Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز میں نئی متبادل روٹس کشیدگی بڑھائیں گی: ایرانی وزیر خارجہ

عباس عراقچی نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایک مشترکہ سکیورٹی فریم ورک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ راستوں کے علاوہ کوئی نئی یا متبادل انتظامات اختیار کیے گئے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
بغداد کے دورے کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری صورتحال پہلے ہی حساس ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام سے امن عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ انتظامات کے مقابلے میں کوئی نیا یا الگ نظام اپنانے کی کوشش صرف صورتحال کو مزید پیچیدہ کرے گی، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کا باعث بنے گی اور کشیدگی میں اضافہ کرے گی۔

علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی تجویز

عباس عراقچی نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایک مشترکہ سکیورٹی فریم ورک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خطے کے مسائل کا حل صرف علاقائی ممالک کی شمولیت سے ممکن ہے، نہ کہ بیرونی مداخلت سے۔
انہوں نے عراق کی اس تجویز کا خیر مقدم کیا جس میں خلیجی ممالک، ایران اور عراق کے درمیان ایک مشترکہ اجلاس بلانے کی بات کی گئی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران میں مختلف اہداف پر نئی فضائی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
جبکہ ایران نے جواب میں خلیج میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بات کی ہے اور آبنائے ہرمز کے راستوں کے استعمال پر بھی تنازع بڑھ رہا ہے
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایک نیا سمندری راستہ، جو مبینہ طور پر عمان اور بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم نے ایران سے مشاورت کے بغیر متعارف کرایا، کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔
موجودہ کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں استحکام قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

شیئر: