حالیہ جھڑپوں کے بعد ایرانی و امریکی حکام کے درمیان پہلی ملاقات آج دوحہ میں
حالیہ جھڑپوں کے بعد ایرانی و امریکی حکام کے درمیان پہلی ملاقات آج دوحہ میں
منگل 30 جون 2026 5:47
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد پہلی بار بات چیت آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے جا رہی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس کی تصدیق صدر ٹرمپ نے پیر کے روز یہ کہتے ہوئے کی تھی ایران نے ملاقات کی درخواست کی تھی اور یہ ملاقات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کچھ ہی دیر بعد صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے، تاہم یہ نئی بات چیت دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر حالیہ حملوں کے بعد ہو رہی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ اپنی پہلی بات چیت کی، جبکہ واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر بھی اتفاق کیا، جن کی وجہ سے اس معاہدے پر دباؤ آیا تھا۔
اتوار کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ایران کے اندر 10 اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور اس کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائی کا بدلہ قرار دیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں ٹارگٹس کو نشانہ بنایا تھا۔
اس کے بعد امریکی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اگر دوبارہ جنگ شروع کی گئی تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔
امریکہ اور ایران نے 17 جون کو 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد چار ماہ سے جاری تنازع ختم کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقوں نے جنگ روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے چند روز بعد سنیچر کو امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تاہم، ہفتے کے اختتام پر ہونے والے جوابی حملوں نے اس نازک معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مذاکرات کی بحالی ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب جمعرات کو آبنائے میں ایک ایرانی میزائل ایک مال بردار جہاز سے ٹکرانے کے بعد دونوں جانب سے کئی روز تک حملے اور جوابی حملے جاری رہے، اور امریکہ و ایران ایک دوسرے پر عبوری جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے۔
صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کے ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ نامی پروگرام میں یہ بھی کہا تھا کہ ’تجارتی جہازوں پر حملے ہوئے، جن کا جواب امریکی صدر کی ہدایت پر دیا، اور یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ صدر واضح طور پر چاہتے ہیں کہ امن عمل آگے بڑھے۔‘