Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

300 کروڑ روپے کی ڈیل ٹھکرا کر وراٹ کوہلی نے اپنے ذاتی برانڈ کو عالمی کاروبار کیسے بنایا؟

انڈیا کے سابق کپتان وراٹ کوہلی  کو دنیا کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے سابق کپتان وراٹ کوہلی کو دنیا کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن میدان کے باہر انہوں نے کاروباری دنیا میں بھی اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔
 
ان کا سپورٹس اور لائف سٹائل برانڈ ’ون ایٹ‘ اب محض ایک اینڈورسمنٹ برانڈ نہیں بلکہ ایک ایسا کاروباری منصوبہ بن چکا ہے، جسے وہ عالمی سطح پر ایک آزاد سپورٹس برانڈ کے طور پر فروغ دینا چاہتے ہیں۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق ویراٹ کوہلی نے سپورٹس ویئر کمپنی پوما کی تقریباً 300 کروڑ انڈین روپے (تقریباً 9 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے) کی تجدیدی پیشکش قبول کرنے کے بجائے اپنے برانڈ ’ون ایٹ‘ کی ملکیت اور اس کی عالمی توسیع کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا، جسے کاروباری حلقوں میں ان کے کیریئر کا اہم ترین فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وراٹ کوہلی نے 2016 میں اپنے ذاتی لائف سٹائل برانڈ ’ون ایٹ‘ کا آغاز کیا۔ برانڈ کے نام میں ’ون‘ خود کو ہر روز پہلے سے بہتر بنانے کے فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ ’8‘ ان کے جرسی نمبر کی علامت ہے۔
2017 میں کوہلی نے پوما کے ساتھ آٹھ برس کا معاہدہ کیا، جس کی مالیت مختلف کاروباری میڈیا رپورٹس کے مطابق 100 سے 110 کروڑ انڈین روپے تھی۔ اس وقت اسے انڈیا میں کسی بھی کھلاڑی کے بڑے سپورٹس اینڈورسمنٹ معاہدوں میں شمار کیا گیا۔ 

معاہدے کے تحت ’پوما ون ایٹ‘ کے نام سے جوتے، سپورٹس ملبوسات، ٹی شرٹس، جیکٹس، بیگز اور دیگر مصنوعات متعارف کرائی گئیں۔ پوما کا مقصد صرف ویراٹ کوہلی کو برانڈ ایمبیسیڈر بنانا نہیں تھا بلکہ ان کی شخصیت کے گرد ایک مقامی سپورٹس اور لائف سٹائل برانڈ تیار کرنا بھی تھا۔

آنے والے برسوں میں ’ون ایٹ‘ نے تیزی سے ترقی کی۔ سپورٹس ویئر کے ساتھ ساتھ خوشبوئیں، فیشن کلیکشن، گھڑیاں، چشمے، بیگز اور دیگر لائف سٹائل مصنوعات بھی متعارف کرائی گئیں۔
اسی عرصے میں ’ون ایٹ کمیون‘ کے نام سے ریستورانوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا، جس کی شاخیں نئی دہلی، ممبئی، بنگلورو، پونے، کولکتہ، حیدرآباد اور دیگر شہروں تک پھیل گئیں۔
  رپورٹس کے مطابق ون ایٹ بتدریج انڈیا کے نمایاں ایتھلیٹ لائف سٹائل برانڈز میں شامل ہو گیا۔

پوما نے وراٹ کوہلی کو تقریباً 300 کروڑ انڈین روپے مالیت کی نئی پیشکش کی، لیکن انہوں نے اپنے برانڈ کو ترجیح دی۔(فوٹو: پوما)

تقریباً آٹھ برس تک پوما ون ایٹ کی مصنوعات کے ڈیزائن، تیاری، مارکیٹنگ اور تقسیم کا ذمہ دار رہا، تاہم 2025 میں دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کی تجدید کا وقت آیا۔
فنانشل ایکسپریس اور این ڈی ٹی وی پرافٹ کے مطابق پوما نے وراٹ کوہلی کو مزید آٹھ برس کے لیے تقریباً 300 کروڑ انڈین روپے مالیت کی نئی پیشکش کی، لیکن کوہلی نے اسے قبول کرنے کے بجائے اپنے برانڈ کی مکمل ملکیت اور اس کی طویل المدتی ترقی کو ترجیح دی۔
اسی فیصلے کے بعد ویراٹ کوہلی نے ایجیلیٹاس سپورٹس کے ساتھ شراکت داری کی۔ یہ کمپنی 2023 میں ابھیشیک گنگولی، اتُل باجاج اور امیت پربھو نے قائم کی۔ 

ابھیشیک گنگولی اس سے قبل کئی برس تک پوما انڈیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے منیجنگ ڈائریکٹر رہ چکے تھے اور ویراٹ کوہلی کے ساتھ ان کے پیشہ ورانہ تعلقات بھی پرانے تھے۔

این ڈی ٹی وی پرافٹ کے مطابق ویراٹ کوہلی نے ایجیلیٹاس سپورٹس میں تقریباً 40 کروڑ انڈین روپے کی سرمایہ کاری بھی کی، جس کے بعد وہ صرف ون ایٹ کے تشہیری چہرے نہیں رہے بلکہ برانڈ کی کاروباری حکمت عملی اور مستقبل کی توسیع میں بھی شراکت دار بن گئے۔
اس شراکت داری نے ون ایٹ کے کاروباری ماڈل کو بھی تبدیل کر دیا۔ پہلے برانڈ کی مصنوعات کی تیاری، ڈیزائن اور تقسیم پوما کے نظام کے تحت ہوتی تھی، جبکہ اب ایجیلیٹاس سپورٹس اور ویراٹ کوہلی برانڈ کی مصنوعات، ڈیزائن، سپلائی چین اور عالمی توسیع کے منصوبوں پر براہ راست کام کر رہے ہیں۔

 ویراٹ کوہلی نے بتایا کہ کسی ایک جوتے کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے سے پہلے انہوں نے 17 مختلف نمونے مسترد کیے۔ (فوٹو:ون ایٹ)

کاروباری توسیع کے اسی منصوبے کے تحت ایجیلیٹاس سپورٹس نے موچیکو شوز کو بھی خریدا، جو انڈیا میں عالمی سپورٹس برانڈز کے لیے جوتے تیار کرنے والی بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ کمپنی ماضی میں ایڈیڈاس، پوما، سکیچرز، ریبوک، ایسکس اور ڈیکاتھلون جیسے بین الاقوامی برانڈز کے لیے بھی مصنوعات تیار کر چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس خریداری سے ون ایٹ کو اپنی مصنوعات کے معیار، تیاری اور سپلائی چین پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔
جون 2026 میں نئی دہلی میں ون ایٹ کی پہلی مکمل آزاد فٹ ویئر رینج متعارف کرائی گئی، جو پوما سے علیحدگی کے بعد برانڈ کی پہلی بڑی پروڈکٹ لانچ تھی۔ 

اس موقع پر ویرات کوہلی نے بتایا کہ کسی ایک جوتے کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے سے پہلے انہوں نے 17 مختلف نمونے مسترد کیے، کیونکہ وہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور ایسی مصنوعات متعارف کرانا چاہتے تھے جو طویل عرصے تک صارفین کا اعتماد حاصل کر سکیں۔

 


ایجیلیٹاس سپورٹس نے بھی اپنے منصوبوں میں کہا ہے کہ اس کا مقصد ون ایٹ کو ایک عالمی سپورٹس برانڈ کے طور پر فروغ دینا ہے۔ (فوٹو: ون ایٹ)

میڈیا رپورٹس کے مطابق ویراٹ کوہلی کی نئی حکمت عملی انہیں صرف اینڈورسمنٹ معاہدوں سے حاصل ہونے والی آمدنی تک محدود رکھنے کے بجائے ایک ایسے کاروباری ماڈل کی طرف لے جا رہی ہے، جس میں وہ اپنے برانڈ کی ملکیت، مصنوعات کی تیاری اور عالمی توسیع میں براہ راست شریک ہیں۔
ایجیلیٹاس سپورٹس نے بھی اپنے منصوبوں میں کہا ہے کہ اس کا مقصد ون ایٹ کو ایک عالمی سپورٹس برانڈ کے طور پر فروغ دینا ہے، تاکہ مستقبل میں یہ نائکی، ایڈیڈاس اور پوما جیسے بین الاقوامی برانڈز کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔ 

شیئر: