Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپ بدستور شدید گرمی کی لپیٹ میں، ہیٹ ویو مشرق کی جانب بڑھنے لگی، اموات میں اضافہ

فرانس میں 24 جون سے اب تک متوقع تعداد سے تقریباً 1000 زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
یورپ میں شدید ترین گرمی کی لہر اتوار کے روز مشرق کی جانب بڑھ گئی، جبکہ رات کے وقت آنے والے طوفانوں سے وقتی ریلیف کے باوجود پورے براعظم اور بالخصوص فرانس اور بیلجیئم میں کروڑوں لوگ شدید گرمی کا سامنا کرتے رہے۔
وسطی اور مشرقی یورپ میں گرمی کی شدت برقرار رہی، جہاں جمہوریہ چیک، ہنگری اور پولینڈ سب سے زیادہ متاثر ہوئے، درجۂ حرارت بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے اندازوں کے مطابق کم از کم 19 کروڑ 10 لاکھ یورپی شہریوں نے دن کے وقت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجۂ حرارت کا سامنا کیا۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 21 جون کے بعد سے یورپ میں 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 38 کروڑ 10 لاکھ یورپی شہریوں نے 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجۂ حرارت کا سامنا کیا، یہ تجزیہ جرمن محکمۂ موسمیات کی پیش گوئیوں اور آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا۔
پولینڈ، ہنگری اور جمہوریہ چیک کے تقریباً تمام علاقوں میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سے اوپر چلا گیا، جبکہ جرمنی میں تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ افراد گرمی کی اسی شدت سے متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ سلوواکیہ، سربیا، کروشیا، اٹلی، آسٹریا اور مغربی یوکرین میں بھی شدید گرمی پڑی۔
’ناکامی نہیں‘
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گبریئسُس نے ایکس پر لکھا کہ ’اس وقت 15 کروڑ لوگ گرمی کی شدید لہر کا سامنا کر رہے ہیں، سینکڑوں اموات ہو چکی ہیں، سکول بند ہیں اور بجلی کا نظام دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔‘
یورپ اور خاص طور پر فرانس میں رات کے وقت آنے والے طوفانوں سے کچھ ریلیف ملا، جہاں کئی دنوں سے درجۂ حرارت 40 ڈگری کے قریب تھا۔ تاہم ان طوفانوں نے نقصان بھی پہنچایا، اور مقامی میڈیا کے مطابق برسلز کے قریب ایک شخص درخت گرنے سے ہلاک ہو گیا۔
فرانس میں اتوار کی شام تک گرمی کی شدید ترین لہر ختم ہونے کی توقع تھی، لیکن اس کے باوجود لاکھوں افراد شدید گرمی جھیلتے رہے۔
2003 کی تباہ کن گرمی کی لہر اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے جو صدیوں میں یورپ میں بدترین تھی اور جس میں تقریباً 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے باعث فرانسیسی حکام اموات میں اضافے کے حوالے سے خوفزدہ تھے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 21 جون کے بعد سے یورپ میں 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں (فوٹو: اے پی)

فرانس کی قومی صحت ایجنسی کے مطابق 24 جون سے اب تک متوقع تعداد سے تقریباً 1000 زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق ان اموات میں بڑی تعداد 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی ہے۔
تاہم وزیر صحت سٹیفنی رسٹ نے کہا کہ بہتر تیاریوں، خاص طور پر بزرگوں کی نگہداشت کے مراکز میں انتظامات کے باعث، فرانس ’شاید‘ 2003 جیسی تباہی سے بچ جائے گا۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے حکومتی ردعمل پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی ناکامی نہیں بلکہ ہم حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔‘
ریکارڈ ٹوٹ گئے
اتوار کے روز کئی ممالک میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر گیا اور گرمی کی اس لہر نے وسطی اور مشرقی یورپ میں نئے ریکارڈ قائم کیے۔
پولینڈ کے مغربی شہر سلوبیچے میں درجۂ حرارت 40.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ ہے۔
جرمنی میں پولینڈ کی سرحد کے قریب کوشن میں 41.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ایک دن پہلے قائم ہونے والا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا، جبکہ جمہوریہ چیک میں بھی مسلسل دوسرے روز ریکارڈ ٹوٹا اور پراگ کے شمال میں واقع ڈوکسانی میں درجۂ حرارت 41.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

پولینڈ، ہنگری اور جمہوریہ چیک کے تقریباً تمام علاقوں میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سے اوپر چلا گیا (فوٹو: روئٹرز)

فرانس کے قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق کے مطابق بڑھتا ہوا درجۂ حرارت سمندری حیات اور حیاتیاتی تنوع پر واضح اثر ڈال رہا ہے۔
شمالی فرانس کے ساحلی علاقے ویمرو میں گفتگو کرتے ہوئے تحقیقاتی ڈائریکٹر گریگوری بوگرانڈ نے بتایا کہ سمندر کے درجۂ حرارت میں اضافہ خوراک کے نظام کو متاثر کر رہا ہے کیونکہ ’سرد پانی پسند کرنے والی مچھلیاں غائب ہو رہی ہیں۔‘
فرانسیسی ماہرِ موسمیاتِ قدیم ژاں جوزیل نے اخبار ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ گرمی کی لہر ختم ہوتے ہی سیاسی توجہ بھی ہٹ جائے گی۔
انہوں نے سائنسی تنبیہات پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ آنکھیں بند کر رہے ہیں لیکن صورتِ حال انتہائی سنگین ہے۔‘

شیئر: