Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی پروجیکٹ: باب المندب سے 6 ہزار جنگی باقیات اور دھماکہ خیز ڈیوائسز تباہ

رہائشیوں کہا گیا کہ وہ مشکوک اشیا یا جنگی باقیات کے قریب نہ جائیں ( فوٹو ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کی ایک ٹاسک ٹیم نے یمن میں تعز گورنریٹ کے علاقے باب المندب سے 6 ہزار سے زائد پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈیننس اور جنگ کی باقیات کو تباہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق تلف کیے جانے والے آرڈیننس میں 29 اینٹی پرسنل مائنز، 53 اینٹی ٹینک مائنز، 109 شیل، 10 دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز، 7 ہینڈ گرینڈ، 8 راکٹ، 3 ہزر سے زائد فیوز اور 12 پروجیکٹائل شامل ہیں۔
ٹاسک ٹیم کے رکن یاسر المظلومی نے ایک بیان میں کہا’ یہ دھماکہ خیز ڈیوائسز یمن کے مغربی ساحل پر تعز اور الحدیدہ گورنریٹس کے ساتھ الضالع گونریٹ میں کام کرنے والی پروجیکٹ کی ٹیموں نے جمع کیا تھا۔‘
 ’جنگی باقیات کو محفوظ طریقے سے تلف کیے جانا زندگیوں کے تحفظ اور آزاد کرائے گئے علاقوں میں سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے ضروری قدم ہے۔‘
انہوں نے رہائشیوں پر زور دیا کہ ’وہ مشکوک اشیا یا جنگی باقیات کے قریب نہ جائیں  فوری طور پر اس کی اطلاع مسام  کی ٹیموں یا حکام کو دی جائے۔‘
یہ کارروائی بارودی سرنگوں اور پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈیننس کو صاف کرنے، شہریوں کو لاحق خطرات کو کم کرنے اور آزاد کرائے گئے علاقوں میں معمول کی زندگی کی واپسی کے لیے مسام کی جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

یا رہے یمن میں دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا، جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔
پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جاسکے۔

 

شیئر: