Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈین ریاست سِکم میں سُرنگ گرنے سے 20 مزدور ہلاک، نعشوں کو نکالنے میں مشکلات

نازک ہمالیائی علاقوں میں حد سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں نے ایسے سانحات کی تعداد میں اضافہ کیا ہے (فوٹو: اے پی)
انڈین ریاست سکم کے حکام نے بدھ کو بتایا ہے کہ انڈیا کے دُوردراز شمال مشرق میں زیرِِ تعمیر ایک ہائیڈروالیکٹرک منصوبے کی سُرنگ کے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم سے کم 20 ہو گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ پیر کو ہمالیائی ریاست سِکم کے ضلع نامچی میں پیش آیا، جہاں مزدور دریائے تیستا پر قائم سرکاری ہائیڈروپاور منصوبے کے لیے ایک سُرنگ تعمیر کر رہے تھے۔
سِکم سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر راجیو روکا نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’25 افراد ملبے تلے پھنس گئے تھے جن میں سے اب تک 13 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ریسکیو اہلکاروں نے اندر مزید سات سے آٹھ لاشیں دیکھی ہیں لیکن تاحال انہیں نکالا نہیں جا سکا۔‘
حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر پانی بھر جانے اور زیرِ زمین چٹانوں سے میتھین گیس کے اخراج نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
راجیو روکا نے کہا ہے کہ ’سرنگ میں قریباً ڈھائی فٹ تک پانی جمع ہے جس کی وجہ سے لاشوں کو نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسا نہیں لگتا کہ کوئی زندہ بچا ہوگا۔‘
گزشتہ چند دنوں کے دوران اس علاقے میں شدید مون سون بارشیں بھی ہوئی ہیں۔
نیشنل ہائیڈروالیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حادثہ ’چٹانوں میں پھنسی یا جذب شدہ میتھین گیس کے اچانک اور دھماکہ خیز اخراج کے باعث پیش آیا، جس سے گھنا دھواں اور زہریلی گیسیں پیدا ہوئیں۔‘
کمپنی نے مزید کہا کہ ’واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔‘
انڈیا میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے تعمیراتی مقامات پر ایسے حادثات عام ہیں، تاہم ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نازک ہمالیائی علاقوں میں حد سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں نے ایسے سانحات کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
سال 2023 میں شمالی ریاست اتراکھنڈ میں ایک سرنگ گرنے کے بعد 41 مزدوروں کو 17 دن بعد بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

شیئر: