Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض کی آرائش، نمائش، زیبائش: فنکاروں کے فن پاروں سے عوامی مقام سج گئے

ریاض آرٹ پروگرام کے تحت دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں فن پاروں کی تنصیب اور شاہراہوں کی تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
شہری علاقوں کو سجانے کا مقصد علاقے کو خوبصورت بنانا ہے جس کے تحت مختلف مقامات پر فن پارے نصب کیے گئے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق ’ریاض آرٹ‘ دارالحکومت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شامل ایک پروگرام ہے جس کا مقصد شہر کے مختلف حصوں میں مستقل فن پاروں کی تنصیب اور شہری ماحول کو مزید دلکش بنانا، عوامی مقامات پر فنونِ لطیفہ کی موجودگی کو فروغ دینا اور معیارِ زندگی بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت فن پارے شاہراہوں، عوامی چوراہوں، پارکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ سٹیشنوں پر نصب کیے گئے ہیں، تاکہ وہ کسی الگ منزل یا مقام کے بجائے شہریوں کی روز مرہ زندگی کا حصہ بن جائیں۔
اس کاوش کی نمایاں مثال اطالوی فنکار انجیلو بونیلو کا فن پارہ ’الجری الی ما وراء‘ ہے جسے کنگ عبدالعزیز روڈ پر موجود واک وے پر نصب کیا گیا ہے۔ اس فن پارے نے ایک عام گزرگاہ کو شہر کی سرگرمیوں اور رفتار سے ہم آہنگ ایک منفرد عوامی مقام میں تبدیل کر دیا ہے۔
پیدل چلنے والے اسے مختلف زاویوں اور فاصلے سے دیکھتے ہیں، جبکہ پل کے نیچے سے گزرنے والے ڈرائیور بھی اسے روز مرہ سفر کا حصہ محسوس کرتے ہیں۔ یوں یہ محض ایک فن پارہ نہیں بلکہ شہری علاقے کی دلکشی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔

کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں انڈین فنکار سوبودھ گپتا کا فن پارہ ’شجرۃ العائلہ‘ (خاندانی درخت) انسان اور شہر کے تعلق کو منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔
اس میں سٹینلیس سٹیل سے تیار کردہ گھریلو استعمال کی اشیا کو فنکارانہ انداز میں یکجا کیا گیا ہے جو روز مرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اور معمولی دکھائی دینے والی چیزوں کو عوامی مقامات پر ایک تخلیقی روپ میں بدل دیتا ہے۔
اس فن پارے کی تنصیب ریاض کے اہم ترین اقتصادی مرکز میں اس تصور کو اجاگر کرتی ہے کہ فن کو ان مقامات تک پہنچایا جائے جہاں لوگ رہتے ہیں، کام کرتے اور روزانہ آمد ورفت وہاں رہتی ہو۔

یہ وژن صرف جدید فن پاروں تک محدود نہیں بلکہ ریاض میں موجود مستقل آرٹ کلیکشن تک بھی پھیلا ہوا ہے جس میں سعودی اور بین الاقوامی فنکاروں کے متعدد فن پارے شہر کے مختلف علاقوں میں نصب ہیں۔ اس طرح فن کی دریافت ایک مستقل تجربہ بن جاتی ہے جو شہریوں کے روزمرہ معمولات ، سفر اور عوامی مقامات کے استعمال کے دوران ان کے ساتھ رہتی ہے۔
ریاض میں اِس تصور کو پُلوں، میٹرو اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ سٹیشنوں، چوراہوں اور پارکوں کے ساتھ فن پاروں کو مربوط کرکے عملی شکل دی گئی ہے تاکہ وہ شہری شناخت اور مقامی یادداشت کا حصہ بن جائیں۔

شیئر: