پرانے آلات، نیا عزم: تبوک کے صحرا نشینوں کی سُدُو بُنائی آج تک باقی اور محفوظ
کارڈنگ ٹول یا اون دھننے کا آلہ، لکڑی کے دو بلاکس پر مشتمل ہوتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جیسے جیسے سعودی عرب اپنے روایتی ہنر کو محفوظ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، تبوک کے صحرا نشیں دستکار، اُون دُھننے اور سُوت کاتنے کے صدیوں پرانے آلات کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں اور سُدُو کا مستند کپڑا تیار کر رہے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کارڈنگ ٹول جس سے اون دھنتے ہیں اور چرخے کا تکلہ قدیم روایتی اوزاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھیں تبوک ریجن کے صحرا نشیں خام اون اور بکری کے بالوں کو تیار کرنے کے لیے کام میں لاتے تھے اور سُدُو بنائی کے ساتھ ساتھ صحرا میں رہنے کے لیے خیمے بھی بنایا کرتے تھے۔ کہیں کہیں اب بھی ان اوزاروں سے یہ سامان تیار کیا جاتا ہے۔
کارڈنگ ٹول یا اون دھننے کا آلہ، لکڑی کے دو بلاکس پر مشتمل ہوتا ہے جن پر لوہے کے باریک خم دار دانت سے لگے ہوتے ہیں۔ یہ دونوں کارڈ ایک دوسرے کی مخالف سمت متعدد بار چلا کر ان سے اون کے ریشے سیدھے اور نرم کیے جاتے ہیں اور اون کے اندر پڑی گرہیں ختم ہو جاتی ہیں۔
اون تیار ہونے کے بعد، اسے تکلے کے ذریعے گھما کر مضبوط دھاگے کی شکل میں کات لیا جاتا ہے جس سے صحرا نشیں عربوں کے خیموں کے پٹ بُنے جاتے ہیں۔
اون اور اونٹ کے بالوں سے بُنائی، قدیم ترین روایتی دستکایوں میں شامل ہے جس میں اوزاروں اور مقامی ماحول میں دستیاب وسائل پر انحصار کیا جاتا ہے۔

سُدُو بُنائی قدرتی مواد پر انحصار کرتی ہے اور اس کی تکنیک، نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ اس طریقے سے تیار ہونے والا ہر ٹکڑا ایک مخصوص شناخت اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اپنے عملی استعمال کے علاوہ یہ تخلیقات، مقامی شناخت اور روایت کے اظہار کو دوسروں تک پہنچانے کا ایک ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
مقامی دستکار خاتون سارہ العطوی بتاتی ہیں کہ یہ ہنر، جیتا جاگتا ثقافتی ورثہ ہے جو تبوک کی بدوی کمیونٹی کے طرزِ زندگی اور اصل اقدار کا ترجمان ہے۔

یہ راویتی طریقِ عمل آج بھی ہر طرف سے توجہ حاصل کر رہا ہے اور اسے مقامی ورثے کے میلوں سے بھی تعاون ملتا رہتا ہے جس سے یہ بات یقینی بن جاتی ہے کہ ورثے کی اہمیت والی یہ اہم چیزیں محفوظ رہیں گی اور مستقبل میں آنے والے نسلوں تک پہنچ سکیں گی۔
مقامی فیسٹیولز میں سُدُو بُنائی کی شمولیت اس عہد کی اہمت کو اجاگر کرتی ہے جو روایتی ہنر کے فروغ اور ہنرمند خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے باندھا گیا ہے تاکہ ثقافتی وراثت مملکت کی قومی شناخت کے ایک بنیادی حصے کے طور پر محفوظ رہ سکے۔
