Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قطر کی سفارتی کوششیں غیر یقینی کا شکار، امریکہ،ایران معاہدے کے امکانات دھندلا گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو منگل کو دوحہ پہنچنا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
قطر میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے امکانات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ جنگ بندی کو دیرپا بنانے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی سے متعلق بھی سوالات برقرار ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کو منگل کو دوحہ پہنچنا تھا، جہاں وہ قطری ثالثوں اور حکام سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے۔ تاہم قطر کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس موقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی اعلیٰ سطح کے براہِ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق امریکی وفد خطے کے مختلف معاملات، خصوصاً ایران سے متعلق سفارتی کوششوں اور لبنان کی صورتحال پر قطری ثالثوں سے مشاورت کرے گا، لیکن وہ ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے دوحہ نہیں آئے۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم رکھنے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے عمان کے ساتھ مسلسل رابطہ اور تعاون جاری ہے۔
قطر نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے تقریباً چھ ارب ڈالر کے منجمد فنڈز اب تک ایران منتقل نہیں کیے گئے اور یہ رقم 2023 کے معاہدے کے تحت صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان کی خریداری کے لیے مختص ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی وفد بدھ کے روز دوحہ میں قطر کے ساتھ منجمد اثاثوں سمیت عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے امور پر بات کرے گا، تاہم آئندہ چند روز میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
چار ماہ قبل جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی تھی، حالانکہ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت ہوتی ہے۔ ایران نے بعد ازاں عمان کے ساتھ مل کر اس گزرگاہ پر نگرانی سخت کر دی اور عندیہ دیا کہ جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کی جائے گی، جبکہ مقررہ راستوں سے ہٹنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔
امریکہ نے گزشتہ ہفتے ایران پر دو تجارتی جہازوں کو میزائل یا ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کی، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کر رہے ہیں۔
اس تنازع نے عالمی مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں وائٹ ہاؤس نے مراکش سے درآمد ہونے والی فاسفیٹ کھاد پر بعض درآمدی محصولات عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں تاکہ امریکی کسانوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے کہا کہ ’یہ ملاقات اہم بھی ثابت ہو سکتی ہے اور شاید نہ بھی ہو، ہمیں جلد معلوم ہو جائے گا۔‘

شیئر: