پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تیز بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہنے سے 22 اموات، متعدد افراد زخمی
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تیز بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہنے سے 22 اموات، متعدد افراد زخمی
بدھ 22 جولائی 2026 9:33
پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق 19 جولائی سے اب تک صوبے میں تیز بارشوں اور دیگر واقعات میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں موسلا دھار بارشوں اور آندھی سے مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات کے باعث متعدد افراد جان سے گئے اور زخمی ہوگئے، جبکہ متعلقہ اداروں نے امدادی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں بارش اور آندھی کے نتیجے میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے 8 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 37 افراد زخمی ہوئے۔
گوجرانوالہ میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے کے آٹھ مختلف واقعات میں 3 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ بارش اور کرنٹ لگنے کے تین مختلف حادثات میں ایک شخص کی موت ہوئی اور دو زخمی ہوئے۔ کامونکی میں انڈر پاس میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک بچہ جان کی بازی ہار گیا۔
پاکپتن میں کچے مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد جان سے گئے اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ ساہیوال کے علاقے کوٹ خادم علی شاہ میں چھت گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوگئی۔ ہڑپہ میں دکان کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔ لاہور کے علاقے بند روڈ گلشن راوی کے قریب چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، منڈی بہاؤالدین میں مختلف دیہاتوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 افراد زخمی ہوئے، بہاولنگر میں شیڈ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ سیالکوٹ میں چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔ مری اور کہوٹہ میں جزوی لینڈ سلائیڈنگ اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق 19 جولائی سے اب تک صوبے میں تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے واقعات میں 14 افراد ہلاک جبکہ 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مرنے والے افراد میں 6 مرد، 6 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پی ڈی ایم اے کے مطابق مرنے والے افراد میں 6 مرد، 6 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔ بارشوں اور فلش فلڈ سے مجموعی طور پر 28 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 22 گھروں کو جزوی جبکہ 6 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال، لوئر و اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک فوری امدادی سامان پہنچانے، امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور عوام کو بروقت معاونت فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبے کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے، تاہم 23 جولائی تک وقفے وقفے سے مزید تیز بارشوں کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس اور پہاڑی سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