حالیہ جھڑپوں کے بعد ایرانی و امریکی حکام کے درمیان آج دوحہ میں ملاقات
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد پہلی بار بات چیت آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے جا رہی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو یہ کہتے ہوئے کی تھی کہ مذاکرات کے موقع پر ان کی جانب سے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر شریک ہوں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے، تاہم یہ نئی بات چیت دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر حالیہ حملوں کے بعد ہو رہی ہے۔
اس سے قبل مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں تاہم اتوار کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ایران کے اندر 10 اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور اس کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائی کا بدلہ قرار دیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں ٹارگٹس کو نشانہ بنایا تھا۔
اس کے بعد امریکی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اگر دوبارہ جنگ شروع کی گئی تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔
امریکہ اور ایران نے 17 جون کو 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد چار ماہ سے جاری تنازع ختم کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقوں نے جنگ روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔
تاہم، ہفتے کے اختتام پر ہونے والے جوابی حملوں نے اس نازک معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا۔ مذاکرات کی بحالی ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب جمعرات کو آبنائے میں ایک ایرانی میزائل ایک مال بردار جہاز سے ٹکرانے کے بعد دونوں جانب سے کئی روز تک حملے اور جوابی حملے جاری رہے، اور امریکہ و ایران ایک دوسرے پر عبوری جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے۔
کیرولین لیویٹ نے ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ نامی پروگرام میں کہا کہ ’تجارتی جہازوں پر حملے ہوئے، جن کا جواب امریکی صدر کی ہدایت پر دیا، اور یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ صدر واضح طور پر چاہتے ہیں کہ امن عمل آگے بڑھے۔‘