فٹبال کا بخار دنیا پر اس طرح سوار ہے کہ دوسرے کھیلوں کے مقابلوں میں کیا ہو رہا ہے اس کی کسی کو خبر ہی نہیں۔ ٹی 20 ورلڈ کپ کی فاتح انڈین کرکٹ ٹیم آئر لینڈ جیسی نو آموز ٹیم کے ہاتھوں وائٹ واش ہو گئی اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔
البتہ انڈیا میں جہاں ہر وقت کرکٹ کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے وہاں اس شکست پر ٹیم مینجمنٹ، نئے کپتان اور ٹیم کے کوچ گوتم گمبھیر کی حکمت عملی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ شکست کی ایک وجہ 15 سالہ ہونہار نوجوان کھلاڑی ویبھو سوریاونشی کو پلیئنگ الیون میں شامل نہ کیا جانا بھی بتایا جا رہا ہے۔
بہر حال کپتان سریاش اییر نے آئرلینڈ کے خلاف شکست کو ’شرمناک‘ نہیں بلکہ ’مایوس کن‘ کہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کرکٹرز کو اب کیا کرنا ہوگا؟Node ID: 905375
اب انگلینڈ کے خلاف سیریز کی ابتدا ہو رہی ہے جس کا پہلا میچ ڈرہم کے چیسٹرلے سٹریٹ میں ہو رہا ہے۔
آئرلینڈ کی طرح انڈیا میں ٹی 20 کے نئے کپتان شریاس اییر نے اپنے تجربہ کار کھلاڑیوں کو فوقیت دیتے ہوئے نوجوان سوریہ ونشی کو موقعہ نہیں دیا جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں گشت کر رہی ہیں کہ آیا کہیں سینیئر کھلاڑی ویبھو کی طوفانی بیٹنگ سے خوفزدہ تو نہیں کیونکہ حال ہی میں اختتام پزیر ہونے والے آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں ویبھو سوریا ونشی نے نہ صرف سب سے زیادہ رنز بنائے بلکہ تمام اہم ایوارڈز اپنے نام کیے۔
انہوں نے ناقابل یقین سٹرائک ریٹ سے 16 میچوں میں سات سو 76 رنز بنائے جس میں ایک سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔
اس کے بعد انہوں نے حال ہی میں انڈیا اے کی جانب سے سری لنکا اے کے خلاف کھیلتے ہوئے صرف 11 گیندوں میں نصف سنچری سکور کرکے ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا جس میں پانچ چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔
ٹیم انڈیا کے کپتان شریاس اییر سے جب انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹی 20 میں سوریا ونشی کے ڈیبیو کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کوئی واضح جواب دینے کے بجائے ایک مبہم تبصرہ کیا۔ شریاس ایر کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں ابھی آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘
تاہم، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیریز سے قبل انہیں سٹار بلے باز سوریا کمار یادو سے بھی اہم مشورے اور ان پٹس ملے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین ویبھو سوریاونشی کو پلیئنگ الیون میں شامل نہ کیے جانے پر شدید برہم ہیں۔
بڑی تعداد میں مداحوں کا ماننا ہے کہ ویبھو کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر موقع ملنا چاہیے۔ جبکہ ایک حلقہ ایسا بھی ہے جس کا کہنا ہے کہ ویبھو جیسے نوجوان ٹیلنٹ کو بینچ پر بٹھانا ناانصافی ہے اور اسے ٹیم پولیٹکس یا حسد کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ جب کچھ سینئر کھلاڑی مسلسل ناکام ہو رہے ہیں، تو ایسے میں فارم میں موجود نوجوان کو موقع نہ دینا سمجھ سے باہر ہے۔

کرکٹ سینٹرل کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک صارف نے لکھا کہ ’15 سالہ سوریاونشی کے لیے برا محسوس کر رہا ہوں۔ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اور کپتان 15 سالہ بچے کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں۔ اگر آپ ویبھو سوریاونشی کا کردار نہیں کرنا چاہتے تو یہ ٹھیک ہے، لیکن روزانہ کی پریس کانفرنسوں میں ان کے خلاف بیانات دینا بند کر دیں۔‘
’یہ کیسی منطق ہے؟ اس میں ویبھو کا قصور کیسے ہے کہ وہ ابھی تک ورلڈ کپ نہیں کھیل سکے؟ اییر اور گمبھیر دونوں ہی ہر پریس بریفنگ میں یہی رٹتے رہتے ہیں۔ اس قسم کا غیر منصفانہ سیاسی رویہ اسے ڈپریشن میں دھکیل دے گا۔‘
خیال رہے کہ اییر نے کہا تھا کہ انہوں نے جن کھلاڑیوں کے آئرلینڈ کے خلاف کھلایا وہ سب ورلڈ کپ کھیلے ہوئے اور منجھے ہوئے ہیں۔
سابق کرکٹر کرشنا ماچاری سری کانت جو ویبھو سوریاونشی کو انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں شامل کرنے کے بڑے حامی تھے انہوں نےایک بار پھر سوریاونشی کے معاملے پر کھل کر بات کی ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ویبھو کو آئرلینڈ کے خلاف دوسرے ٹی 20 میں ضرور کھیلنا چاہیے تھا اور ابھیشیک شرما کو آرام دیا جانا تھا، لیکن اب چونکہ وہ وہاں نہیں کھیلے، اس لیے میں انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹی 20 میچوں میں ویبھو سوریاونشی کو پلیئنگ الیون میں شامل نہیں کروں گا۔ ہمیں اوپننگ کمبینیشن میں فوری تبدیلی سے بچنا چاہیے۔‘
FEEL FOR 15-YEAR-OLD VAIBHAV SURYAVANSHI
- It is completely unacceptable how the team management and captain are handling a 15-year-old kid .
- If you do not want to play Vaibhav Suryavanshi, that is fine, but stop making statements against him in daily press conferences.— Cricket Central (@CricketCentrl) June 30, 2026












