Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں سماجی تبدیلی کا سفر جاری

جیسے ہی مملکت وژن 2030 کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، تمام تر توجہ اس رفتار کو برقرار رکھنے اور مزید گہرا کرنے پر ہوگی (فوٹو: ایس پی اے)
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں اپریل 2016 میں شروع ہونے والے وژن 2030 نے سعودی عرب میں ایک تاریخی انقلابی دہائی کی بنیاد رکھی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وسیع پیمانے پر کیے گئے ساختی، معاشی، مالیاتی اور سماجی اصلاحات کی بدولت سعودی عرب اپنی پرعزم حکمتِ عملیوں اور میگا منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ مملکت اہم شعبوں میں مواقع سے بھرپور استفادہ، معاشی تبدیلی کے عمل کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی فورمز پر اپنے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرنے کی جانب مسلسل پیش رفت کر رہی ہے۔
جب سعودی عرب نے 2016 میں وژن 2030 کا آغاز کیا تھا تو دنیا کی زیادہ تر توجہ معاشی تنوع اور تاریخی ترقیاتی منصوبوں کے پرعزم پلانز پر مرکوز تھی۔ تاہم تقریباً ایک دہائی بعد سعودی عرب میں رونما ہونے والی سماجی تبدیلی بھی اتنی ہی اہم ثابت ہوئی ہے۔
سعودی وژن 2030 کے ایک متحرک ستون پر استوار یہ تبدیلی سعودی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو نئی شکل دے رہی ہے۔
وژن 2030 کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ اس بڑی تبدیلی کے وسیع دائرہ کار کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں بہتر معیارِ زندگی، روزگار میں ریکارڈ شمولیت، ذاتی گھروں کی ملکیت میں اضافہ، کھیل اور ثقافت کے پھلتے پھولتے شعبے اور سماجی ترقی کے کھلے راستوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ تمام کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وژن 2030 نہ صرف ایک نئی معیشت کو تشکیل دے رہا ہے بلکہ ایک نیا معاشرہ بھی تعمیر کر رہا ہے۔
وژن 2030 پیش کرتے ہوئے ولی عہد نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اس ملک کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے پرعزم نوجوان ہیں جو قوم کا فخر اور اس کے مستقبل کی بنیاد ہے۔
اسی وژن کے تحت سب سے بڑی سرمایہ کاری سعودی شہریوں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے جہاں انہیں تربیت اور مہارتوں کی ترقی کے ذریعے عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
عزم سے نتائج تک: 2025 میں سعودی تبدیلی کا سفر
وژن 2030 نے روزگار اور انسانی ترقی جیسے شعبوں میں سعودی عرب کی تبدیلی کو تیزی سے آگے بڑھایا ہے اور تازہ ترین سالانہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے اشاریے اپنے اصل اہداف تک پہنچ چکے ہیں یا ان سے بھی آگے نکل گئے ہیں اور کئی اہداف تو مقررہ وقت سے بہت پہلے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں لیبر مارکیٹ میں ترقی سب سے زیادہ نظر آ رہی ہے۔ آج نجی شعبے میں 26 لاکھ سعودی کام کر رہے ہیں جبکہ 2020 یہ تعداد 17 لاکھ تھی۔ یہ پیشرفت سعودائزیشن، قومی افرادی قوت کی مہارتوں میں اضافے اور نجی شعبے میں کیریئر کو زیادہ پُرکشش بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ملک میں بے روزگاری کی شرح 2016 کے 12.3 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ ایک اہم سنگِ میل ہے جو روزگار کے خاص پروگراموں، لیبر مارکیٹ کی اصلاحات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کی بھرپور معاونت سے حاصل ہوا ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے خود روزگار کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں جو اس وقت 88 لاکھ 80 ہزار افراد کو ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں اور 2025 کے 75 لاکھ 50 ہزار کے ہدف کو پار کر چکے ہیں۔
یہ تبدیلی سعودی خواتین کے لیے خاص طور پر بہت نمایاں رہی ہے۔ ورک فورس میں خواتین کی شرکت 35 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو 2030 کے طے شدہ 40 فیصد ہدف کے بہت قریب ہے اور 22.8 فیصد ابتدائی شرح سے زبردست اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ ترقی دانشمندانہ پالیسی کے اختیارات کا نیتجہ ہے جس میں چائلڈ کیئر سپورٹ، کام کے اوقات کار کو لچکدار بنانا، ٹرانسپورٹیشن میں اصلاحات اور ایسے اقدامات جنہوں نے پہلی بار تمام شعبے خواتین کے لیے کھول دیے ہیں۔
خواتین نہ صرف بڑی تعداد میں ورک فورس میں شامل ہو رہی ہیں بلکہ وہ قیادت بھی کر رہی ہیں۔ اس وقت درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں میں 43.9 فیصد پر خواتین کام کر رہی ہیں۔

شمولیت کا یہ دائرہ مزید وسیع ہوا ہے۔ کام کرنے کے اہل معذور افراد کی ملازمت کی شرح 14.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 2025 کے 13.4 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ اس کام میں دفاتر میں معذور افراد کے لیے سہولیات اور مالکان کو دی جانے والی مراعات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کامیابیوں کی جھلک انسانی ترقی کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں ہے۔ سعودی عرب کا ہیومن ڈیویلپمنٹ اینڈکس سکور بڑھ کر 0.900 ہوگیا ہے جو 2025 کے 0.884 کے ہدف سے زیادہ ہے اور مملکت کو دنیا کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل کرتا ہے۔
اسی طرح سماجی شمولیت بھی پھل پھول رہی ہے۔ اس وقت پورے ملک میں 17 لاکھ 49 ہزار رضاکار متحرک ہیں جو 2030 کے 10 لاکھ رضاکاروں کے ہدف کو پانچ سال پہلے ہی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
کارپوریٹ سوشل ریسپونسبلٹی کے پروگرام پیش کرنے والی بڑی کمپنیوں کا تناسب 2018 کے 30 فیصد سے نمایاں طور پر بڑھ کر 2025 میں 76.83 فیصد ہو گیا ہے جو 75 فیصد کے ہدف کو عبور کر گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی جی ڈی پی میں نان پرافٹ شعبے کا حصہ 2024 میں 0.2 فیصد سے بڑھ کر 1.4 فیصد ہو گیا ہے جسے جاری اصلاحات کی مدد حاصل ہے تاکہ 2030 تک اسے پانچ فیصد تک پہنچایا جا سکے۔

کل ورک فورس میں اس شعبے کا حصہ بھی 2017 کے 0.13 فیصد سے بڑھ کر 2024 کے آخر تک 0.8 فیصد ہو گیا ہے جس سے یہ پیمانہ مسلسل دو برسوں تک اپنے عبوری اہداف سے آگے نکلنے کی راہ پر گامزن ہے۔
سعودی وژن 2030 معاشرے میں نئے مواقع کی راہیں کھول رہا ہے
وژن 2030 نے سعودی معاشرے پر مختلف طریقوں سے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جن میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع، گھروں کی ملکیت کی شرح میں اضافہ اور سعودی عوام کی صحت کو اولیت دینا شامل ہیں۔
نوجوانوں اور مستقبل کی مہارتوں میں سرمایہ کاری
سعودی وژن 2030 کے سماجی ایجنڈے میں نوجوان سعودی شہریوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تعلیم کے وسیع مواقع، فنی تربیت، انٹرن شپ پروگرامز، کاروباری منصوبوں اور کیریئر کے مواقع کے ذریعے مملکت اپنے نوجوانوں کو مستقبل کی صنعتوں کے لیے تیار کر رہی ہے، جن میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی اور سیاحت و مہمان نوازی کے شعبے شامل ہیں۔
ان نتائج کو اعداد و شمار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آج فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے والے 47.41 فیصد گریجوایٹس اپنی تعلیم مکمل کرنے کے چھ ماہ کے اندر ملازمت حاصل کر لیتے ہیں جو ابتدائی 13.9 فیصد کے مقابلے میں ایک شاندار کامیابی ہے اور 2030 کے لیے طے شدہ 65 فیصد کے ہدف کی طرف اہم پیش رفت ہے۔
تعلیمی اداروں اور صںعت کے درمیان تعاون بھی گہرا ہوا ہے جہاں ’مائیکرو ایکس‘ اقدام کے ذریعے مالکان کے ساتھ مل کر 90 سے زیادہ یونیورسٹی پارٹنرشپ پروگرام تیار کیے گئے ہیں تاکہ گریجوایٹس ایسی مہارتوں کے ساتھ نکلیں جن کی لیبر مارکیٹ کو حقیقی معنوں میں ضرورت ہو۔ نئے مواقع بھی مسلسل پیدا ہو رہے ہیں جن میں حال ہی میں شروع کیا گیا میڈیا سکالرشپ پروگرام شامل ہے جو نوجوان سعودیوں کو مملکت کے تیزی سے ترقی کرتے میڈیا اور تخلیقی شعبوں میں کیریئر کے لیے تیار کر رہا ہے۔

