Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں پہلی مرتبہ پِستے کی کامیاب کاشت

پستے کا درخت پانچ سے سات برس میں پھل دینا شروع کردیتا ہے (فوٹو: سکرین گریب)
الجوف ریجن کی طبرجل کمشنری میں ایک سعودی کاشتکار نے اپنے فارم میں پہلی مرتبہ ’حلبی پستہ‘ کاشت کیا ہے۔
الاخباریہ کے مطابق سعودی شہری راضی الھزیل نے بتایا کہ ’پستہ کا شمار اہم خشک میوے میں ہوتا ہے، مجھے حلبی پستے کی کاشت کا خیال تقریباً دس برس قبل الجوف ریجن کی زرخیز زمین کو دیکھ کر آیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’قدرت نے اس خطے کی زمین کو یہ خاصیت عطا کی ہے کہ یہاں جو بھی اگایا، اس کے ثمرات حاصل ہوئے۔ اسی حقیقت کو دیکھتے ہوئے پستے کی کاشت کے بارے میں سوچا۔‘
راضی الھزیل کے مطابق شروع میں اس بارے میں صرف معلومات حاصل کیں تاہم اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حلبی پستے کی کاشت میں مکمل کامیابی حاصل کرلی ہے۔
’اس وقت ہمارے فارم میں دو ہزار سے زیادہ درخت ہیں جن کی عمر چھ برس یا اس سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ نرسری فارم میں 9 ہزار سے زائد پودوں کی بھی نگہداشت کی جا رہی ہے جو مکمل طور پر تیار ہو چکے ہیں۔ بہتر نگرانی اور دیکھ بھال سے وہ بارآور درخت بن جائیں گے۔‘

سعودی کاشتکار کی کوشش ہے کہ الجوف ریجن کو پستے کے پودے اور پھل برآمد کرنے والے علاقے کے طور پر نمایاں مقام ملے۔
ایک سوال سوال پر راضی الھزیل نے کہا کہ ’پستے کے پودے کو دیگر فصلوں کی طرح زیادہ پانی درکار نہیں ہوتا جبکہ ایک درخت پانچ سے سات برس میں پھل دینا شروع کردیتا ہے۔‘

 

شیئر: