خلیجی اور عرب ممالک کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت
کویت اور بحرین نے اپنی سرزمین کو نشانہ بنانے والے حالیہ ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کو اپنی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق کویت کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ریاستِ کویت کے خلاف بار بار کی جانے والی گھناؤنی ایرانی جارحیت کی شدید ترین مذمت کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حالیہ حملہ علی الصبح ہوا جو کویت کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی، اس کی سلامتی و استحکام اور شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور مسلسل جارحیت کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جاری علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
دوسری جانب بحرین نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر مملکت کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
بحرین کے مطابق یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ تہران کے اقدامات کوئی الگ تھلگ یا حادثاتی واقعہ نہیں بلکہ مملکت کی خود مختاری اور شہریوں کی سلامتی کے خلاف ایک دانستہ پالیسی اور منظم طریقہ کار ہے۔
بحرین نے ریاستوں کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے والے یا کشیدگی بڑھانے والے ہر اقدام کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور بین الاقوامی قانون کے احترام اور خلیج میں امن برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
قطر نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے کو ان غیر منصفانہ حملوں کے نتائج سے بچانے، مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے راستے پر گامزن رہنے پر زور دیا تاکہ مفاہمت کی یادداشت کے فریم ورک کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اردن نے کویت اور بحرین پر ہونے والے حملوں کو خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
مصر نے بھی ایرانی ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے ان حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔
علاوہ ازیں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے بھی بحرین پر ایرانی مجرمانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی تمام مذہبی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
