متحدہ عرب امارات کی سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بیانات کی مذمت
یو اے ای نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف دیے گئے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف دیے گئے بیانات، جن میں بحری ناکہ بندی کی دھمکی بھی شامل ہے، کی شدید مذمت کی ہے۔
اماراتی وزارتِ خارجہ نے بدھ کی صبح جاری کیے گئے بیان میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ یمن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادی سے متعلق قرارداد 2722 پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ جہاز رانی بین الاقوامی قانون اور 1982 کے اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے تحت ایک تسلیم شدہ حق ہے۔
وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امارات مملکت کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔
دوسری جانب سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے منگل کو سپین، اٹلی اور جرمنی کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کی دھمکیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز حوثیوں کے ایک فوجی ترجمان کے اس دعوے کی مذمت کی تھی کہ گروپ نے سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ہے۔ وزارت نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن کو خطے کے وسیع تر تنازع میں گھسیٹ رہے ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کر یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے، یمنی حکومت کے بجٹ کی معاونت کر رہا ہے اور بجلی گھروں کو چلانے کے لیے ایندھن بھی فراہم کر رہا ہے۔