گھر کی ملکیت میں اضافہ
رہائش کا شعبہ سماجی تبدیلی کا ایک اور اہم ستون رہا ہے۔ ہاؤسنگ پروگرام کے ذریعے، وژن 2030 نے گھروں کی مالکیت میں اضافے کو قومی ترجیح بنایا ہے، جس کے تحت مالیاتی اختیارات کو آسان بنایا گیا، مکانات کی فراہمی کو بڑھایا گیا اور پہلی بار گھر خریدنے والوں کی مدد کی گئی۔ گھروں کی مالکیت کی شرح اب 66.24 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو 2025 کے لیے طے شدہ 65 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے اور مزید سعودی خاندانوں کو ان کے اپنے گھروں کا استحکام اور تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
صحت مند زندگی اور بلند معیارِ زندگی
صحت کے شعبے میں ہونے والی ترقی بھی روزگار اور رہائش کی طرح غیر معمولی رہی ہے اور معیار زندگی قومی ترقی کا بنیادی جزو بن چکا ہے۔
اوسط عمر 2024 میں 79.7 سال تک پہنچ گئی ہے جو 2030 کے 80 سال کے ہدف کے بالکل قریب ہے۔ اس کے علاوہ آبادی کے 97.5 فیصد حصوں کو اب طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہے جو 2025 کے 97 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ ہیلتھ کیئر ورک فورس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جہاں 2025 میں فی ایک لاکھ آبادی پر 863.4 نرسیں موجود ہیں جبکہ 2019 میں یہ تعداد 581.6 تھی۔
بیماریوں سے بچاؤ کے نتائج بھی اتنے ہی متاثر کن ہیں۔ متعدی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔ دائمی بیماریوں سے اموات میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جو اقوام متحدہ کے اہداف سے آگے ہے اور کینسر کے 70 فیصد کیسز کی تشخیص اب ابتدائی مراحل میں ہی ہو جاتی ہے جب علاج سب سے زیادہ موثر ہوتا ہے۔
وژن 2030 نے تفریحی سہولیات، کھیلوں کے پروگراموں، پارکوں اور عوامی مقامات تک رسائی میں زبردست اضافہ کر کے صحت مند طرزِ زندگی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے نسل در نسل عادتیں بدل رہی ہیں۔ 59.1 فیصد بالغ افراد اب ہفتے میں کم از کم 150 منٹ جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جو 2025 کے 55 فیصد ہدف سے زیادہ ہے جبکہ 19 فیصد نوجوان روزانہ کم از کم 60 منٹ ورزش کرتے ہیں جو 2025 کے 12 فیصد ہدف سے کافی زیادہ ہے۔

سعودی وژن 2030 کے تحت سماجی تبدیلیوں کی زبردست رفتار
سعودی عرب میں وژن 2030 کے تحت معاشرے میں کئی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان میں تاریخی اور ثقافتی تقریبات پر زیادہ توجہ، کھیلوں کے شعبے میں نئے مواقع کی توسیع اور تفریحی سرگرمیوں میں اضافہ شامل ہے۔
کھیل: صحت اور رابطوں کا ذریعہ
کھیلوں کے مقابلے پورے ملک میں صحت اور کمیونٹی کی شمولیت کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ سعودی پرو لیگ نے عالمی ستاروں اور بین الاقوامی شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ بین الاقوامی مقابلے، جیسے فارمولا ون سعودی عریبین گراں پری نے مملکت کو عالمی کھیلوں کے کیلنڈر پر ایک نمایاں مقام دیا ہے جس میں فیفا ورلڈ کپ 2034 اس سفر کا سب سے بڑا تاج ثابت ہوگا۔
ریاض نے 2025 میں دوسرے ای اسپورٹس ورلڈ کپ کی میزبانی کی جہاں ٹکٹوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ 30 لاکھ سے زائد شائقین نے اس میں شرکت کی جس نے دارالحکومت کی حیثیت کو گیمنگ کے عالمی مرکز کے طور پر مضبوط کیا۔ 
شہر نے پہلے سپورٹس بلیواڈ کے مقامات کی افتتاح کا جشن بھی منایا جو ایک تاریخی شہری منصوبے کا پہلا سال تھا۔ اس منصوبے کا مقصد کھیل، صحت اور عوامی سرگرمیوں کو ریاض کی شہری زندگی کا حصہ بنانا ہے۔
سعودی عرب میں کھیلوں کی جڑیں تیزی سے مضبوطی پکڑ رہی ہیں۔ مختلف کھیل پیش کرنے والے سپورٹس کلبوں کی تعداد 2025 میں 12 کھیلوں کے لیے 133 کلبوں تک پہنچ گئی ہے جبکہ 2019 میں 10 کھیلوں کے لیے صرف 9 کلب تھے۔ ان کلبوں میں اب 11ہزار 100 فل ٹائم ملازمین کام کر رہے ہیں جبکہ 2019 میں یہ تعداد صفر تھی۔ عام لوگوں کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا۔ ریاض میراتھون میں 15 ہزار خواتین نے دوڑ میں حصہ لیا جبکہ پہلے یہ تعداد صرف 35 سو تھی جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ کمیونٹی سپورٹس کتنا آگے نکل چکا ہے۔

