موسیقار آنند راج آنند کا کیریئر غیرمعمولی طور پر شاندار رہا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اداکار گووندا کے ساتھ سب سے زیادہ کام کیا۔
دونوں نے مجموعی طور پر سات فلموں میں ایک ساتھ کام کیا جن میں ’پردیسی بابو‘ (1998)، ’جس دیش میں گنگا رہتا ہے‘ (2000)، ’حد کر دی آپ نے‘ (2000)، ’کیوں کہ میں جھوٹ نہیں بولتا‘ (2001)، جوڑی نمبر 1 (2001)، چل چلا چل (2009) اور دیوانہ میں دیوانہ (2013) شامل ہیں۔
موسیقار نے بالی وڈ ہنگامہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اس حوالے سے اور کئی دیگر باتوں پر کھل کر گفتگو کی۔
مزید پڑھیں
-
’گووندا صرف میرے‘، سونیتا آہوجا نے افواہوں پر خاموشی توڑ دیNode ID: 893858
-
اداکار گووندا واقعی ہالی وڈ فلم ’اواتار تھری‘ کا حصہ ہیں؟Node ID: 898626
-
سنیتا آہوجا کے طنزیہ جملے، گووندا سے علیحدگی کی افواہیں پھر گرمNode ID: 903838
آنند راج آنند نے انکشاف کیا کہ ’اوئے راجو‘ کی دُھن بنانا ایک چیلنج تھا کیوں کہ ’گووندا کی آنکھوں میں ہمہ وقت شرارت ہوتی ہے…‘
انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ‘ٹھکرا کے میرا پیار’ انہوں نے خود گایا تھا، ’مجھے بالکل علم نہیں تھا کہ زی میوزک نے کرشنا بیورا سے یہ گانا گوایا ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم ’پردیسی بابو‘ میں گووندا ایک مزاحیہ جملہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ’آنند راج آنند… آنند ہی آنند!‘
اس بات کی یاد دہانی پر موسیقار مسکرا پڑے اور کہا کہ ’ان (گووندا) کے ساتھ میرا تعلق بہت خوبصورت رہا ہے۔ ہر فلم جس میں میَں اور چی چی بھائیہ (گووندا) نے ساتھ کام کیا، اس کا میوزک سپر ہٹ ہوا۔ ہم نے ان کے لیے ایک اداس گانا ’اوئے راجو‘ بھی بنایا جو شروع میں ممکن نہیں لگتا تھا۔
ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایسا کیوں، تو آنند راج آنند نے جواب دیا کہ ’گووندا کے ساتھ اُداس گانا بنانا بہت مشکل اور چیلنجنگ تھا۔ ان کی آنکھوں میں اس قدر شرارت ہوتی ہے کہ ناظرین تصور ہی نہیں کر سکتے کہ وہ اداس بھی ہو سکتے ہیں۔‘
’یہ سوچنا مشکل ہے کہ یہ شخص غمگین کھڑا ہے لیکن انہوں نے اس گانے میں جس طرح پرفارم کیا تو ہنستے ہنستے رُلا دیا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے ان کے لیے ایک حب الوطنی کا گانا ‘اِٹ ہیپنز اونلی اِن انڈیا’ (پردیسی بابو) بھی تخلیق کیا۔‘

آنند راج آنند کا ایک اور اداس گانا جو بطور گلوکار اور کمپوزر نمایاں ہوا، وہ ‘دل دے دیا ہے’ ہے، جو فلم مستی (2004) کا حصہ تھا۔ ایک ایسی فلم جس کا موضوع مزاحیہ اور ہلکے پھلکے گانوں پر مبنی تھا، اس میں یہ اداس گانا سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ کیا موسیقار اس بات پر حیران ہیں؟
انہوں نے وضاحت کی کہ ’مجھے یقین تھا کہ یہ گانا وقت کی کسوٹی پر پورا اترے گا۔ میری عادت ہے، میں کئی صفحات پھاڑتا ہوں، مگر جب تک جذبات سے جڑ نہ جاؤں، گانا فائنل نہیں کرتا۔ موسیقار بننے سے پہلے میں ایک عام ناظر تھا۔ میں نے سکول سے چھٹیاں کر کے فلمیں دیکھیں اور گیت سنے ہیں۔‘
’میں یہ بھی دیکھتا تھا کہ کون سے گیت لوگوں کو نشست سے اُٹھنے پر مجبور کرتے ہیں اور کون سے انہیں باندھ کر رکھتے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ایسا گانا نہیں بنانا جس پر لوگ اُٹھ جائیں۔ بالی وڈ میں صرف دو طرح کے گانے ہوتے ہیں: اول، وہ جن پر لوگ نشستوں پر ہی براجمان رہتے ہیں، اور دوسرے وہ جن پر لوگ اُٹھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی تیسری قسم نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں اگر خود نہیں رویا، تو میں ناظرین کو نہیں رُلا سکتا۔ اگر میں خود نہیں جھوما، تو میں سننے والے سے یہ توقع نہیں کر سکتا کہ وہ بھی جھومے گا۔ ایک اور اہم چیز سادگی ہے۔ الفاظ سادہ ہوں مگر ان میں جذبات زیادہ ہوں۔ میں ان باتوں کا خاص خیال رکھتا ہوں۔‘
اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کل کے گیتوں میں پہلے جیسا اثر نہیں رہا۔ انہوں نے اس پر کھل کر رائے دی اور کہا کہ ’میں ایسا نہیں سمجھتا۔ اربجیت سنگھ کے کچھ گانے روح کو چھونے والے ہیں۔ تاہم ماضی کے گانوں میں انسانی لمس زیادہ ہوتا تھا۔ بول سادہ ہوتے تھے۔ آنند بخشی صاحب سیدھی بات کرتے تھے اور لوگوں کو وہی پسند آتی تھی۔ اب بول پیچیدہ ہو گئے ہیں۔‘

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’لیکن اب جب میں واپس آیا ہوں، تو میں یہ یقینی بناؤں گا کہ اپنا انداز برقرار رکھوں۔‘
اداس گانوں کے حوالے سے گفتگو گیت ‘ٹھکرا کے میرا پیار’ (فلم ’ شادی میں ضرور آنا‘ 2017) کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گانا ان کی آواز کے لیے موزوں تھا، مگر اسے انہوں نے خود نہیں گایا۔
آنند راج آنند نے بتایا کہ ’اصل میں یہ گانا میں نے خود گایا تھا اور پروڈیوسر ونود بچن کی سفارش پر زی میوزک کمپنی کے انوراگ بیدی کو بھیجا تھا۔ انوراگ بیدی نے کرشنا بیورا سے یہ گانا گوایا۔ مجھے اس کا بالکل علم نہیں تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ گانا جب ریلیز ہوا تب پتا چلا کہ اسے کرشنا نے گایا ہے۔ ٹریلر میں میری گائی ہوئی آواز شامل تھی۔ بہرحال، گانا ہٹ ہو گیا اور یہی ہمارے لیے خوشی کی بات تھی۔ اس نے ایک ارب ویوز بھی حاصل کر لیے ہیں۔‘












