’انسانی وسائل میں سرمایہ کاری‘: جازان میں سماجی و رضاکارانہ مہم کا آغاز
’جازان تصنع الاثر‘ کے عنوان سےمہم میں 57 سے زائد ادارے شریک ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
جازان کے کلچرل ہاوس میں ’جازان تصنع الاثر‘ کے عنوان سے سماجی و رضاکارانہ مہم کا آغاز کیا گیا، جس میں سرکاری، نجی اور غیرمنافع بخش شعبوں سے تعلق رکھنے والے 57 سے زائد اداروں نے شرکت کی۔
ایس پی اے کے مطابق مہم کا مقصد رضاکارانہ خدمات کے فروغ ، رضاکار ٹیموں کو با اختیار بنانے اور انہیں پائیدار سماجی اقدامات کی منصوبہ بندی اور موثر انتظامی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
یہ مہم ’جازان رضاکار‘ منصوبے کا حصہ ہے، جو موسمِ گرما کے دوران ریجن کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، رضاکارانہ خدمت اور سماجی شراکت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے ہے۔ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، افراد کی صلاحیتوں کی تعمیر اور ان کی مہارتوں میں اضافہ کرکے سماجی شرکت کو زیادہ موثر اور پائیدار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
’جازان تصنع الاثر‘ کا تصور وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کے تحت غیرمنافع بخش شعبے کی ترقی اور اس کی کارکردگی کو صحت، تعلیم، رہائش، تحقیق، سماجی پروگرام اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے مختلف شعبوں میں بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

مہم کے تحت متعدد خصوصی ورکشاپس اور تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا جارہا ہے، جنہیں تین بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا گیا، ان میں، سماجی و صحت، ماحولیات و توانائی اور ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت شامل ہیں۔
ایونٹ میں لیکچرز، مباحثے اور عملی ورکشاپس شامل ہیں، ہر شعبے کی اہم ضروریات اور چیلنجز، سماجی اقدامات کے تصور اور مقاصد، منصوبہ بندی، عمل درآمد، نگرانی، جائزہ جیسے موضوعات کی تربیت فراہم کی جائے گی۔

مہم کا مقصد رضاکاروں کی شرکت کو فروغ دینا، مختلف اداروں کے درمیان تعاون کا مضبوط نیٹ ورک قائم کرنا اور رضاکارانہ خدمات کے لیے ایک موثر ادارہ جاتی نظام تشکیل دینا ہے۔
اس کے ذریعے ہمدردی، باہمی تعاون اور ایثار جیسی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے ایسے پائیدار سماجی منصوبے تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، جو جازان ریجن کو نئے خیالات و افکار کو قابلِ عمل ٹھوس منصوبوں میں تبدیل کرنے کے حوالے سے نمایاں نمونہ بنا سکیں۔
