Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اور امریکہ حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کے تنازع کے حل پر قطر میں مذاکرات پر متفق

امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملے بند کرنے پر متفق ہو گئے ہیں اور ان کے نمائندے آبنائے ہرمز کے تنازع کو حل کرنے کے لیے منگل کو قطر میں ملاقات اور مذاکرات کریں گے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی میڈیا کی جانب سے اتوار کو یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے جس نے طویل عرصے تک توانائی کی عالمی منڈیوں کو شدید متاثر رکھا اور معاہدے کے بعد بھی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے حوالے سے خدشات ہیں۔
دونوں ممالک نے 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔
اس یادداشت کے تحت تہران نے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طور پر گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا عہد کیا تھا۔
ایک سینیر امریکی اہلکار نے ویب سائٹ ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے تمام کنیٹیک سرگرمیوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
یہ ایک فوجی اصطلاح ہے جس کو حملوں کے تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک اور امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’دونوں ممالک فی الوقت اپنی کارروائیاں روک دیں گے اور آگے کی بات چیت کے دوران جہاز آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں گے۔‘
رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقفیت کرھنے والے ایک تیسرے سورس نے تصدیق کی ہے کہ فریقین کے نمائندے منگل کو دوحہ میں ملاقات کریں گے۔
امریکی نیوز چینل سی این این نے بھی رپورٹ دی ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایران نے لڑائی روکنے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
وائٹ کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

شیئر: