سعودی عرب کی دمشق میں بزدلانہ دہشت گرد حملے کی مذمت
تمام دہشت گردانہ اقدامات کو مسترد کیے جانے کا اعادہ کیا۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے
حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، سکیورٹی اہلکار ایک دہشت گرد گروہ کی جانب سے نصب کردہ دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں سعودی عرب کی جانب سے شام اور اس کے عوام کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے والے تمام دہشت گردانہ اور انتہا پسندانہ اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کے موقف کا اعادہ کیا۔
وزارت نے اس واقعے میں زخمیوں کے اہل خانہ، شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ شام اور اس کے عوام کے لیے مستقل سکیورٹی اور سیفٹی کی خواہش ظاہر کی۔
یاد رہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کے روز اس ہوٹل کے قریب بم دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں ٹھہرے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور علاقے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد سڑکیں بند کر دی گئیں اور سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔
فرانسیسی ایوانِ صدر (ایلیزے) کا کہنا ہے صدر میکخواں نے دھماکوں کی آواز نہیں سنی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات بھی کی۔
یہ دھماکے شام کو درپیش سنگین سکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ میکخواں، 2024 میں احمد الشرع کی قیادت میں باغیوں کے ہاتھوں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔
