جہاں سعودی عرب میں بین الاقوامی سیاحوں کی آمد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے وہیں مقامی شہری اپنی روزمرہ کی زندگی کی جھلک دکھانے کے لیے سیاحوں کے لیے گھروں کے دروازے کھول رہے ہیں جس سے مملکت کے قومی عجائب گھروں اور تاریخی جگہوں کے علاوہ بھی سیاحوں کوعام لوگوں کی زندگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایک ایسی شہری نورا البلود بھی ہیں جو ریاض میں سعودی کافی، روایتی ڈشز اور نجدی ریجن کے تاریخی نوادرات کا مجموعہ دکھانے کے لیے اپنے گھر کا دروازہ مہمانوں کے لیے کھول دیتی ہیں۔
نورا البلود کہتی ہیں کہ ’جو سیاح گھر آ کر تجربہ حاصل کرتا ہے وہ عجائب گھر جانے یا کتاب پڑھنے سے مکمل مختلف ہوتا ہے۔ جب وہ گھر آتے ہیں تو یہ یادیں ان کے دماغ میں نقش ہو جاتی ہیں۔‘
مزید پڑھیں
-
مدینہ منورہ میں حجاج سعودی خدمات اور مہمان نوازی کے معترفNode ID: 904899
البلود اپنے ٹورز کی تشہیر کے لیے ہائی ہوم نامی آن لائن پلیٹ فارم کا استعمال کرتی ہیں اور وہ 2024 سے لے کر اب تک برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک سے آئے مہمانوں کا استقبال کر چکی ہیں۔
ان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ مہمانوں کو اپنے گھر بلانے کا خیال سعودی ورثے کے لیے زندگی بھر کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ورثے اور ثقافتی روایات میں میرا شوق بہت پرانا ہے۔ ہم نے اسے اپنے دادا دادی اور خاندان سے حاصل کیا ہے اور شکر ہے کہ یہ چیز ہم میں منتقل ہوئی۔‘
میزبانی کے شعبے سے کئی برس پہلے تک البلود اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ میں رہتی تھیں جہاں انہیں اپنے اردگرد کے لوگوں سے سعودی عرب کو متعارف کروانے کا موقع ملا۔

اُنہوں نے اس بارے میں کہا کہ ’میں ہمیشہ سے ہی اپنے ملک کی بہترین حالت میں ترجمانی کرنا چاہتی تھی۔ میں غیر ملکیوں کو اپنی روایات سے متعارف کروا کر بہت خوش ہوتی تھی اور انہیں سعودی عرب کے حوالے سے ہر ممکن حد تک چیزیں بتاتی تھی۔‘
وہ جہاں بھی جاتی تھیں اپنے ساتھ گھر کی چیزیں لے کر جاتی تھیں جس میں روایتی نجدی نوادرات جن میں بخور جلانے والے برتن اور دیگر وراثتی چیزیں شامل ہوتیں جن کی مدد سے سیاحوں کو سعودی ثقافت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتاا۔
ریٹائر ہو کر ریاض واپس آنے کے بعد البلود نے اپنے اس شوق کو آگے بڑھانے کے بارے میں سوچا۔
اسی دوران سعودی عرب میں بھی وژن 2030 کے تحت ثقافتی تبدیلیاں جاری تھیں جس میں سیاحت اور ورثے کو مملکت کے مستقبل کے ساتھ جوڑا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نے یہ تبدیلی اور اس میں بڑھتا ہوا شوق دیکھا تو مجھے علم ہوگیا کہ میں کس چیز کی تلاش میں ہوں۔ میں اس قومی تحریک کا حصہ بننا چاہتی تھی۔ میں نے اس بات کو سمجھا کہ نجدی ورثے کو اجاگر کرنا میرا فرض ہے۔‘

جہاں سعودی عرب علالقائی روایات سے بھرپور مقام ہے وہیں البلود نے نجد کی روایات پر توجہ دینا شروع کی جہاں سے ان کا تعلق ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہماری مملکت مختلف ثقافتوں سے مالامال ہے۔ ہر خطے کا ایک اپنا بھرپور ورثہ ہے۔ جہاں مملکت میں کئی چیزیں ایک جیسی بھی ہیں، وہیں ہر خطے کے پاس کچھ نہ کچھ منفرد ہے۔‘
البلود کے گھر میں مہمانوں کو وہ تمام روایات ملتی ہیں جن میں سعودی پلے بڑھتے ہیں۔ سب سے پہلے اس تجربے کا آغاز روایتی سعودی کافی اور کھجور پیش کرنے سے ہوتا ہے جس کے بعد مہمانوں کو مہمان نوازی کے اردگرد گھومتی روایات سے متعارف کروایا جاتا ہے جس میں کافی پیش کرنے کا طریقہ وغیرہ سمجھایا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بارے میں کہا کہ ’ہم مہمانوں کو کافی کا کپ پکڑنے کا طریقہ سکھاتے ہیں کہ کیسے قہوہ دانی کو بائیں ہاتھ میں پکڑ کر دائیں ہاتھ میں موجود کپ میں قہوہ کیسے ڈالا جاتا ہے اور پھر محفل میں دائیں طرف سے بیٹھے مہمان سے خدمت کا آغاز کیسے کرنا ہے۔ یہ تمام چیزیں ہمارے ورثے میں شامل خوبصورت آداب ہیں۔ ہمیں یہ روایات ورثے کی صورت میں ملی ہیں اور یہ آج تک جاری ہیں۔‘
کئی سیاح مختلف قسم کے تجربات دماغ میں لے کر آتے ہیں۔ کئی پوچھتے ہیں کہ سعودی کافی کیسے تیار کی جاتی ہے اور کئی کبسہ جیسی روایتی ڈش کو پکانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

البلود کہتی ہیں کہ ثقافتوں کے تبادلے کے حوالے سے ان کے شوق کا آغاز امریکہ میں رہنے والے برسوں کے دوران ہوا۔
انہیں اب بھی یونیورسٹی پہنچ کر اورینٹیشن سیشن لینے کے بارے میں یاد ہے جہاں بین الاقوامی طلبہ کو امریکی روایات اور ثقافتوں سے روشناس کروایا جاتا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’امریکہ میں ہمیں اُن کی ہر ممکنہ ثقافت کے بارے میں بتایا گیا۔ ہماری ثقافت وہاں کے مقابلے میں زیادہ گہری، مالا مال اور خوبصورت ہے لہذا ہمیں اپنی ثقافت سے غیر ملکیوں کو روشناس کروانا چاہیے۔‘
یہ تبادلے دو طرفہ ہوتے ہیں۔ یورپی ملک کوسووو سے آنے والی ایک مہمان سے پہلی ملاقات کے بعد اُن کا کئی برسوں سے رابطہ جاری ہے اور وہ اپنی والدہ کے کھانا پکانے کی ویڈیو اور وہاں کی روزمرہ کی زندگی کی جھلکیاں شیئر کرتی ہے۔
البلود کہتی ہیں کہ ’انہوں نے میرے ساتھ وہ تمام تجربات شیئر کرنا شروع کیے جو میں نے ان کے ساتھ شیئر کیے۔ یہ ایک مشترکہ زبان بن گئی۔ یہ گفتگو کئی مرتبہ دونوں ثقافتوں کے درمیان مشترکہ مماثلت بھی پیدا کر دیتی ہے۔ کبھی کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے دوسرے ممالک میں بھی ہماری روایات پائی جاتی ہیں۔‘

جیسے جیسے سعودی عرب بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے، وہیں البلود سمجھتی ہیں کہ ذاتی ملاقاتیں مملکت کے زاویے کو بہترین انداز میں سمجھنے کے لیے مدد فراہم کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ سیاحوں کا جیسے استقبال ہوتا ہے وہ ہمیشہ اس بات پر حیران ہو جاتے ہیں۔ وہ سعودی عرب میں ملنے والی سخاوت سے متاثر ہوتے ہیں۔
وہ سمجھتی ہیں کہ سیاحت نے پہلے سے ہی دماغ میں نقوش خیالات سے باہر سوچنے پر مجبور کیا ہے اور ذاتی سطح پر سعودی عوام سے ملنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں سیاحت سے سعودی عرب اور سعودی شہریوں کے حوالے سے نقطۂ نظر میں تبدیلی آئی ہے۔ ان ذاتی ملاقاتوں سے سیاحوں کو ہمارے لوگوں اور ہمارے ورثے کا علم ہوتا ہے۔‘
وہ سمجھتی ہیں کہ وژن 2030 نے سعودی شہریوں کو بھی اپنی روایات کے ساتھ دوبارہ جڑنے کی ترغیب دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس نے ہماری ثقافت کے حوالے سے مزید توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے کئی سعودی شہری اس بات کو سمجھ سکے کہ ورثے کو پیش کرنا ایک ذمہ داری ہے۔‘











