن ایرانی حدود پر بمباری کی، جس کے بارے میں واشنگٹن کا موقف تھا کہ یہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ایک تجارتی آئل ٹینکر پر کیے گئے حملے کا جواب تھا۔
مذکورہ امن یادداشت کے تحت ایران نے صرف 60 دنوں کے لیے خلیج عرب سے بحیرہ عمان تک تجارتی جہازوں کو بغیر کسی معاوضے کے محفوظ راستہ دینے پر اتفاق کیا تھا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں اور اب خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایران نے جمعرات کو بھی واضح کیا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزرے گا جس کے بعد عمان نے، جو ایران کے مقابل ساحل پر واقع ہے، ایک متبادل بحری راستے کی نشاندہی کی تھی۔
اس وقت ایران کی جانب سے جہازوں کو صرف اپنے ساحل کے ساتھ واقع کوریڈور سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

شیئر: