Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں بڑا اضافہ: کیا اب عام آدمی کے لیے گاڑی خریدنا آسان ہے؟

پاکستان میں مالی سال 2026-2025 کے دوران ایک لاکھ 55 ہزار 631 گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
پاکستان میں مالی سال 2026-2025 کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں گاڑیوں کی فروخت 39 فیصد بڑھ کر ایک لاکھ 55 ہزار 631 یونٹس تک پہنچ گئی۔ 
اسی عرصے میں جیپ اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت میں 41 فیصد، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں 67 فیصد جبکہ رکشوں کی فروخت میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مجموعی فروخت بھی 30 فیصد اضافے کے ساتھ 19 لاکھ 72 ہزار 77 یونٹس تک جا پہنچی۔
ماہرین کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ شرح سُود میں کمی، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں نرمی اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے نئی گاڑیوں کے ماڈلز متعارف کرانا شامل ہے۔ 
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عام پاکستانی کے لیے گاڑی خریدنا واقعی آسان ہو گیا ہے، یا پھر یہ سہولت اب بھی محدود طبقے کو ہی دستیاب ہے؟
گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ درآمدی پابندیوں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی، خام مال کی قِلت اور پیداوار میں رکاوٹوں کے باعث کئی آٹو پلانٹس جُزوی یا مکمل طور پر بند رہے۔
ان مسائل کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم اب صورتِ حال میں نسبتاً بہتری آنے کے بعد نہ صرف پیداوار بڑھی ہے بلکہ فروخت میں بھی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم مارکیٹ میں فروخت ہونے والی تمام گاڑیاں ہر طبقے کی پہنچ میں نہیں ہیں۔ قیمتوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو چھوٹی گاڑیاں اب بھی متوسط طبقے کی پہلی ترجیح سمجھی جاتی ہیں۔ 
ان میں سوزوکی آلٹو سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں میں شامل ہے، جس کی مختلف ویریئنٹس کی قیمت قریباً 30 سے 34 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ 
اسی طرح سوزوکی کلٹس کی قیمت قریباً 42 سے 46 لاکھ روپے جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی قیمت 47 سے 56 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
دوسری جانب ٹویوٹا یارس کی قیمت قریباً 45 لاکھ روپے سے شروع ہو کر 61 لاکھ روپے تک جاتی ہے، جبکہ ہونڈا سٹی اور ہونڈا سوک کی قیمتیں بالترتیب قریباً 47 لاکھ اور 96 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ 
اس کے علاوہ سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (SUVs) اور کراس اوور گاڑیوں کی قیمتیں ایک کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہیں، جس کے باعث یہ گاڑیاں عام خریدار کی پہنچ سے باہر سمجھی جاتی ہیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے کار ڈیلر حارث قاسم کا کہنا ہے کہ اگرچہ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم مارکیٹ میں سب سے زیادہ طلب اب بھی نسبتاً کم قیمت گاڑیوں کی ہے۔ 
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حارث قاسم نے کہا کہ سب سے زیادہ انکوائری اور خریداری آج بھی سوزوکی آلٹو کی ہو رہی ہے کیونکہ یہ نسبتاً کم قیمت ہے۔

 قیمتوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو چھوٹی گاڑیاں اب بھی متوسط طبقے کی پہلی ترجیح سمجھی جاتی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ’اس کی فیول ایوریج بھی کم ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی دوسری گاڑیوں کے مقابلے میں سستی ہے۔ اس کے بعد ٹویوٹا یارس اور ہونڈا سٹی کی طلب دیکھی جا رہی ہے، لیکن اُن کی قیمتیں بہت سے خریداروں کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں۔‘
حارث قاسم کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں نرمی ہونے سے ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو قسطوں پر گاڑیاں خرید رہے ہیں۔ 
’پہلے کئی ماہ تک فنانسنگ قریباً نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن اب جب بینکوں نے قرض فراہمی کو آسان کیا ہے تو مارکیٹ میں خریدار واپس آرہے ہیں۔‘
حارث قاسم کہتے ہیں کہ ’اس کے باوجود نقد رقم سے گاڑی خریدنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہوئی، خاص طور پر استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں۔‘
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ خوش آئند ضرور ہے، لیکن اسے عام آدمی کی معاشی خوش حالی کی علامت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ 
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ پاکستان میں آج بھی بڑی تعداد میں لوگ نئی گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جو فروخت میں بڑھ رہی ہے اس میں بینک فنانسنگ، کاروباری طبقے اور ایسے صارفین کا اہم کردار ہے جن کی آمدنی نسبتاً بہتر ہوئی ہے۔ متوسط طبقے کے لیے اب بھی سب سے موزوں انتخاب چھوٹی گاڑیاں ہی ہیں۔‘

 ماہرین کے مطابق ’گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کی بڑی وجہ شرحِ سوُد میں کمی اور آٹو فنانسنگ میں نرمی ہے‘ (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

ایچ ایم شہزاد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ٹیکسوں میں مزید کمی کرے، درآمدی پالیسی کو آسان رکھے تو نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید استحکام آسکتا ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی نئی گاڑی خریدنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ملک میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ذاتی آمدورفت کے لیے دو پہیوں والی سواری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ 
ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز (APMA) کے رہنما محمد صابر شیخ کا کہنا ہے کہ نئی گاڑیوں کی زیادہ قیمتوں کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے موٹر سائیکل ہی سب سے قابل استطاعت ذریعہ آمدورفت ہے۔
ان کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ ’شہری علاقوں میں رکشوں کی فروخت میں اضافہ بھی روزگار کے مواقع سے جُڑا ہوا رُجحان سمجھا جا رہا ہے۔‘
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق اگر آنے والے مہینوں میں شرح سُود میں مزید کمی، روپے کی قدر میں استحکام اور آٹو فنانسنگ کی سہولیات برقرار رہتی ہیں تو گاڑیوں کی فروخت میں موجودہ رفتار جاری رہ سکتی ہے۔ 
تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں واقعی عام شہری کی پہنچ میں آسکیں گی، یا پھر نئی گاڑی خریدنا بدستور متوسط طبقے کے لیے ایک خواب ہی رہے گا۔

شیئر: