فیفا ورلڈ کپ: ناروے کے مداح کا انوکھا ردعمل وائرل ’میں چپو نہیں چلاؤں گا‘
فیفا ورلڈ کپ: ناروے کے مداح کا انوکھا ردعمل وائرل ’میں چپو نہیں چلاؤں گا‘
بدھ 24 جون 2026 15:19
ناروے کے مداح نے ’وائیکنگ روئنگ‘ جشن میں شریک ہونے سے انکار کر کے غیر معمولی توجہ حاصل کر لی۔(فوٹو:رائٹرز)
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ناروے کے ایک مداح نے اپنے ہم وطن شائقین کے درمیان مقبول ہونے والے ’وائیکنگ روئنگ‘ جشن میں شریک ہونے سے انکار کر کے غیر معمولی توجہ حاصل کر لی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ناروے کے حامی ایمل اینرز لاپن اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آئے جب سینیگال کے خلاف میچ کے دوران ٹی وی کیمرے نے انہیں فلمبند کیا جب ان کے اردگرد موجود ہزاروں مداح ’وائیکنگ روئنگ‘ کر رہے تھے لیکن وہ اپنی نشست پر بالکل خاموش بیٹھے رہے۔
ناروے نے پیر کو سینیگال کو دو اور تین سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی تھی۔ میچ کے دوران جب شائقین کشتی میں چپو چلانے کی نقل کر رہے تھے تو لاپن نے اس میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
نارویجین نشریاتی ادارے ’این آر کے‘ کے مبصر نے کیمرہ ان پر مرکوز ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں ایک شخص ایسا بھی ہے جو اس کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔‘
ایمل اینرز لاپن نے بعد میں نارویجن اخبار ویردنز گانگ (وی جی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں روئنگ کا یہ خیال شروع سے ہی احمقانہ تھا۔ مجھے یہ کبھی پسند نہیں آیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میرے خاموش بیٹھنے کی خبر کافی پھیل گئی ہے۔ جب لوگ روئنگ شروع کرتے ہیں تو میں احتجاجاً اپنی جگہ پر بیٹھا رہتا ہوں۔‘
ورلڈ کپ کے دوران ’وائیکنگ روئنگ‘ ناروے کے مداحوں کی پہچان بن چکی ہے۔(فوٹو:این آر کے)
ورلڈ کپ کے دوران ’وائیکنگ روئنگ‘ ناروے کے مداحوں کی پہچان بن چکی ہے۔
سینیگال کے خلاف کامیابی کے بعد کپتان مارٹن اوڈیگارڈ نے ٹیم، کوچنگ سٹاف اور ہزاروں مداحوں کے ساتھ مل کر میدان میں اجتماعی روئنگ کی تھی جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔
تاہم لاپن کا کہنا ہے کہ انہیں یہ روایت آئس لینڈ کے مشہور ’تھنڈر کلاپ‘ جشن سے بہت زیادہ مشابہ محسوس ہوتی ہے، جس نے گزشتہ بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں عالمی توجہ حاصل کی تھی۔
ان کے مطابق ’یہ روئنگ دراصل تاریخی اعتبار سے بھی درست نہیں۔ وائیکنگز کی لمبی کشتیاں اکثر بادبانی ہوتی تھیں اور زیادہ تر ہوا کی مدد سے چلتی تھیں، چپوؤں سے نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے مؤقف پر قائم رہوں گا اور آئندہ بھی روئنگ نہیں کروں گا۔‘
لاپن نے مزاحیہ انداز میں مزید کہا کہ ’اگر میں اب اچانک روئنگ شروع کر دوں تو ٹی وی کیمرے فوراً مجھے پکڑ لیں گے۔‘ ان کا خیال ہے کہ ’ایک بار جب آپ کسی مؤقف پر کھڑے ہو جائیں تو پھر آخر تک اس پر قائم رہنا چاہیے۔‘
ناروے اپنا آخری گروپ میچ جمعے کو بوسٹن میں فرانس کے خلاف کھیلے گا۔(فوٹو:اے ایف پی)
ناروے اپنا آخری گروپ میچ جمعے کو بوسٹن میں فرانس کے خلاف کھیلے گا۔
وائیکنگز کون تھے؟
وائیکنگز شمالی یورپ کے وہ سمندری جنگجو، تاجر اور مہم جو تھے جو آٹھویں سے گیارہویں صدی کے درمیان موجودہ ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اپنی تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے یورپ، برطانیہ، آئس لینڈ، گرین لینڈ اور شمالی امریکہ تک سفر کرتے تھے۔
ناروے کے شائقین نے اپنی تاریخی شناخت اور وائیکنگ ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ورلڈ کپ کے دوران ’وائیکنگ روئنگ‘ جشن اپنایا ہے، جس میں لوگ بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر کشتی چلانے کی نقل کرتے ہیں۔
یہ روایت اگرچہ تاریخی طور پر درست نہیں سمجھی جاتی، تاہم ناروے کے مداحوں کے لیے یہ قومی فخر اور ٹیم کی حمایت کی علامت بن چکی ہے۔