تفریحی اور ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ
کھیلوں کے ساتھ ساتھ تفریحی اور ثقافتی زندگی بھی پروان چڑھی ہے۔ جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کی سرپرستی میں پورے ملک میں فیسٹیول، تھیٹر، کنسرٹ، سنیما، ثقافتی ادارے اور تخلیقی صنعتیں کئی گنا ہو چکی ہیں۔ سال 2025 میں ’سکس فلیگز قدیہ سٹی‘ کا افتتاح ہوا جو خطے کا سب سے بڑا واٹر تھیم پارک ہے اور جیکس فلم سٹوڈیوز کا اعلان کیا گیا جو مملکت کی بڑھتی ہوئی فلمی صنعت میں ایک بڑی سرمایہ کاری ہے۔
سعودی عرب کا دنیا کے لیے کھلنے کا سفر جاری ہے۔ سیاحتی ای ویزا نے آمد کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے، جس سے لاکھوں سیاحوں کو بذاتِ خود مملکت کا تجربہ کرنے کی ترغیب ملی ہے۔ یہاں کے کھانے پینے کے ماحول کو بین الاقوامی پذیرائی مل رہی ہے اور اب 17 ریستوران ’مچلن گائیڈ‘ میں شامل کیے جا چکے ہیں۔
جدیدیت کے ساتھ ثقافتی ورثے کا تحفظ
جدت پسندی کے باوجود وژن 2030 سعودی عرب کے ثقافتی ورثے، روایات اور اسلامی اقدار کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ سعودی عرب کے آٹھ مقامات عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں درج ہو چکے ہیں جس سے 2030 کا ہدف پہلے ہی پورا ہو گیا ہے۔ اس کا سہرا کچھ حد تک ان عظیم منصوبوں میں شامل ورثے کی حفاظت کی کوششوں کو جاتا ہے جیسے کہ العلا کا منصوبہ وغیرہ۔
اسلامی دنیا کے مرکز کے طور پر مملکت کا کردار مزید گہرا ہوا ہے۔ 2025 میں بیرون ملک سے ایک کروڑ 80 لاکھ 30 ہزار عمرہ زائرین آئے جو 2025 کے ایک کروڑ 50 لاکھ کے ہدف سے زیادہ ہے جبکہ مکہ روٹ انیشیٹیو نے 12 لاکھ حجاج کو خدمات فراہم کیں جو 2017 کے صرف 1600 کے مقابلے میں ایک غیر معمولی اضافہ ہے۔

اسلامی تاریخی اور ثقافتی مقامات کی تعداد 2025 میں بڑھ کر 18 ہو گئی ہے جو 2017 میں صرف پانچ تھی۔ یہ اقدامات مملکت کے روحانی اور تاریخی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مستقبل کی جانب: سماجی تبدیلی کا اگلا مرحلہ
سعودی وژن 2030 کے تحت ہونے والی سماجی ترقی میں روزگار کے مواقع میں اضافہ، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا، گھر کی ملکیت میں بہتری، صحت مند زندگی اور کھیلوں و ثقافت کے شعبوں میں ترقی شامل ہے۔ یہ تبدیلیاں جدید دور کی بڑی سماجی تبدیلیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
مملکت وژن 2030 کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں توجہ اس رفتار کو برقرار رکھنے اور مزید آگے بڑھانے پر مرکوز ہوگی۔ اس کا مقصد مواقع میں اضافہ، معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر شہری اور مقیم فرد مملکت کی ترقی میں اپنا حصہ حاصل کرے۔
آخرکار سعودی وژن 2030 کی کامیابی صرف معاشی تنوع اور بڑے اعداد و شمار سے نہیں بلکہ سعودی شہریوں اور مقیم افراد کی روزمرہ زندگی میں آنے والی بہتری اور دستیاب مواقع سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
یہ کامیابی ان کے روزگار، اپنے گھروں کی ملکیت، بہتر صحت اور ایک متحرک معاشرے کی تعمیر میں ان کے کردار سے بھی نظر آتی ہے۔
 

 

شیئر: