Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ثقافت کی طاقت :عسیر میں ورثے کے دیہاتوں میں اب شاعری، لوک فنکاری اور دستکاری

جسے کبھی ماضی کے فنِ تعیمر کی وجہ سے قابلِ قدر سمجھا جاتا تھا، آج عسیر کے دیہات کا وہی ورثہ زندگی سے بھرپور ایک ثقافتی اور سیاحتی منزل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں اب سیمینار منعقد ہوتے ہیں، شاعری کی محفلیں سجتی ہیں، لوک فنکار، اپنے فن سے حاضرین کے دل جیتتے ہیں اور زندگی   کی یہ رعنائیاں روایتی دستکاری کی نمائشوں کے ساتھ مل کر نہ صرف قومی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہتی ہیں۔
یہ بڑی تبدیلی، ورثے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ایک اظہار اور پائیدار ترقی کا محرک ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی وژن 2030 کے مقاصد کو آگے بڑھانا کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
بات اگر ورثے کے دیہات کی ہو تو عسیر مملکت کا وہ علاقہ ہے جہاں یہ میراث بھرپور فراوانی کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ عسیر کے گورنریٹس ہی میں ورثے سے مزیّن دیہاتوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ دیہات سعودی عرب کے پہاڑی فنِ تعمیر کی منفرد مثال بن کر سامنے آتے ہیں۔
ان دیہات کی بحالی اُن قومی کوششوں میں شامل ہیں جن کی مدد سے مملکت میں سنہ  2025 تک  شہری ورثے کے 50000 مقامات کو رجسٹر کیا گیا اور اُن کی درجہ بندی کی گئی۔ اِس سے پہلے ہیریٹج کمیشن نے ایسی سائٹس کی فہرست میں سال بھر میں تقریباً 25000 کے قریب ورثے کی نئی سائٹس کا اضافہ کیا تھا۔
یہ کامیابی مملکت کے اُسے بڑھتے ہوئے عزم کو ظاہر کرتی ہے جس کے تحت سعودی تعمیری ورثے کو محفوظ کرنا ہے اور اُسے ثقافتی اور سیاحت کے اثاثے کے طور پر فروغ دینا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کنگ خالد یونیورسٹی کے فیکیلٹی ممبر ڈاکٹر محمد العمری نے بتایا کہ ورثے کے دیہات فطری طور پر ثقافت کا حصہ ہیں چنانچہ یہ اُن ثقافتی تقاریب کے لیے مثالی جگہ بن سکتے ہیں جو مقام اور مواد کے مابین یگانہ بے مثال اتحاد پیدا کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سیمینار کی میزبانی اور فکری سرگرمیوں کا ورثے کے دیہات میں انعقاد، ایسے ایونٹس کو ایک مخصوص جہت بخشتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی سائٹس میں اُن کے فنِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ثقافتی قدر بھی پائی جاتی ہے۔

العمری نے بتایا کہ دیہات کی وراثت کی اصل قدر محض اُن کی فنی خوبصورتی اور تاریخی دستکاری سے آراستہ عمارتوں ہی میں نہیں ہوتی بلکہ ایونٹس بھی متنوع ثقافتی پروگراموں کے ذریعے اِن میں جان ڈال دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ثقافت، لیکچروں اور سیمناروں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہے اور اُن روایتی فنوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے جن میں العرضہ اور خطوہ جیسے قبائلی اور لوک رقص، شاعری کی شامیں، موسیقی، روایتی ہنر اور کمیونٹی کی شناخت کے اظہار کے طریقے بھی شامل ہیں۔

العمری کے مطابق دیہات ’جسم‘ کی مانند ہے جو ثقافتی پروگراموں کو قدرتی ماحول فراہم کرتا ہے جبکہ پروگرام اِن تاریخ مقامات کی ’روح‘ ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا ثقافتی سرگرمیوں کا تسلسل نوجوان نسلوں کو اُن کی قومی شناخت سے متعارف کراتا ہے اور کتابوں اور تعلیمی اداروں کی نصاب کے بجائے، براہِ راست تجرے کے ذریعے لوک ورثے سے اُن کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ورثے کے دیہات میں سرمایہ کاری، سیاحتی سیزن سے آگے تک جانی چاہیے تاکہ یہ سال بھر کے ثقافتی اور ترقی کے منصوبوں میں تبدیل ہو جائیں۔ انھوں نے سعودی مہمان نوازی، لوک آرٹس، روایتی پکوانوں اور دستکاری کے تربیتی پروگراموں  کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ گھریلو دستکاری اور چھوٹے پیمانے پر مصنوعات تیار کرنے والے خاندانوں کا آگے آنا ضروری ہے۔
اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اِس سے وہ اپنی پروڈکٹس کو مارکیٹ میں لا کر انھیں فروخت کرنے کے قابل ہو سکیں گے اور یہ سرگرمیاں، ورثے کے دیہات کو معاشی، سماجی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کر دیں گی۔

حالیہ برسوں میں عسیر کے ورثے کے دیہاتوں میں سیاحتی اور ثقافتی سیزنوں کے دوران مختلف ایونٹس کے انعقاد میں تیزی آ ئی ہے جس نے یہاں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
یہ مقامات اب اُن منازل کی رُوپ دھار چکے ہیں جو سیاحت اور ثقافت کی زرخیزی کو آپس میں جوڑ دیتے ہیں اور اُن سے پتہ چلتا ہے کہ طرزِ تعمیر کا ورثہ معاشی اور ثقافتی دونوں طرح کے وسائل فراہم کر سکتا ہے۔

شیئر: